بریانی کی پلیٹ کے عوض بِکنے والے

ایک پنجابی محاورہ ہے، ”جیہڑابولے اوہو بوہا کھولے“، اس کا متبادل اردو محاورہ یوں ہے، ”جو بولے سو گھی کو جاوے“، یا ”جو بولے وہی پانی بھرنے جاوے“۔ ڈرامے کی یہ بیچ کی اقساط لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپ دی گئی۔ انھی دنوں میں ایک نیوز چینل میں پروڈیوسر کے فرائض سرانجام دے رہا تھا؛ وقت کی قلت کا بہانہ کیا، لیکن دوست کے اصرار پر ہار مان لی۔ کچھ دن بعد کسی مسئلے پر چینل کے سینئر پروڈیوسر سے اختلاف پیدا ہوگیا، اتنا بڑھا کہ میں استعفا دے کر اسی دوست کے دفتر آیا۔ تین دن بعد اسی ڈرامے کی شوٹ تھی، دوست نے کہا، اپنے لکھے کو ڈائریکٹ بھی کردو۔
کراچی کورنگی کھاڑی کے ساحل پر ابراہیم حیدری نامی مچھیروں کی بستی ہے۔ جس مچھیرے کا گھر ”لوکیشن“ قرار پائی، وہ مچھیروں کی یونین کا کرتا دھرتا بھی تھا؛ نام تھا محمد؛ سب محمد بھائی پکارا کرتے تھے۔ سادہ مزاج شخص تھا، کسی قسم کی لالچ کا مظاہرہ نہ کیا؛ قریب نو دس دن اس بستی میں شوٹ جاری رہی؛ محمد بھائی کی نظروں میں ہم ”صاحب لوگ“ تھے، ان نو دس دنوں میں ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا۔ مثلاً میرے من میں یونھی سمایا، کیوں نا سمندر میں جا کے کچھ شاٹ لیے جائیں؛ محمد بھائی سے کشتی کے انتظام کرنے کا پوچھا، تو محض پانسو رُپے ایندھن کی مد میں مانگے گئے، جب کہ ہم کشتی کا کرایہ بھی دینے کو تیار تھے۔ اسی طرح ایک جرگے کا منظر رِکارڈ کرنا تھا؛ محمد بھائی سے پوچھا، کچھ مچھیروں کو اکٹھا کرسکتے ہیں، تاکہ مجمع لگے؟ جواب میں سوال کیا، کہ ”کھانے کی ایک دیگ بنوادیں گے؟ “ میری استفسارانہ نگاہوں کے جواب میں لائن پروڈیوسر نے حامی بھرلی۔
نیوز چینل میں میرا استعفا قبول نہیں ہوا، بل کہ میری شکایت کا ازالہ کردیا گیا۔ کہا گیا کہ آکے جوائن کروں۔ میں نے صاف صاف کہ دیا کہ دو ہفتوں سے پہلے نہیں لوٹ سکتا، وجہ بھی بتائی کہ رِکارڈنگ میں مصروف ہوں۔ میری اس بے باکی کی ایک وجہ یہ تھی، کہ میرا ارادہ ہی نہیں تھا کہ لوٹ کے جاوں گا۔ ”سب رنگ“ ڈائجسٹ کے مدیر شکیل عادل زادہ میرے پیر و مرشد ہیں؛ رِکارڈنگ سے فرصت ملتے ہی ان سے ملاقات کے لیے گیا۔ انھیں خبر ہوئی کہ میں نے ملازمت سے استعفا دے دیا ہے، تو خوش نہیں ہوئے۔ فرمایا کہ کتاب بھی تبھی خریدی جاسکتی ہے، جب جیب میں رقم ہو۔ جیب خالی ہو تو کتاب پڑھنے کو جی نہیں کرتا۔ ان سے ملاقات کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے استعفا واپس لے لیا۔
ابراہیم حیدری کی لوکیشن پہلی بار میں نے دریافت کی تھی، اس کے بعد اندرون سندھ کا منظر دکھانے کے لیے بہت سے پروڈیوسرز نے اسی بستی کا رُخ کیا، کہ اخراجات کم اٹھتے ہیں۔ محمد بھائی کو ہمی میں سے کچھ نے سکھا دیا کہ جو خدمات آپ مفت میں فراہم کرتے ہیں، اس کی پروڈکشن ہاوس کی طرف سے فیس ادا کی جاتی ہے۔ پھر یوں ہوتا چلا گیا کہ انھی لوکیشنز کے بھاؤ بڑھتے گئے، جو کبھی سستے داموں دست یاب تھیں۔ علاقے کا ”کرتا دھرتا“ پروڈیوسر سے اپنی فیس لے لیتا ہے۔ اب اسے جرگے کی منظر کشی کرنا ہو، یا بستی میں چہل پہل دکھانا ہو، اس کے لیے چاول کی ایک دیگ کا خرچہ اضافی ہے، بہت سے ”ایکسٹرا“ اکٹھے کیے جاسکتے ہیں، ان کی قیمت کوارڈنیٹر وصول کرلیتا ہے۔ یہ تب تک ہوتا رہے گا، جب تک یہ غریب اس بات کو نہ سمجھ لیں کہ انھیں کیسے بیچا جاتا ہے، اور چاول کی پلیٹ دینے والا ”ان داتا“ نہیں، ان کی لاعلمی کا فائدہ اٹھانے والا ستم گر ہے۔
آپ کہیے، کیا کِیا جائے؟ رِکارڈنگ کرنے والوں کو وہاں جانے سے روک دیا جائے؟ یا رِکارڈنگ ٹیموں کو بھیجا جاتا رہے، ایک نہ ایک دن تو یہ غریب جان لیں گے، کہ ڈرامے بنانے والوں کو ہماری ضرورت ہے، اور اس کی قیمت محض چاول کی ایک پلیٹ نہیں ہوتی!
فرصت ملے تو یہ بھی سوچیے گا، ووٹ دینے والوں کو ہم یونھی حقارت کا نشانہ بناتے ہیں، کہ ایسے ووٹر بریانی کی ایک پلیٹ کے بدلے ووٹ دے دیتے ہیں؛ سو ان کے ووٹ کی کیا وقعت! یہ دلیل ہم اس برتے پر دیتے ہیں، کہ ہم باشعور ہیں، اور یہ ان پڑھ اور غریب لوگ جاہل ہیں۔ دیکھا جائے تو انھیں بے شعور رکھنے میں ہمارا بھی کردار ہے۔ کسی نہ کسی سطح پر ہم استحصال کرنے والوں کے معاون ہوتے ہیں۔ ہم غاصبین کی حمایت کرتے ہیں، غاصبوں کے گن گاتے ہیں، اور ووٹ کی حرمت کا سوال آئے تو رعیت کو جاہل کہ کر ان پر ڈنڈے کے زور سے حکمرانی کو جائز قرار دینے لگتے ہیں۔

