جی ہاں، مدارس کے طلبہ کا ذہنی لیول


لکھنا میرا شوق ہے اور بلا وجہہ کسی بحث کو طول دینے سے مجھے چڑ ہے۔ مدارس کے طلبہ کے ذہنی لیول پر شائع مضمون کے جواب میں ایک مفتی صاحب نے مضمون لکھا، جس میں میری دانست اول الذکر مضمون کے تسلی بخش جوابات نہیں دیئے گئے تھے۔ میں نے مضمون لکھ کر اس سلسلہ میں کچھ سوالات اور اپنا موقف سامنے رکھا۔ مفتی صاحب کو شائد اپنے ارشادات پر اعتراض ناگوار گذرا اس لئے انہوں نے ایک اور مضمون میں میرے سوالات پر اپنا نقطہ نظر سامنے رکھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مفتی صاحب نے جو ٹھان رکھی ہے میرے چند ایک مضامین کی بنیاد پر وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ان کے جوابی مضامین کو میں اطمینان بخش اور مدلل نہیں پاتا جو اپنے موقف سے رجوع کر سکوں، اس لئے بحث کا یہ سلسلہ اس مضمون کے بعد میں آگے نہیں بڑھاؤں گا بھلے ہی مفتی صاحب کوئی جوابی مضمون تحریر فرمائیں یا نہ فرمائیں۔ مفتی صاحب کے تازہ ترین مضمون سے ایک بات واضح ہے کہ انہوں نے میرے مضمون کو نہیں سمجھا۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل نکات پیش کرنا چاہوں گا۔

 مفتی صاحب کی اتنی طویل جوابی تحریر کو پڑھ کر میں واقعی نہیں سمجھ سکا کہ وہ کہنا کیا چاہ رہے ہیں؟ ایک پرانا مقولہ بھی ہے کہ اتنا بولے لیکن کہا کیا؟ مجھے پھر افسوس کا اظہار کرنا پڑے گا کہ اگر ہم اپنی بات مختصر اور جامع انداز میں نہیں رکھیں گے تو سامنے والا کیا سمجھے گا؟ کچھ کہتے وقت خير الكلام ما قل ودل کا معیار سامنے رکھنا چاہئے یعنی اچھی بات وہ ہے جو مختصر اور مدلل ہو۔ اب یہی بتائیے کہ اگر مدارس کا کام دعوت و تبلیغ ہے تو اسلام کی یہ نشر و اشاعت اس وقت تک کیسے ممکن ہے جب تک ہمارے پاس اپنی بات کہنے کا بہترین اور دلنشین ڈھنگ ہی نہ۔ بات کو اتنا زیادہ چباتے رہنا مناسب نہیں کہ وہ کسیلی چیونگم بن جائے۔

مدارس والے جدید علوم کو علم نہ مان کر محض فن مانتے ہیں تو وہ اس کے لئے آزاد ہیں، وہ چاہیں تو جدید علوم کو نری جہالت بھی کہہ سکتے ہیں لیکن اس سے جدید علوم کی افادیت کا کیا بگڑے گا؟ جدید علوم کی اہمیت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ اسے علم نہ ماننے والے بھی اس کے بغیر زندگی گذارنے سے قاصر ہیں۔ جدید علوم کو علم نہ مان کر فن بتانا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ابھی بہت سوں کو علم کی تعریف بھی نہیں معلوم۔ کسی شے کے جاننے کو علم کہا جاتا ہے۔ اب میرے محترم افراد نے اگر سائنس کے سلسلہ میں پڑھا ہو تو انہیں پتہ ہوگا کہ سائنس کا پورا مقدمہ ہی انسان کی زندگی اور اس کائنات کے عرفان پر ٹکا ہوا ہے۔ سائنس رٹو طوطے کی طرح چیزوں کو آگے دھکیل دینے کا نام نہیں ہے اس میں ہر بات کی منطقی بنیادوں کو کھوجا جاتا ہے۔ سائنس ہی کیا تاریخ، جغرافیہ، معیشت، قانون، سیاسیات، ترسیل عامہ یہ سب بھی کسی نہ کسی شے کو جاننے کی جستجو کے دروازے ہیں۔ فن کا تعلق کسی ایک چیز کو سیکھ کر اس جیسی شے کی تخلیق یا اس شے کی مرمت سے ہے۔ اگر اب بھی میرے بھائی جدید علوم کو فن ماننے پر اڑے ہیں تو اڑے رہیں۔

مفتی صاحب ، گیلیلیو کے بارے میں تو جانتے ہی ہوں گے۔ اس عظیم ماہر فلکیات نے اپنی دوربین کی مدد یہ یہی تو دریافت کیا تھا کہ ہماری زمین سمیت نظام شمسی کے تمام سیارے سورج کا طواف کر رہے ہیں۔ اس کی اس بات پر چرچ نے اس کا کیسا جینا حرام کیا، یہ تاریخ کے صفحات پر درج ہے۔ مذہبی ٹھیکیداروں نے انہیں زندان میں ڈال دیا، انہيں زبردستی معافی مانگنی پڑی اور اس کے بعد بھی انہیں گھر میں نظر بند رہنے کا حکم دیا گیا۔ اسی حالت میں وہ عظیم سائنسداں دنیا سے چلا گیا، لیکن آج پوری دنیا اس کی بات مانتي ہے اور کیتھولک عیسائیوں کے اعلیٰ ترین مرکز کو صدیوں بعد گیلیلیو پر ہوئے مظالم کے لئے معافی مانگنی پڑی۔ بس میری اتنی سی گذارش ہے کہ اس وقت کے چرچ سے متعلق افراد بھی کٹھ حجتی اور احساس برتری میں مبتلا تھے، انہیں یہ گوارہ ہی نہیں تھا کہ ان کي بے عملي سے پيدا جمود کو توڑ کر جدید علوم سے کائنات کے اسرار و رموز کو وا کیا جائے۔

 قرآن مجید جب کائنات پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تو اس کا مقصد وہ نہیں جو مفتی صاحب فرما رہے ہیں بلکہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان اس کائنات میں پھیلی اللہ کی نشانیوں کو سمجھے، کائنات کی گہرائیوں میں جائے اور بنی نوع انسانی کی فلاح کے لئے علم و حکمت کے ذریعہ انسان کی زندگی کی آسانی کے دروازے وا کرے۔ یہ عمل نہ صرف قرآن کی دعوت پر لبیک کہنا ہوگا بلکہ یہی انسان کو اللہ کی طرف عطا کی گئی عقل کی نعمت کا شکرانہ اور صحیح استعمال بھی ہے۔ جمود کے بجائے تدبر اور غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے قرآن اہل مدارس سمیت سب کا شانہ بار بار ہلا رہا ہے۔ اب اگر کسی کو نہیں جاگنا تو پڑا سوتا رہے۔ ایسی کچھ آیات مندرجہ ذیل ہیں جن کا مضمون یہ واضح کر رہا ہے کہ اسلام میں کائنات پر غور و فکر کا کیا مطلب ہے؟

کیا وہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی سمیت اللہ تعالی کی تمام مخلوقات میں غور و فکر نہیں کرتے؟ (الاعراف:185)

آسمانوں اور زمین میں غور و فکر کرو کہ ان میں کیا کچھ ہے(يونس:101)

آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں، دن اور رات کے آنے جانے میں اہل دانش کیلیے نشانیاں ہیں(آل عمران:190)

نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ مہتاب کو پکڑے اور نہ رات دن پر آگے بڑھ جانے والی ہے اور سب کے سب فلک میں تیرتے پھرتے ہیں(يٰس:40)

اب ذرا بتائیے کہ مندرجہ بالا آیات میں جس غور و فکر کی دعوت ہے، اس میں سے کتنا مدارس میں ہوا ہے؟ آپ جب فرماتے ہیں کہ دیکھو دیکھو آج جو سائنس کہہ رہی ہے وہ تو قرآن نے چودہ سو برس پہلے کہہ دیا، کیا آپ اس وقت یہ نہیں کہہ رہے ہوتے ہیں کہ قرآن میں یہ اسرار و رموز موجود تھے لیکن ہم حاملین قرآن ہونے کے دعویدار ہونے کے باوجود ان کو نہیں سمجھ پائے اور سائنس والوں نے ان کا کائنات کے ساتھ ملان کر کے تصدیق کر لی۔ میں مدارس میں کائنات پر غور و فکر والی بات کیسے مان لوں جب میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ قرآن کی دعوت پر مدارس نہیں بلکہ فزکس کے طلبہ لبیک کہہ رہے ہیں۔ ایک بات اور، اگر محققین نے یہ بات دریافت نہ کی ہوتی کہ آسمانوں میں موجود تمام اجسام تیر رہے ہیں تو آج غیر مسلم افراد قرآن پڑھ کر کیسے انگشت بدنداں ہوتے کہ اس عظیم کتاب میں کیسے کیسے علم و حکمت کے خزانے ہیں؟ آپ کو برا تو لگے گا لیکن میں یہ کہے بغیر نہیں رہوں گا کہ قرآن کی عقلی تفہیم میں ہمارے سائنسدانوں کا بڑا حصہ ہے۔ ایک بڑے عالم دین نے کیا خوب کہا تھا کہ سائنس کی کتابیں دراصل توحید کی کتابیں ہیں۔

مفتی صاحب، اس خوش فہمی میں جینے کے لئے آزاد ہیں کہ بنا قرآن و حدیث پر صحیح معنی میں تدبر کئے بھی وہ تمام علوم کے مائی باپ کہلانے کے حقدار ہیں۔ میں مفتی صاحب کے مزید کسی اعتراض کو اس قابل نہیں پاتا کہ ان کا جواب لکھ کر ہم سب کے قیمتی صفحات کو ضائع کیا جائے۔ مفتی صاحب کو مدارس کے حوالہ سے کچرا لفظ سے بہت تکلیف پہنچی لیکن ان کے پاس اس بات کی کیا تاویل ہے کہ وہ علم اللہ اصلاحی کے مضمون کو مضمون نگار کی ذہنی تنزلی سے جوڑنے کا سستا طنز کر رہے ہیں۔ مفتی صاحب جیسے سنجیدہ افراد پر یہ چھچھوری حرکت زیب نہیں دیتی۔ مفتی صاحب کا دل دکھا تھا، ان کے مضمون پر سوال اٹھے تھے تو انہیں لگا ہوگا کہ اگر میں چپ رہا تولوگ نہ جانے کیا سوچیں گے اس لئے انہیں کچھ تو کہنا ہی تھا سو انہوں نے کہہ دیا، لیکن معاف کیجئے انہوں نے جواب نہیں دیا۔

Facebook Comments HS

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 117 posts and counting.See all posts by malik-ashter