آغا شورش کاشمیری: کوئی کہاں سے ہمارا جواب لائے گا
بچپن میں جب حرفوں سے شناسائی کا عمل شروع ہوا تو بچوں کے رسالوں اور کہانیوں کے بعد تیسری جماعت سے نوائے وقت کا مطالعہ شروع ہوا۔ پانچویں جماعت میں اردو ڈائجسٹ سے تعارف ہوا۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں جب ماموں جان کے گھر رحیم یار خان جانا ہوتا تو وہاں آغا شورس کاشمیری کے ہفت روزہ چٹان اور ماہر القادری کے ماہنامہ فاران سے تعارف ہوا۔ ماموں جان کے گھر بہت سے اخبار اور رسالے آتے تھے۔ گھر میں سید عطا اللہ شاہ بخاری، مولانا ظفر علی خان، حمید نظامی اور آغا شورس کاشمیری کا ذکر اکثر سننے کو ملتا تھا۔ جب میں آٹھویں جماعت میں تھا اور چھٹیوں میں رحیم یار خان گیا ہوا تھا تو ماموں جان نے میری اور میرے دو کزنوں کی ڈیوٹی لگائی۔ ہم نے تمام پرانے رسالوں کے بنڈل کھول کر انھیں سن وار ترتیب دیا۔ پھر ماموں جان نے ان سب رسالوں کو جلد کرا کر اپنی لائبریری میں رکھا۔ چھٹیوں میں میرا زیادہ وقت چٹان اور فاران کے مطالعے میں گزرتا تھا۔
سنہ 1967 میں جب میں سال اول کے طالب علم کے طور پر گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا تو وہ ایوب خان کا زمانہ تھا۔ شاید دسمبر کا مہینہ ہو گا، اتوار کے روز صبح کے وقت موچی دروازے کے باہر باغ میں اپوزیشن جماعتوں کا جلسہ تھا۔ میں ایک دوست کے ساتھ جلسہ گاہ پہنچا۔ اپوزیشن کے مشرقی اور مغربی پاکستان کے متعدد رہنما شریک تھے، جن کے نام اب بھول چکا ہوں۔ اس جلسے میں پہلی بار آغا شورش کاشمیری کو تقریر کرتے سنا اور دم بخود رہ گیا۔ میری فن تقریر سے کچھ شناسائی تھی۔ چوتھی جماعت سے خود بھی تقریر کر رہا تھا۔ میرے ماموں جان بہت اچھے مقرر تھے۔ لیکن تقریر کا یہ انداز میرے لیے نرالا تھا۔ الفاظ کی ایک آبشار تھی جو اپنی پوری گھن گرج کے ساتھ بہتی چلی آ رہی تھی۔ ان کی تقریر میں تند و تیز پہاڑی دریا کی روانی تھی۔ تقریر کا بہاؤ اتنا زناٹے کا تھا کہ مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ مقرر سانس کس وقت لیتا ہے۔ اس کے بعد متعدد بار آغا صاحب کو موچی دروازے کے جلسوں میں سننے کا اتفاق ہوا۔
سنہ 1968 مارچ کا مہینہ تھا۔ وائی ایم سی اے ہال میں یوم حمید نظامی کا جلسہ تھا جس کی صدارت ڈاکٹر سید عبداللہ صاحب فرما رہے تھے۔ سٹیج سیکریٹری آغا صاحب تھے۔ مقررین میں مولانا عبدالستار خان نیازی اور شاید ڈاکٹر جاوید اقبال بھی تھے۔ اس جلسے میں حبیب جالب نے ایوب خان کے درباری صحافیوں کے بارے میں اپنی مشہورنظم سنائی تھی: اب قلم سے ازار بند ہی ڈال۔
اس جلسے میں آغا صاحب نے کوئی ایک گھنٹے کے لگ بھگ تقریر کی تھی جو فن خطابت کا ایک شاہکار تھی اوران کی زندگی کی شاید آخری بہترین تقریر تھی۔ میرے کزن نے وہ تقریر ریکارڈ بھی کی تھی، جو مائک ہل جانے کی وجہ سے مکمل ریکارڈ نہ ہو سکی تھی۔ اسی برس جب آغا صاحب گرفتار ہوئے تو انھوں نے جیل میں بھوک ہڑتال کر دی تھی۔ اس وجہ سے ان کے جسم و جان میں توانائی نہ رہی تھی جو اس قسم کی تقریروں کے لیے درکار ہوتی ہے۔
ان دنوں یوم اقبال 21 اپریل کو منایا جاتا تھا اور مرکزیہ مجلس اقبال کے تحت یونیورسٹی ہال میں ایک بہت عظیم الشان جلسہ ہوا کرتا تھا جو لاہور کی ثقافتی زندگی میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہوتا تھا۔ مرکزیہ مجلس اقبال کے سیکریٹری ہونے کے ناتے سٹیج سیکریٹری کے فرائض آغا صاحب کے ذمہ ہوتے تھے اور ان کا انداز اس محفل کی شان کو دوبالا کر دیتا تھا۔ اس سال جب جلسے کا آغاز ہوا تو تلاوت قرآن حکیم کے بعد ہال کی پچھلی صفوں سے کچھ آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ آغا شورش پاکستان کا مخالف تھا، ہم اس کی بات نہیں سنیں گے۔ آغا صاحب سٹیج پر کھڑے اس صورت حال کو دیکھ رہے تھے اور خاموشی کی اپیل کر رہے تھے۔ جب ہنگامہ نہ رکا تو آغا صاحب نے آنکھ سے اشارہ کیا جس کے بعد کرسیاں چلنا شروع ہو گئیں۔ چند منٹ بعد ہنگامہ کرنے والوں کو ہال سے باہر نکال دیا گیا اور جلسے کی کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوا۔ اس دن آغا صاحب پورے جلال میں تھے اور ان کی زبان شعلہ بار تھی۔ انھوں نے ایوب حکومت کے ایک صوبائی وزیر کی شان میں بہت کچھ ارشاد کیا۔ اس کے اگلے روز عبدالقادر حسن نے” آغا شورش پر قاتلانہ حملے“ کے عنوان سے اخبار میں کالم تحریر کیا تھا۔ جتنے برس آغا صاحب حیات رہے، مرکزیہ مجلس اقبال کے اجلاس بڑی باقاعدگی سے اٹینڈ کرتا رہا۔ ان کی وفات کے بعد یاد نہیں پڑتا کہ کبھی کسی اجلاس میں شرکت کی ہو۔ اجلاس کے کچھ دنوں بعد آغا شورش کو گرفتار کر لیا گیا، چٹان پر پابندی عاید کر دی گئی اور اس کا پریس سیل کر دیا گیا۔ چھ ماہ سے زاید آغا صاحب جیل میں رہے تھے۔
جب ایوب خان کا دور حکومت ختم ہو گیا اور جنرل یحییٰ خان کا دور شروع ہوا تو ملک میں اسلامی نظام اور سوشلزم کی بحث بہت شدت اختیار کر چکی تھی۔ اس زمانے میں اقبال ہوسٹل میں اپنے کمرے کے دروازے کے شیشے پر میں نے آغا صاحب کا یہ شعر لکھا کر لگایا ہوتا تھا:
میرے افکار دل آویز کے پس منظر میں
سرخ پرچم کی صدا ہو مجھے منظور نہیں
یہ دور کئی اعتبارات سے بہت منحوس تھا۔ اس زمانے میں پریس کو کچھ آزادی ملی تھی جس کے نتیجے میں دائیں، بائیں ہر طرف گٹر ابل پڑے تھے۔ اس زمانے کی سیاست اور صحافت میں جس قدر حرف دشنام لکھا اور بولا گیا اس کی مثال ڈھونڈنا بہت مشکل ہو گا۔ اس لیے اس دور سے صرف نظر کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔
بھٹو صاحب کی حکومت کو قائم ہوئے سات آٹھ ماہ ہی گزرے ہوں گے کہ آغا صاحب ایک بار پھر گرفتار ہو گئے۔ میں چھٹیوں میں رحیم یار خان گیا تو نانا جان نے ان کی گرفتاری کی تفصیل دریافت کی۔ مجھے اخباروں میں شائع ہونے والی خبروں کے علاوہ بھی کچھ معلوم تھا۔ میری بات سن کر نانا جان نے فارسی کی ایک کہاوت سنائی کہ طوائف اور چیچک نکلے بغیر نہیں رہ سکتے۔ کہنے لگے اسی طرح آغا شورش جیل جائے بغیر نہیں رہ سکتے۔
میں اس وقت بی اے کا طالب علم تھا جب آغا صاحب کی کتاب ”پس دیوار زنداں“ شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب کی بہت پذیرائی ہوئی تھی۔ جتنے تبصرے اس کتاب پر ہوئے اور جتنے کالم لکھے گئے، ان کا شمار بھی شاید مشکل ہو۔ آغا صاحب کے مخالفین نے بھی اس کتاب کی خوب داد دی تھی۔ یاد پڑتا ہے جوش ملیح آبادی صاحب نے بھی بہت عمدہ اور پرلطف تبصرہ لکھا تھا۔ اس پرمصائب دور کی آغا صاحب نے اپنی ایک نظم میں بہت عمدہ عکاسی کی ہے:
ہم نے اس وقت سیاست میں قدم رکھا تھا
جب سیاست کا صلہ آہنی زنجیریں تھیں
اس کے برس دو برس بعد آغا صاحب کی سوانح ”بوئے گل، نالہ دل، دود چراغ محفل“ بھی شائع ہوئی تھی۔ لیکن اس پر زیادہ تر خاموشی چھائی رہی تھی۔ وجہ شاید یہ تھی کہ اس میں بہت کچھ سرکاری بیانیے سے ہٹا ہوا تھا۔ ذاتی طور پر مجھے یہ کتاب بہت پسند ہے۔ اس زمانے میں بھی اس کو بہت ذوق و شوق سے پڑھا تھا۔ پھر یہ کتاب میرے پاس نہ رہی۔ تقریباً چالیس برس بعد میں نے یہ کتاب دوبارہ خرید کر پڑھی ہے تو اب بھی اچھی لگی، اگرچہ اس بار پسندیدگی کی وجوہ کچھ اور ہیں۔ یہ کتاب ایک سیاسی ورکر کی عبرت ناک سرگزشت ہے۔ ایک مخلص سیاسی کارکن کو کس طرح لیڈر حضرات اپنی دسیسہ کاریوں کا ہدف بناتے اور اس کا استحصال کرتے ہیں۔ بعض بلند قامت شخصیات اس کتاب کے صفحات پر اپنے قد سے کم نظر آتی ہیں۔ اس کتاب کی نثر بہت شاندار ہے۔ آغا صاحب کی سیاسی سرگزشت پر ان کے اپنے اشعار میں بڑا دل گداز تبصرہ موجود ہے:
بارہا سختی قانون کا دل ڈوب گیا
میری للکار سے انگریز کے ایوانوں میں
اب میں اک تہمت بے جا کے سوا کچھ بھی نہیں
دس برس کاٹ کے پنجاب کے زندانوں میں

جب میں گورنمنٹ کالج میں سٹوڈنٹس یونین کا صدر منتخب ہوا تو یونین کے سالانہ اختتامی اجلاس کے لیے آغا صاحب کو بطور مہمان خصوصی بلانے کا فیصلہ ہوا۔ میں کالج میں جمعیت کے ناظم راؤ سعادت کو ساتھ لے کر میکلوڈ روڈ پر چٹان کے دفتر گیا اور آغا صاحب سے ملاقات کی۔ میں نے جب انھیں بتایا کہ ہم انھیں اپنے جلسے میں شرکت کی دعوت دینے آئے ہیں تو آغا صاحب نے بآواز بلند کہا ناں بھئی ناں۔ راؤ سعادت اس قدر کورا جواب سن کر پریشان ہو گئے۔ مجھے آغا صاحب کی طبیعت اور مزاج کا اندازہ تھا، اس لیے میں وہاں بیٹھا رہا۔ جب دس پندرہ منٹ گزر گئے تو آغا صاحب نے پوچھا جی جناب۔ میں نے اپنی بات پھر دہرائی۔ آغا صاحب کا وہی جواب تھا۔ میں طالب علموں کے اجتماعات میں عام طور پر نہیں جاتا اور آپ کے کالج میں تو آج تک نہیں گیا۔ صرف ایک بار اے کے بروہی صاحب سے ملنے گیا تھا جو کالج کے پرنسپل پروفیسر سراج الدین کی کوٹھی میں ٹھہرے ہوئے تھے۔
اب راؤ سعادت کو حیرانی ہو رہی تھی کہ میں اٹھ کیوں نہیں رہا۔ میں نے کان میں کہا خاموشی سے بس دیکھتے جاﺅ۔ کوئی ایک گھنٹہ گزر گیا۔ ہر بار میرا وہی سوال اور آغا صاحب کا وہی جواب تھا۔ میں نے کہا آغا صاحب ہم آپ کو اٹھا کریہاں سے چار سو میل دور رحیم یار خاں لے گئے تھے، گورنمنٹ کالج بہت نزدیک ہے۔ ہم آپ کو کالج لے کر جائیں گے۔ میری اس جسارت پر وہ حیران تو ہوئے لیکن جواب انکار میں ہی تھا۔ خیر کوئی تین گھنٹے کی رد و کد کے بعد آغا صاحب نے کسی قدر حامی بھری اور کہا کہ میں کل فائنل جواب دوں گا۔ اگلے روز جب میں حاضر ہوا تو کہنے لگے کہ میں نے ڈاکٹر جاوید اقبال اور مجید نظامی سے بھی مشورہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ مجھے ضرورجانا چاہیے۔ لیکن پھر وہی بات یار میں کبھی آپ کے کالج میں نہیں گیا، مجھے کچھ گھبراہٹ ہوتی ہے۔ لیکن بالآخر وہ مان گئے اور اس طرح بخاری آڈیٹوریم میں مئی 1974 میں آغا صاحب نے خطاب کیا اور طلبہ میں انعامات تقسیم کیے۔
آغا صاحب وسیع المطالعہ شخص تھے، زود نویسی میں کمال کا ملکہ رکھتے تھے۔ نثر کا انوکھا رنگ اور آہنگ تھا۔ ان کی مخصوص لفظیات تھیں جن کا استعمال فراوانی سے کرتے تھے۔ یاران سرپل، دست آموز شاہ، خوان استعمار کے زلہ ربا، کلائیو زادے، جیب کی گھڑی، ہاتھ کی چھڑی اور حریف بذلہ جیسی تراکیب آج بھی یاد ہیں۔ ارتجالاً شعر گوئی کا بہرہ وافر میسر تھا۔ ان کی سیاسی شاعری کا اپنا انداز تھا جو ان کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ فن خطابت میں احراری انداز خطابت کے آخری نمائندہ تھے۔ ان کی شخصیت ہنگامہ پرور اور ہنگامہ آفریں تھی۔
بیالیس برس قبل 24 اکتوبر 1975 کو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور لاہور شہر کی کتنی ہی سیاسی، ثقافتی رونقو ں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ آغا صاحب نے اپنے بارے میں کہا تھا اور کیا خوب کہا تھا:
ہمارے بعد کہاں یہ وفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے ہمارا جواب لائے گا







