ہڑپہ کا بوڑھا راوی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دریاﺅں کا ہمیشہ سے بنی نو ع انسان کی معاشرت، ثقافت، معیشت اور سماجی روایات کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے۔ کشمیر سے آنے والے پانچ دریا پنجاب کے سینے سے ہوتے ہوئے سندھ میں جا گِرتے ہیں۔ دریائے راوی اور چناب کے درمیان پائے جانے والے علاقے کو ساندل بار کا علاقہ کہا جا تا ہے۔ دریائے راوی ہندوستان کی ریاست ہماچل پردیش سے نکل کر کشمیر کی جنوبی سرحد پر مڑتا ہے۔ یہاں اَسی کلومیٹر تک بہنے کے بعد پنجاب میں داخل ہوتا ہے اور کمالیہ تک پہنچتے پہنچتے گندے نالے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ کمالیہ اور چیچہ وطنی کے درمیان اِسے عبور کیا جائے تو راوی کا نام دریا کے طور پر لکھا ملتا ہے۔ مگر یہ راوی کے ساتھ انسانوں اور حکومتوں کا ظلم ہے۔ کبھی اس دریا کے کنارے بہت بڑی تہذیب آباد تھی جو 1856 میں ڈرامائی طور پر دریافت ہوئی جب لاہور اور ملتان کے درمیان ریلوئے لائن بچھائی جا رہی تھی۔ تب کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ جنوبی ایشا کی پہلی دریافت شدہ تہذیب تھی جو اُن ٹھیکیداروں کے لئے اینٹوں کی ایک کان بنی رہی جو ریلوے لائن بچھانے پر مامور تھے۔ انہی اینٹوں سے ساہیوال سے خانیوال تک ریل کی پٹری کے ساتھ ساتھ چھوٹے بڑے ریلوے اسٹیشن تعمیر کئے گئے۔ یہاں سے ملنے والی قدیم تہذیب کی مہریں اور دیگر آثار برآمد ہوئے جنہیں مشہور ماہر آثار قدیمہ جنرل ایگزینڈر کنگھم نے بڑا تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ کنگھم ہی کی مداخلت پر یہاں اینٹوں کی کھدائی رکوائی گئی لیکن اُس وقت تک آدھے سے زیادہ کھنڈرات تباہ ہو چکے تھے۔ ہڑپہ کے یہ کھنڈرات ساہیوال سے پچیس کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع ہیں!

ہڑپہ کے بارے میں دو اہم روایا ت ہیں اوّل ”رگ وید“ کے حوالے سے اِس کا قدیم نام ”ہری بویا“ تھا جن کے معنی سنہری قربان گاہ کے ہیں جو بعد میں ہڑپہ بن گیا۔ دوم بعض ماہرین کی رائے ہے کہ ہڑپہ پنجابی زبان کے لفظ ہڑپ سے نکلا ہے جس کے معنی کھا جانے یا نگل جانے کے ہیں جب اس قدیم شہر پہ تباہی آئی تو لوگوں نے اُسے ہڑپ کہنا شروع کر دیا جو بعد میں ہڑپہ کہلانے لگا !

مو جو دہ دریافت شدہ کھنڈرات کا رقبہ 125 ایکڑ زمین پر پھیلا ہوا ہے۔ جب یہاں با قاعدہ کُھدائی شروع ہوئی تو بہت جلد جنوبی ایشا کی یہ تہذیب دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ، دانشور وں کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز بن گئی۔  ہڑپہ کے مکانات اور بستیاں با قاعدہ طور پر منصوبہ بندی سے تعمیر کی گئی تھیں۔ آثار قدیمہ کے لحاظ سے یہ نکاسی آب کا بڑا ہی مکمل نظام ہے۔ ہر گلی میں نالیاں ہیں جو پکی اینٹوں سے ڈھانپی گئی تھیں نیز صفائی کی غرض سے انہیں بآسانی کھولا جا سکتا تھا۔ دنیا بھر کے معلوم آثار قدیمہ میں سب سے زیادہ ٹاﺅن پلاننگ کے آثار یہی سے بر آمد ہوئے ہیں۔ ہڑپہ کے عمومی نقشے کا موازنہ موہنجوواڑو سے کیا جا سکتا ہے۔ تین میل تک پھیلے ہو ئے شہر کے شمال میں سر سبز کھیت اور دریائے راوی کا قدیم راستہ تھا۔ یہ اُس دور کے لوگوں کا رہائشی علاقہ تھا جس سے فن تعمیر کے بارے میں اہم معلو مات حاصل ہوئی ہیں۔ اِن آثار میں ایک بڑی دیوار، چھوٹے چھوٹے غسل خانے، کمروں کی قطاریں اور ایک دُہرا کنواں بھی شامل تھا جس سے مقامی آبادی کو پینے اور دیگر ضروریات کے لئے پانی فراہم کیا جاتا تھا۔ گھروں کے اطراف میں چار دیواری کے نشانات آج بھی مو جود ہیں۔ گھروں کی تعمیر میں پردے کا خاص خیال رکھا جا تا تھا۔ ہر گھر میں تین کمرے اور ایک چھوٹا صحن تھا۔ بستی کے قریب ہی کئی بھٹیاں بھی ملی ہیں ان بھٹیوں میں کوئلے اور گوبر کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا تا تھا مختلف دھاتیں پگھلائی جاتی تھیں۔ جن سے مختلف اشیا اور زیورات بنائے جاتے تھے۔

مو ہنجوداڑو کی طرح ہڑپہ میں بھی بچوں کے لئے بیل گاڑیوں کے کھلونے دریافت ہوئے ہیں۔ ہڑپہ اور مو ہنجوداڑو کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے مو ہنجوداڑو کا مطلب ”مرئے ہوئے لوگوں کا ٹیلہ “ ہے آج بھی کسی بلند مقام پہ کھڑے ہو کر آپ اِس جگہ کا جائزہ لیں تو موہنجوداڑو کی یہ بستی چھ سات محلوں پر مشتمل معلوم ہوتی ہے۔  انہی کھنڈرات کو دیکھ کر ایک انگریز نے کہا تھا کہ ”میں اِن کھنڈرات میں کھڑے ہو کر یوں محسوس کر رہا ہوں جیسے لنکا شائر کے کھنڈرات میں کھڑا ہوں“۔

?

ہڑپہ کے لوگ زندگی گزارنے کے اُصولوں سے اچھی طرح واقف تھے اُن میں فنکارانہ صلاحیتیں موجو د تھیں وہ فِن تعمیر کے ماہر اور اُن کی بنائی اشیا میں خو بصورتی اور نفاست انتہائی عروج پر تھیں۔ یہاں کے لوگ بنیادی طورپر زراعت پیشہ تھے جو عموماً گندم اور جو کاشت کرتے تھے۔ بار برداری کے لئے بیل گاڑی کا استعمال عام تھا۔ بارشیں زیادہ ہوتی تھیں اور زمین زرخیز تھی۔ دریائے راوی کاشت کاری اور تجارت کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ دریائے راوی سے دریائے سند ھ تک کشتیاں ہی نقل و حمل اور مواصلات کا اہم ذریعہ تھیں۔ انہی کشتیوں کے ذریعے وہ کپاس، گندم اور دیگر زرعی اجناس و مو یشی مختلف شہروں اور دوردراز کی منڈیوں تک پہنچاتے تھے اُن کی بیرونی تجارت کا واحد اور اہم ذریعہ دریائے راوی ہی تھا۔ یہاں کے باسی لوہے سے ناواقف تھے مگر تانبے اور کانسی کے زیورات، ہتھیار، گھریلو اشیا اور زیورات ہڑپہ سے بڑی مقدار میں دریافت ہوئے تھے۔ بہت سی چھو ٹی چھوٹی مورتیاں ملی ہیں جن میں اکثر مو رتیاں عورتوں کی ہیں اِن کے سر کی آرائش اور زیورات قابل دید ہیں۔ سرخ پتھر سے بنے مردانہ بت بھی دریافت ہوئے ہیں جو فن تحلیق کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔ یہاں کے آثارمیں اہم ترین وہ مہریں ہیں جن پر ایسی زبان لِکھی ہے جِسے آج کے دن تک دنیا بھر میں کوئی نہیں پڑھ سکا ہے۔ ایک بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہاں بہت کچھ ایسا ہے جو پڑھا جا سکتا ہے۔

?

اکثر مہروں پر تحریروں کے ساتھ کسی جانور کی شکل بنائی گئی ہے جس پر ہاتھی، گینڈے، مگر مچھ، بیل اور شیر کی اشکال اہم ہیں زیادہ تر مہریں پتھر سے بنی ہیں۔ بیل اورشیر کی اشکال اہم ہیں۔ بچوں کے کھلونے مٹی سے بنے ہوئے ہیں اُن کی اشکال جانوروں اور انسانوں سے مشابہ ہے وہ لوگ کھیلوں کے شوقین اور خو شحال تھے۔ بچوں کے ان کھلونوں میں مختلف حیوانات، پرندے، اور بیل گاڑیاں شامل ہیں۔ مٹی کے برتنوں کا کثیر تعداد میں دریافت ہونا اِس چیز کی گواہی دیتا ہے کہ وہ مٹی سے ہر طرح کے برتن بنانے کے بڑے ماہر تھے۔ اناج ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے بڑے مٹکوں سے لے کر روزمرہ کے استعمال کے برتنوں تک وہ ہر قسم کے برتن کمہار کے چاک پر بنا لیتے تھے۔ برتنوں پر سُرخ رنگ کیا جاتا تھا اور سیاہ رنگ کے بیل بوٹے بنائے جاتے تھے۔ ہڑپہ کی قبروں سے مُردوں کے ساتھ بڑی تعداد میں دفن کیے گئے برتن ملے ہیں۔ جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ حیات بعد از موت پر یقین رکھتے تھے۔ یہاں سو سے زائد جزوی تدفین کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ بچوں کی لاشیں مٹکوں میں ہی دفن کر دی جاتی تھیں آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڑپہ تین بار تباہ ہوا ہے۔ کیونکہ زمین کے نیچے سے جو مکان برآمد ہوئے ہیں وہ ایک ہی بنیاد پر تین مرتبہ تعمیر ہوئے ہیں

?

انسان کی عمر کروڑوں سال ہے لیکن شواہد یہی بتاتے ہیں کہ پانچ ہزار سال قبل یہاں انسان آباد تھے۔ وادی مصر سے بھی جو آثار ملے ہیں وہ بھی عمرکے لحاظ سے ہڑپہ سے قدیم نہیں ہیں۔ موہنجوداڑو، ہڑپہ، ٹیکسلا، بلوچستان کے مہر گڑھ سے ملنے والے آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ پانچ ہزار سال پہلے کا انسان اپنی پوری آب و تاب سے آباد تھا۔ گویا ہماری سرزمین کو دُنیا کی ایک جگمگاتی تہذیب کا خزانہ ورثے میں مِلا ہے۔ ہماری دھرتی میں دُنیا کے کئی تاریخی خزانے موجد ہیں جن پر ہم بجا طور پر ناز کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے سیاح، آثار قدیمہ کے ماہرین، دانشورو ں کے لیے پاکستان کی کشش اس کے ماضی میں ہیں۔ دنیا بھر سے لوگ اس ورثے کو دیکھنے پرکھنے کے لیے آتے تھے۔ مگر ایک عرصہ ہوا، یہ لوگ نہیں آتے۔ لوگ ہمارے ملک میں کیوں نہیں آتے، اس کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا۔

مو جودہ تہذیب یافتہ دور میں آثار قدیمہ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ ہماری سرزمین اس لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ اس میں پائے جانے والے آثار قدیمہ نے دنیا بھر کے ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ انسانی تہذیب کا سفر جن علاقوں سے شروع ہوا اُن میں پاکستان کو وہ مقام حاصل ہے جو کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ یہاں کا تہذیبی سفر ہزاروں سال پرانا ہے۔ جو قومیں اپنی تاریخ اور جغرافیہ سے آگاہ ہوتی ہے انہیں قوم کہلانے کا حق ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے ہم لوگ ستر سال گزرنے کے بعد بھی قوم کے معنی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ عہد جدید میں آثار قدیمہ کے مطالعہ کی جتنی ضرورت آج ہے، اِس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ ہمارے یہاں آج بھی علم آثار قدیمہ کو وہ پذیرائی حاصل نہیں جو ہمیں دنیا میں سر اُٹھا کے جینے کے قابل کر سکے۔ ہڑپہ کے ان کھنڈرات سے باہر آتے وقت یہ سو چ رہا تھا کہ اگر ہمارا یہ حال ہے تو ہمارے بچوں کا مستقبل کیسا ہو گا۔ اگر ہم آج بھی یہ طے کر نے سے قاصر رہے تو پھر نہ جانے کتنی صدیاں ہڑپہ کا یہ بوڑھا راوی روتا رہے گا۔

?
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •