تصویریں اکساتی ہیں


جمالیاتی حسِ لطیف کس میں نہیں ہوتی۔ ہر انسان کو خوبصورت شکلیں پسند ہیں۔ ہمیں بھی پسند ہیں، اسی لیے احتیاط کرتے ہیں۔ لپ اسٹک لگائے بغیر آئنہ دیکھتے ہیں نہ ہی تصویر کھنچواتے ہیں۔ ویسے یہ لپ اسٹک بھی خدا کی بڑی نعمت ہے۔ پرس میں پیسے ہوں نہ ہوں، لپ اسٹک ضرور رہتی ہے۔ جب ’ ہم سب ‘ سے تعارف ہوا تو اس رسالے کی یہی بات اچھی لگی کہ لکھنے والے کی تصویر کے ذریعے اس کی تحریر اور شخصیت کو بھی سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ہمارے اس دعوے کو تقویت وسعت اللہ خان کی تصویر اور تحریر نے دی۔ کیا تصویر ہے اور کیا تحریر ہے۔ یہ ہی سوچ کر صرف اسی لیے اس رسالے میں لکھنے کی جانب مائل ہوئے۔ کہا گیا کہ مضمون کے ساتھ تصویر بھی ہو تو بہتر ہے۔ اس بہتر کو ہم نے اپنے لئے ضروری سمجھ لیا۔ بچوں کی شامت آگئی، مختلف پوز میں تصا ویر کھنچوائیں گئیں۔ کسی تصویر سے بھی مطمئن نہیں۔ میاں نے بڑے پیار سے سمجھایا کہ اس سے اچھی تصویر صرف اسی صورت میں آسکتی ہے کہ تم چہرے پر نقاب ڈال لو۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی اچھی تصویر اور تحریر کی۔ اب دیکھیے یہ عدنان خان کاکڑ کی تحریر اور تصویر دونوں اچھی ہیں۔ یہ ہماری ڈاکٹر لبنیٰ مرزا، تصویر اور تحریر دونوں میں اپنی مثال آپ ہیں۔ لینہ حاشر کو دیکھیے، کمال تصویر و تحریر۔ مریم نسیم ، ڈاکٹر غزالہ قاضی ، تحریم عظیم ، رامش فاطمہ اور دگر محترم خواتین لکھاریوں کی مسکراتی خوب صورت تصویریں مجھے تحریر پڑھنے پر اکساتی ہیں۔

اچھا یہ جو پڑھے لکھے سوچنے سمجھنے والے ’ لوگ ‘ ہوتے ہیں۔ یہ بڑے مغرور ہوتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ جیسے ہیں، جہاں ہیں، کی بنیاد پر سراہے جائیں تو ٹھیک ورنہ انہیں کوئی پروا نہیں ہے۔ ان کا یہ بے نیازانہ انداز اور ضدی پن ہی فطرت کو بھا گیا ورنہ۔۔۔۔

اب اگر تصویر اچھی نہیں آتی تو بندہ فرنود عالم کی طرح کوٹ والی تصویر بھی دے سکتا ہے یا پھر یاسر پیر زادہ کی طرح کرسی پر بیٹھ کر ہی شان بڑھا سکتا ہے۔ نصرت جاوید کی طرح اسٹائل سے سگریٹ پکڑ سکتا ہے۔

یہ حسنین جمال بھی اچھا لکھتے ہیں مگر تصویر تبدیل کر لیں تو ہمارے دعوے کی مزید تائید ہو سکے گی۔ کچھ لوگوں کی تصویر نے ہمارے دعوے کو شدید مات دی مگر ہم اب بھی اپنی بات پر قائم ہیں اگر یہ سب لوگ منہ دھونے کے بعد تصویر کھنچوا کر ’ہم سب‘ پر بھیج دیں تو اس کی مقبولیت کی اڑان آسمانوں کو چھو سکتی ہے۔ لیکن پھر ہمارا کیا ہو گا۔

ہاں کبھی کبھی عنوان نے بھی پڑھنے کی جانب راغب کیا لیکن خوب صورت تصویر کی بات الگ ہے۔ جس کی تصویر سب سے خوب صورت اس کی تحریر پہلے پڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دانشوروں کی تحریر وں کو عنوان کے زور پر پڑھا۔ اب صرف ان کے نام دیکھتے ہیں اور پورا مضمون پڑھ ڈالتے ہیں۔ حاشر ابنِ ارشاد نے تو ٹھان رکھی ہے کہ خا لصتاً صحا فیانہ تاثرات دینے ہیں ، اگر کاندھے سے کپڑا ہٹا لیں اور کائنات کے مسائل کو کچھ دیر کے لیے بھول جا ئیں تو بھی افاقہ ہو سکتا ہے۔

تصویریں اکساتی ہی نہیں ہیں بولتی بھی ہیں۔ جیسے ڈاکٹر خالد سہیل کی تصویر سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ وہ نہ ٹینشن دیتے ہیں نہ لیتے ہیں۔ آزاد رہنا چاہتے ہیں لہٰذا دوسروں پر بھی کوئی قدغن نہیں لگاتے۔ وجاہت مسعود کی تصویر سے اگر کرختگی کم ہو جا ئے تب شاید تحریر میں گھمبیرتا کم محسوس ہو۔ مجاہد مرزا اگر اپنی تھوڑی سی مسکراہٹ وجاہت مسعود کو دے دیں تو ملک میں بحرانی کیفیت کم ہو سکتی ہے۔

(محترمہ عفت نوید باقی تو سب ٹھیک ہے۔ حسنین جمال کو تصویر بدلنے کا مشورہ دے کر آپ نے بھائی عدنان خان کاکڑ کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ حسنین تو یوں بھی، آئینہ دیکھ کہتی تھیں، اللہ رے میں۔۔۔ کا نمونہ ہیں۔ اب تو ایک سو نئی تصاویر سے عدنان مدیر کا قافیہ تنگ کر دیں گے۔ آپ نے "ہم سب” گھرانے سے التفات کیا، آئیے، آپ کو اواخر ستمبر 2017 کی ایک شام میں شریک کرتے ہیں۔ مدیر)

Facebook Comments HS