قادیانیت پر غداری کے الزامات ․․ کیپٹن صفدر نے کیا غلط کہا

(تحریر ․․․․․․ ظفرالاسلام سیفی)۔

حال ہی میں ’’ مکالمہ ڈاٹ کام ‘‘ پر جناب راشد احمد کی تحریر بعنوان ’’ غدار وطن قادیانی ‘‘ زیر نظر ومطالعہ ہوئی جس میں موصوف نے جناب کیپٹن صفدر صاحب کی اسمبلی فلور پر کی جانے والی تقریر بعنوان ’’ قادیانی اسلام وملک کے دشمن ہیں ‘‘ پر طنزیہ تنقید و احتجاج کرتے ہوئے بہت سے ایسے تاریخی حوالے دیے جن سے قادیانیت کی ملک کے لیے بے لوث خدمات وحب الوطنی مترشح ہوتی ہے۔ لاریب کہ اگر وہ گہر ریز واقعات تاریخ کے دامن میں موجود ہوتے تو ہمیں اعتراض ہوتا نہ اس تحریر کی ضرورت مگر بھلے نہایت لطافت سے ہو تاریخی پیوندکاری کسی طور لائق تحسین عمل ہے نہ تحقیقی دیانت۔

ہماری نظر میں کیپٹن (ر) صفدر کی تقریر محض جذبات میں افراط وتفریط کا ملغوبہ نہیں بلکہ تاریخی استناد  و استدلالی قوت رکھتی ہے جس کا جواب تاریخی مفروضوں، طنزیہ اسلوب تعبیر اور مظلومانہ اظہار بیاں کے بجائے حقائق سے دینے کی ضرورت تھی جبکہ قادیانی کالم نگارتاریخی خلط مبحث اور ارتکاب ابہام کے سوا کچھ نہ پیش کر سکے۔

مضمون نگار کی نظر میں پہلا وہ کارنامہ جو قادیانیت نے ملک کے لیے سرانجام دیا وہ تحریک پاکستان کی حمایت تھی چناچہ ’’ طنزا ‘‘ رقمطراز ہیں کہ ’’ملک کے خلاف پہلی غداری تو قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ نے کی جب انہوں نے قیام پاکستان کے لیے نہ صرف قائد اعظم کی حمایت کی بلکہ دامے، درمے سخنے قدمے ان کی مدد بھی کرتے رہے ‘‘ تو اس حوالے سے گزارش ہے کہ قادیانی اخبار الفضل 12 اپریل 1947ء کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ قادیانی سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے اخباری نمائندوں کے اس سوال کہ ’’ کیا پاکستان کا قیام عملی طور پر ممکن ہے ‘‘ کے جواب میں کہا تھا کہ ’’ سیاسی ومعاشرتی نکتہ نگاہ سے یہ ممکن ہو سکتا ہے تاہم میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ ملک کو تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں ‘‘

یہی اخبار 18 مئی 1947 ء کی اشاعت میں مرزا موصوف کا یہ بیان بھی لکھتا ہے کہ ’’ یہ خدا کی مرضی ہے کہ ہندوستاں متحد رہے، اگر ہم ہندوستاں کی تقسیم پر راضی رہے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح متحد ہو جائیں‘‘۔ قیام پاکستان کے بعد سات ستمبر 1947 ء کی اشاعت میں ’’ الفضل ‘‘ لکھتا ہے کہ قادیان کی نواحی بستیوں ’’ لنگل، جھینی، کھارا، وغیرہ‘‘ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ پاکستان میں کلیم نہ کریں، کیونکہ یہ بندوبست جلد ختم ہونے والا ہے اوروہ قادیان جلد واپس آئیں گے ‘‘ اس وقت دفن کی جانیوالی میتوں کے مقبروں پر لکھوایا جاتا رہا کہ ’’ یہ تدفین امانتا ہے ‘‘ موصوف مضمون نگار کیا تاریخ کے ان صفحات سے بھی واقف ہیں؟

فاضل کالم نگار قادیانیت کا دوسرا کارنامہ علامہ اقبال کی تجویز پر کشمیر کمیٹی کے قادیانی سربراہ کا تقرر بتلاتے ہیں اوردعوی کرتے ہیں کہ قادیانی سربراہ کی تقرری نے کشمیر کا مستقبل بدل کر کشمیریوں کے لیے انقلابی اقدامات اٹھائے، علامہ اقبال کی طرف اس کا انتساب صرف تاریخی بددیانتی ہی نہیں بلکہ مضحکہ خیز جھوک بھی ہے، وہ اقبال جس نے خود کے عشق رسالت اورایمان ختم نبوت کا نقشہ اپنے متعدد اشعار میں جس خوبصورتی سے کھینچا اس کی ادنی سی رمق آپ بھی ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ

نگاہ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی طہ، وہی یسیں
اور ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ
پس خدابرما شریعت ختم کرد بررسول ما رسالت ختم کرد
رونق از ما محفل ایام را او رسل راقم وما اقوام را
لانبی بعدی زاحسان خداست ہر وہ ناموس دین مصطفی است
قوم را سرمایہ قوت ازو حفظ سر وحدت ملت ازو
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

ایسی ہستی کے متعلق ارشاد مذکور بغیر کسی نظر واستدلال کے بداہۃ حماقت کے سوا کچھ نہیں، تاہم جہاں تک اس کی تاریخی حقیقت کا تعلق ہے آئیے قادیانیت کی تاریخ پر پڑے دبیز پردوں کی تہہ سے حقائق دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

25 جولائی 1935 ء کو شملہ میں قادیانی نواز سر فضل حسین کی زیر صدارت کشمیر کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا جس میں مرزا بشیر الدین کو کمیٹی کا صدر بنایا گیا جبکہ علامہ اقبال بھی اس کمیٹی کے رکن تھے، علامہ اقبال کو جب قادیانیت کے اجزائے ترکیبی کا علم ہوا تو انہوں نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو ایک خط لکھا جس میں مطالبہ کیا کہ کسی قادیانی کو آئندہ کشمیر کمیٹی کا صدر نہ بنایا جائے، صرف یہی نہیں بلکہ ایگزیکٹو کونسل میں ظفر اللہ قادیانی کی ایک مسلمان رکن کے طور پر جب تقرری ہوئی تو 1935 ء میں انجمن حمایت اسلام لاہور کے علامہ اقبال کی زیر صدارت سالانہ جلسے میں ظفر اللہ قادیانی کے خلاف قرارداد منظور کی گئی جس کے نتیجے میں انجمن سے قادیانی ارکان فارغ کر دیئے گئے۔

مضمون نگار کے پیش نظر رہنا چاہیے کہ انہوں نے کیپٹن صفدر کے جن الفاظ کا علامہ اقبال کے حوالہ دے کرتعاقب کیا وہ الفاظ بجائے خود علامہ اقبال ہی کے ہیں چنانچہ پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ’’ کچھ پرانے خطوط ‘‘کے حصہ اول میں لکھا ہے کہ اقبال نے ایک خط میں قادیانیت کو اسلام وملک دونوں کا دشمن وغدار کہا، 1935 ء میں احمدی عقائد سے متعلق اقبال کے ایک مقالے کی اشاعت پر لکھنؤ کے ایک اخبار ’’ صدق ‘‘ نے یکم اگست کی اشاعت میں لکھا ’’ علامہ اقبال کے اس حقیقت خیز اور ولولہ انگیز مقالے نے ہمالیہ سے راس کماری تک ہلچل مچادی ہے جس میں انہوں نے عقیدہ ختم نبوت کے فلسفیانہ پہلو کو قدرتی قانون پر منطبق کر کے رسول اللہ کی خدمت گذاری کا عظیم شرف حاصل کیا ‘‘ یہی وجہ ہے کہ ’’ سیرت المہدی ‘‘ میں مرزا بشیر الدین لکھتے ہیں کہ ’’ ملک کے نوتعلیم یافتہ طبقہ میں احمدیت کے خلاف جو زہر پھیلا اس کی بڑی وجہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کا مخالفانہ پروپیگنڈہ تھا ‘‘

فاضل مضمون نگار کیا ان تاریخی حقائق سے باخبر ہیں؟ کیا اقبال پر تجویز کا الزام لگانے سے پہلے کسی تحقیق کی زحمت گوارا فرمائی؟ اقبال نے قادیانیت کا علمی وفکری تعاقب اس قدر کیا کہ اقبال اور قادیانیت باقاعدہ علمی وتحقیقی عنوان بن گیا، کیا ایسی ہستی کی بابت اس طرح کا دعوی تاریخی دیانت کہلایا جاسکتا ہے؟ اور کیا یہ مضحکہ خیز تاریخی جھوک نہیں؟ لاریب کہ اقبال فنا فی الرسول اور ختم نبوت پر مستحکم ایمان کے حامل مسلمان تھے، ان کی شخصیت کے متعلق ایسے دعاوی مطابق حقیقت ہیں نہ قابل قبول۔

جہاں تک کشمیر کمیٹی میں قادیانی سربراہ کی خدمات وتوجہات کا تعلق ہے تو گذارش ہے کہ یہ ایک الگ مستقل بحث ہے، حقیقت یہ ہے کہ فاضل کالم نگار نے یہاں بھی دیانت کی حدود کو پامال کیا، جس قادیانیت کا کشمیر سے متعلق کردار روز اول سے مشکوک رہا اس کے متعلق یہ دعوی انتہائی لغو و عبث ہے۔ تاریخ مسئلہ کشمیر پیدا ہونے کے بنیادی اسباب میں قادیانیت کو بھی ایک سبب گردانتی ہے، مورخین کی نظروں میں قادیانیت کا کردار مسئلہ کشمیر کے موجدین میں سے ہے، جب تین جون 1947ء میں مسلم لیگ نے تقسیم پنجاب و بنگال کے منصوبے کو مان لیا تو 30 جون1947ء کو سر ریڈ کلف کی سربراہی میں تقسیم کے لیے حدبندی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا، کمیشن کے پنجاب کے اراکین میں دو غیرمسلم ممبران کے علاوہ جسٹس محمد منیر اور جسٹس دین محمد شامل تھے جبکہ مسلم لیگ کی طرف سے ظفر اللہ خان وکیل تھے، ظفر اللہ خان اگرچہ مسلم لیگ کے نمائندے تھے مگر دراصل وہ قادیانی نمائندہ بن کر رہے، انہوں نے گورداس پور کے حوالے سے حکومت پاکستان کی اجازت کے بغیر ایسی رائے پیش کی جس سے بھارت کو کشمیر پہنچنے کا راستہ مل گیا، قادیانی کشمیر کے حوالے سے اپنا ایک مختلف نقطہ نظر رکھتے تھے، چنانچہ تاریخ احمدیت جلد نمبر 6 میں مولف دوست محمد شاہد صفحہ نمبر 445 میں لکھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو کشمیر سے دلچسپی اس لئے ہے کہ کشمیر ہمارا ہے اس میں اسی ہزار قادیانی بستے ہیں نیز وہاں مسیح اول کا مدفن ہے (قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی کی قبر محلہ یار خان سری نگر میں ہے) اور مسیح ثانی کی بڑی جماعت ہے اس لئے یہ ہمارا ہے، شاعر کشمیر پرفیسر نذیر انجم کے انکشافات کشمیر میں قادیانی کارگذاری کے حوالے سے ہوش ربا ہیں نیز ڈاکٹر عبد الغنی اصغر کی کتاب ’’ کشمیر کا عروج وزوال ‘‘ بھی لائق مطالعہ ہے جس سے معلوم ہوگا کہ فاضل مضمون نگار نے کشمیر کے لیے قادیانی خدمات کا حوالہ دے کر کتنی بڑے تاریخی بددیانتی کا ارتکاب کیا۔

فاضل مضمون نگار نے تیسرا کارنامہ پہلے ملکی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان کی قائد اعظم کی جانب سے تقرری بتلایا اور یہ کہ ان کی خدمات کے اعتراف میں قائد اعظم نے انہیں بیٹا تک کہا، آئیے مضمون نگار کی اس تاریخی موڑ پر بھی طوطا چشمی آپ کو دکھاتے ہیں، ڈاکٹر صفدر محمود کے مطابق بانی پاکستان کو برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی خاطر بعض معاھدات و شرائط پرمجبورا دستخط کرنا پڑے، آپ کے پاس وقت کم تھا اور کام زیادہ، انہوں نے غلامی پر لولے لنگڑے پاکستان کو ترجیح دی، ان کے نزدیک پروانہ خودمختاری مل جانا ہی محرومی کا مداوا تھا اس لئے کہ قائد اعظم جانتے تھے کہ ان کی جیب میں کھوٹے سکے ہیں، بتایا جاتا ہے کہ انگریز وائسرائے نے ظفر اللہ قادیانی کی تقرری پر بہت زیادہ اصرار کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ جب تک یہ اعلان نہیں کیا جا تا اختیارات کی منتقلی نہ ہوسکے گی، اس تناظر میں قائد اعظم اپنی خواہش کے مطابق حسین سہروردی کو وزیر خارجہ نہ بنا پائے اور ظفر اللہ خان کو بنا دیا گیا۔

یاد رہے کہ جہاں پہلا وزیر خارجہ ظفر اللہ خان قادیانی کو بنایا گیا وہیں جنرل ڈگلس گریسی کو فوج کا کمانڈر انچیف اور جوگندر ناتھ منڈل کو پہلا وزیر قانون بنایا گیا تھا تو کیا اس جزوی واقعہ سے فرض کیا جا سکتا ہے کہ ہندوں اور انگریز مسلمانوں اور پاکستان کے مخلص ہیں؟ لاریب کہ میری نظر میں وفاداری وغداری کا معیار مذاھب نہیں مگر میں فاضل مضمون نگار کے ارشادات پر التزامی گرفت کر رہا ہوں کہ وہ شخصی واقعات کو کیوں دلیل بنا رہے ہیں؟ اور پھر یہاں تو معاملہ مختلف ہے، وزیر خارجہ ظفر اللہ خان قادیانی کا کردار پارلیمانی تاریخ کا منفی ترین کردار رہا چنانچہ مسلم لیگ کے سینیر رکن اسمبلی میاں افتخار الدین کا اسمبلی فلور پر بیان تاریخ کا حصہ ہے کہ جس میں انہوں نے کہا کہ ’’جناب عالی، ہمارا وزیر خارجہ سر ظفر اللہ کیا کر رہا ہے، یہ شخص لازمی طور پر برطانوی مفادات کا نگہبان ہے، ہمارا معزز وزیر خارجہ ہم سے بلکہ امریکہ سے بھی زیادہ برطانیہ کا وفادار ہے، یہ کشمیر کا مقدمہ نہیں لڑرہا بلکہ مزید اس کو الجھا رہا ہے ( میاں افتخار الدین کی تقاریر مرتبہ عبد اللہ ملک صفحہ 206)

جون 1958 ء میں صیہونی رسالہ نے ظفر اللہ خان کی اسرائیلی سفیر کے ساتھ تصویر چھاپی جس نے بہت سے حلقوں کو مضطرب کر دیا۔ فاضل کالم نگار نے دعوی کیا کہ قائد اعظم نے ظفر اللہ خان کو بیٹا تک کہا مگر دوسری جانب ذرا دیکھیے کہ بھارت کے مشہور اخبار ’’ ہندوستان ٹائمز ‘‘ میں بھارت کے سابق کمشنر سری پرکاش کی خود نوشت سوانح عمری جو انیس سو چونسٹھ میں شائع ہوئی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ظفر اللہ قادیانی نے ان کے سامنے قائد اعظم کو گالی دی اور کہا کہ اگر پاکستان بن گیا تو ہندوں سے زیادہ مسلمانوں کا نقصان ہوگا، وہ کہتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد ایک مرتبہ ملاقات میں میں نے ان سے اس بابت استفسا ر کیا تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے اس بیان پر آج بھی قائم ہوں مزید یہ کہ ان موصوف نے قائد اعظم کا جنازہ پڑھنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ آپ مجھے مسلمان ملک کا کافر وزیر سمجھیں یا کافر ملک کا مسلمان وزیر۔ فاضل کالم نگار نے قائد اعظم کی بابت ایک بلاحوالہ بات بیٹا کہنے کی ارشاد فرمائی کیا یہ ممکن ہے؟ جبکہ مشہور صحافی نیر زیدی لکھتے ہیں کہ جب کشمیر سے واپسی پر قائد اعظم سے یہ سوال پوچھا گیا کہ قادیانیوں کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے تو آپ نے فرمایا کہ ’’ میری وہی رائے ہے جو علمائے کرام اور پوری امت کی ہے۔

فاضل کالم نگار نے قادیانی فوجیوں اور ان کے جانوں کا نذرانہ دینے کے حوالے دے کر استفسار کیا کہ کیا غداری اس چیز کا نام ہے؟ تو گذارش ہے کہ ہم ایسی کسی بھی مخلصانہ کاوش کا نہ صرف خیر مقدم کرتے ہیں بلکہ اسے قدر کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں، مگر گذارش ہے کہ خدشات اتنے جلد جنم لیتے ہیں نہ ختم ہوتے، کیا یہ سچ نہیں کہ بہت سے قادیانیوں کو ملک خلاف سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا۔ سجاد ظہیر کی کتاب ’’ پنڈی کیس ‘‘ پڑھ لی جائے تو طیعت اجلی ہوجائے گی، 1951 ء کی شب حکومت کا تختہ الٹنے میں کیا قادیانی ہاتھ میجر جنرل ظہیر احمد قادیانی کی صورت میں ملوث نہ تھا؟ پاکستان ٹائمز 13 مئی 1973 ء کے مطابق کیا اپریل 1973 ء میں بھی اسی جرم میں تین قادیانی فوجی افسر میجر فاروق آدم خان، اسکوارڈن لیڈر محمد غوث اور میجر سعید اختر ملک گرفتار نہ ہوئے؟ بڈھ پیر اٹک میں دوجولائی 1973 ء کو مقدمہ کن فوجی افسران کے خلاف چلا کیا یہ مبہم بات ہے؟ فرنٹیئر گارڈن پشاور کی گیارہ اگست 1973 ء کی رپورٹ کے مطابق ایئرمارشل ظفر چوہدری اور ایئروائس مارشل سعد اللہ خان کیا بھٹو حکومت کے خاتمے کے لیے کوشاں نہ رہے؟ پچیس جولائی 1974 ء کو جسٹس ہمدانی کی عدالت میں ایک فوری نوعیت کا کیس زیر سماعت نہ ہوا جس کے بعض اجزاء خبر رساں ایجنسیوں کے حوالے کیے گئے جس کے مطابق قادیانی سربراہ مرزا ناصر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں بھٹو قتل کی منصوبہ بندی کی گئی؟ (رپورٹ جسٹس ہمدانی ٹریبونل نوائے وقت لاہور یکم اکتوبر 1974 ء) کیاجولائی 2009 میں فرینکفرٹ جرمنی میں ایک چیرٹی ڈنر میں قادیانی جماعت کے سیکرٹری برائے خارجہ امور احمد عبدالرزاق نے نہیں کہا تھا کہ ’’ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اس کینسر کی طرح ہے جس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے؟

تو کیا ہوتی ہے غداری؟ جناب والا، ارشاد فرمائیے کہ آپ نے اپنے دامن سے ان دھبوں کو کتنا دھویا ہے؟ جس ڈاکٹر عبد السلام کا آپ تذکرہ فرما رہے ہیں کیا یہ درست نہیں کہ دی گارڈین میں نومبر 1986 ء میں thiny tusker نے اسے اپنے ملک میں غدار ہونے کا طعنہ دیا تھا؟ کیا یہ سچ نہیں کہ جاسوسی کی اطلاعات پر بھٹو نے ان کی ایٹمی تنصیبات میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی؟ اور کیا یہ بھی درست نہیں کہ پارلیمنٹ کے قادیانیوں کے خلاف فیصلے کے بعد انہوں نے پاکستان چھوڑ دیا تھا؟ کیا یہ ہوتی ہے محبت؟ کیا یہ درست نہیں کہ آپ آئینی شقوں 106(3) 298(a)295(a)266کا انکار کرتے ہیں؟ کیا آئین کو نہ ماننا غداری کے زمرے میں نہیں آتا؟ تو کیا غلط کہا کیپٹن صفدر نے؟

میں پھر کہنا چاہوں گا کہ کیپٹن صفدر نے جو کہا وہ آج سے اسی پچاسی سال پہلے اقبال بھی کہہ چکے تھے، وہ پوری قوم کی آواز ہے، آپ اقلیت بن کر رہیں کسی کو اعتراض ہے نہ نفس الامر میں برا مگر آپ خد ا ورسول اور ختم نبوت کے نام پر بنی دھرتی میں اپنا حق جتلانے لگیں تو یہ درست ہے نہ ایسا ہوسکے گا، میری نظر میں آپ کے جملہ شکووں کا جواب یہی ہے کہ آپ اس قوم پر رحم فرمائیں اور اس کے مذہبی اعتقادات میں چور دروازوں سے دخل دینا بند کردیں، پہل کیپٹن صفدر نے نہیں کی آپ کے اس حواری نے کی جس نے پارلیمنٹ میں نقب لگا کر حلف نامہ ختم کرنے کی کوشش کی، جب تک آپ کے آئین وملک میں نقب لگانے کا سلسلہ جاری رہے گا مزاحمت کا سامنا آپ کو ہوتا رہے گا۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس انتشار کو جسے آپ ہی نے دعوی نبوت کرکے پیدا کیا تھاکب ختم کرتے ہیں، ہمارا مطالبہ قطعا یہ نہیں کہ آپ اپنے مذہبی معتقدات کو چھوڑ دیں ہماری گذارشات کا حاصل فقط اس قدر ہے کہ آپ ہمیں اپنے مذہبی معتقدات کے مطابق رہنے دیں، آئے دن نقب لگانے اور مہروں کے استعمالی سلسلے کو بند فرما دیں اور شرح صدر سے طے کرلیں کہ پاکستان کو مزید کسی الجھاؤ میں نہیں ڈالیں گے تو اسی وقت فتنوں کا انسداد اور سماجی انتشار ختم ہوجائے گا۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words