خواجہ آصف کی تصویر سے رنگون تک

جاوید چوہدری {فقرہ مکمل کرتے ہیں اور قہقہہ لگاتے ہیں } ”تسی قادیانی تے نئیں ہو۔ “
خواجہ آصف : ”میں نے یہ کہا انہیں۔ میں نے کہا یار تسی قادیانی تے نئیں ہو۔ میرے پاس گواہ بھی موجود ہیں۔ ابصار عالم بھی تھے“۔
رنگون، وشال بھردواج کی ایک خوبصورت تخلیق ہے۔ جنگ عظیم دوم کے پس منظر میں، آزاد ہند فوج کی ایک کہانی پہ مبنی، اس فلم میں کنگنا رناوت کا ایک مکلمہ اور دو لفظ، فلم کا حاصل ہیں۔ پہلا تو یوں کہ جب آزاد ہند فوج کے لئے کام کرنے والی نرس، میما، کو برطانوی جرنیل ہارڈنگ، غداری کے جرم میں گولی مار دیتا ہے تو میما کا بیٹا، کھانا پینا ترک کر دیتا ہے۔ کئی گھنٹے گزر جاتے ہیں۔ کچھ نرم دل لوگ بچے کو کھانا کھلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر بچہ بار بار ماں کو پکارتا ہے۔ آدرش پہ جان لینے اور جان دینے سے پرے، رشتوں کی کہانی میں درد کے سوال اٹھتے ہیں۔ موقع پہ موجود لوگ نطریے اور آزادی پہ بحث کرتے کرتے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں۔
”اپنی جان سے بھی قیمتی کچھ اور ہے کیا؟ “
اداس آنکھوں والی کنگنا پرامید لہجے میں جواب دیتی ہے۔
”ہے۔ وہ کہ جس کے لئے جان دی جا سکے۔ “
خواجہ آصف نے کیا برا کیا۔ انہوں نے تو یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہ کس طرح ”قادیانیوں“ سے دور رہتے ہیں۔ البتہ وضاحت دینے کے بعد انہوں نے یہ ضرور کہا کہ انہیں اپنی مسلمانی کے لئے کسی سے سرٹیفیکیٹ نہیں چاہیے۔ تصویر تو دور کی بات ہے عین ممکن ہے کہ اب وہ، اجنبیوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے بھی یہ سوال دہرائیں
”یار تسی قادیانی تے نئیں ہو۔“
پار سالوں میں ایک اکتوبر ایسا بھی گزرا کہ علمدار روڈ پہ کوئٹہ کی ایک کہانی سنی۔ سالوں تک عام رہنے والی یہ کہانی، اب خاص ہو چلی تھی۔ خالق ہزارہ سے رضا وکیل، اور تالاؤ خشک سے مری آباد، ہر شخص یہ کہانی سناتا تھا۔ آپ بھی سنیے
خدا کی کسی بستی میں قتل ہو گیا۔ جب تک تفتیش سے ثابت ہوا کہ قتل لوہار نے کیا ہے تب تک ساتھ والی بستی سے جنگ چھڑ چکی تھی۔ ادھر، لوہار کو موت کی سزا سنائی گئی، ادھر یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر لوہار مارا گیا تو تلواریں کون ڈھالے گا۔ سو ایک آٹھ سے نو بجے والے تجزیہ نگار نے اس کا سیدھا سادھا حل یہ بتایا کہ درزی کو بلا کر پھانسی دے دی جائے۔ اس سے بادشاہ کا انصاف بھی رہ جائے گا اور ملکی سلامتی کو خطرہ بھی نہیں لاحق ہوگا۔
خواجہ آصف کی وضاحت اور جاوید چوہدری کے قہقہے کے درمیان بہت کچھ ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ سب معمول پہ آ جائے گا۔ ٹویٹ واپس ہو جائیں گے۔ وسیع ترقومی مفاد اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ادارے ایک دوسرے سے صلح بھی کر لیں گے مگر اس نفرت کا کیا ہو گا جو اس وضاحت اور قہقہے کے درمیان جڑ پکڑتی ہے۔
کنگنا رناوت کا آخری جملہ صرف دو لفظوں کا ہے۔ یہیں سے کنگنا کا کردار شروع ہوتا ہے اور انہیں پہ وہ پردے سے ڈوب جاتا ہے۔ انگریزی کے یہ الفاظ وشال بھر دواج کی فلم میں ایسے سموئے ہیں کہ یہ وطن پرستی، انسان دوستی اور جذباتی وابستگی پہ ایک خوبصورت تبصرہ سنائی دیتے ہیں۔ سکرین پہ ابھرتی کنگنا محبت سے، دریا میں ڈوبتی مس جولیا تحریک سے اور خواجہ آصف کا سوال سیاست سے ایک ہی بات کہتا ہے۔
“BLOODY HELL”

