عورت اور سندھ یونیورسٹی کے بھیڑئیے


جام شورو کی تیز اور چنچل ہوائیں کا ذکر سندھ کے انقلابی شاعر شیخ ایاز کی شاعری سے لیکر سرکش، حلیم باغی اور سعید میمن کے مقبول گیتوں میں ملتا ہے جن گیتوں کو سن کر بندہ جام شورو میں گزارے ہوئے دن رات اور محبت کی داستانوں میں دوبارہ کھو جاتا ہے۔ مگر لگتا ہے کہ آہستہ آہستہ یہ حسین یادیں دھیمی پڑتی جا رہی ہیں.

سندھ یونیورسٹی جام شورو جہاں علامہ آئی آئی قاضی اور ان کی جرمن نژاد بیوی ایلسا قاضی کی پیار و محبت اور علم دوستی کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ جہاں کے گرلز ہاسٹل جس کو ماروی ہاسٹل کہا جاتا ہے۔ ماروی کے نام کی سندھ کے صوفی شاعر شاہ لطیف نے اپنے کلام میں جرات اور پاکیزگی کی مثالیں دی ہیں۔ ایک وہ وقت تھا جب سندھ یونیورسٹی اور ماروی ہاسٹل کو خواتین طالبات کے لیے محفوظ ترین سمجھا جاتا تھا اور کسی مائی کے لال میں جراُت نہ تھی کہ وہ کسی لڑکی کو بری آنکھ سے دیکھ سکے۔ اور اسی طرح ماروی ہاسٹل اور سندھ یونیورسٹی میں پڑھنے والی مہران کی بیٹیاں بے خوف و خطر اس درس گاہ سے علم حاصل کرتی رہی ہیں۔ سندھ کی قدیم درسگاہ جہاں ایلسا قاضی کی شاعری کی آوازیں گونجتی تھی شاید اب وہ اس گھٹن کی ماحول میں مدہم ہو چکی ہیں۔ اب آئے روز تمام یونیورسٹیوں اور میڈیکل اور انجنیرنگ کالیجز کا ماحول بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ لڑکیاں اب اپنے آپ کو غیر محفوط سمجھ رہی ہیں ابھی تو لوگ سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں نائلہ رند کی خودکشی کو بھی نہیں بھولے کہ ایک اور ڈر و خوف اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کی ایک اور داستان منظر نامے پر نمودار ہو گئی ہے۔

علامہ قاضی اور ایلیسا قاضی

سندھ یونیورسٹی کے انسٹیوٹ آف انگلش اینڈ لٹریچر کی طالبات رمشہ میمن اور نسیم ڈیپر کا کھلا خط جو وزیر اعظم پاکستان، گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ، بلاول،بختاور بھٹو زرداری،چیف جسٹس آف پاکستان، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، محتسب اعلیٰ برائے خواتین،وائس چانسلر اور تمام سندھ یونیورسٹی کے اساتذہ جن کی بیٹیاں اور بہنیں بھی اس یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں کو لکھا گیا تھا مگر جواب کہیں سے نہیں آیا ماسوائے چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار کے، جن کی طرف سے اس معاملے پر انتظامیہ سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ بقول رمشہ میمن اور نسیم دیپر کہ ان کے اساتذہ ان کو جنسی تعلقات رکھنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

یونیورسٹیز اور کالجز کے ماحول میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے قصے کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اب تو یہ ایک معمول کی بات بنتی جا رہی ہے۔ کوئی SMS کرکے جنسی تعلقات رکھنا چاہتا ہے تو کوئی الفاظ کا سہارا لے کر سیکس کرنا چاہتا ہے تو کوئی نظروں سے گھور کر، کوئی پاس کرنے کے بہانے تو کوئی نوکری دلوانے کے بہانے۔ تمام بھیڑیے نما یہ افراد ہمارے معاشرے میں موجود ہیں چاہے وہ اساتذہ کے روپ میں ہوں یا پھر باس کے روپ یا پھر کلاس فیلو کے یا پھر ساتھ کام کرنے والے ایک ساتھی کے روپ میں۔ روزانہ عورت کو گھر سے نکلتے ہوئے بس اسٹاپ،آفس یا پھر درس گاہوں تک ان تمام اقسام کے بھیڑیوں کی نظروں سے گذر کرجانا پڑتا ہے۔ جتنا زیادہ چالاک بھیڑیا ہو وہ اتنا ہے تیز شکار کرتا ہے کبھی شادی کرنے کے بہانے لڑکیوں کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں تو کبھی معاشی اور سماجی گول چکر میں پھنس کر عزتیں لٹ جاتی ہیں۔ مگر افسوس کہ زیادہ تر واقعات کے منظر نامے پر آنے سے پہلے ہی عورتوں کی عزیتں تباہ ہو چکی ہوتی ہیں۔ گھر اور سماج کے ڈر و خوف سے خواتین کی زبانوں پرتالے لگ جاتے ہیں اور بات دل میں ہی رہ جاتی ہے۔ کیوں کہ اگر بات زبان سے باہر نکلی تو لڑکی کی ہی بدنامی ہوگی۔

کہیں پر سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر فتح محمد برفت جیسے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں اور تمام باتیں ان کے عِلم میں ہوتے ہوئے بھی نوٹس نہیں لیا جاتا اور کئی نام نہاد انسانی حقوق کے عملبردار اور خواتین کی حقوق کی چیمپیئن بھی لب کشائی نہیں کرتیں کیوں کہ ان کی بہن بیٹیوں کی عزتیں تو محفوظ ہوتی ہیں۔ اور دوسری طرف ٹیچرز اسیوسی ایشن سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر انتظامی سیٹوں پر قابض ہو کر طاقتور بن جاتی ہیں اور کوئی بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ کسی دور میں سندھ کی قوم پرست تنظمیں خواتین کے تحفظ کی دعویدار ہوا کرتی تھیں شاید اب وہ گہری نیند سو چکی ہیں۔ اور جنسی طور پر ہراساں کرنے والے اساتذہ کو کیا پتہ علم و ادب اور استاد کے مقام کا۔ اب اس طرح کے ماحول میں کون بھیجے گا اپنی بہن اور بیٹیوں کو ان درس گاہوں میں۔ پہلے ہی ہمارے معاشرے میں خواتین پر فتوے زیادہ لگتے ہیں اور ہر کام کا ذمہ دار اسی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ سندھ کے اساتذہ جنھوں نے علم و ادب کے لیے بہت کام کیا تھا لیکن اب لگتا ہے کہ وہ انھیں ایلسا قاضی کی نظم “دی نیم ٹری” کی طرح بھلا چکے ہیں۔ مگر سندھ یونیورسٹی کے انسٹیوٹ آف انگلش اینڈ لٹریچر کی طالبات جیسی بہت ساری خواتین خراج تحسین کی مستحق ہیں کہ انہوں نے اس بے حس اور مکار معاشرے کے بھیڑیوں سے لڑنے کی جراُت کی اور جنسی طور پر ہراساں کرنے والوں کے خلاف اپنی آواز بلند کی یقیناً ان کی یہ جہدوجد ایک دن رنگ لائے گی اور نیم کے سایہ دار درخت کی طرح ہمارے اس گھٹن کے شکار معاشرے کو آکسیجن فراہم کرے گی۔

The Neem Tree

My lovely Neem,

That intercepts sun’s scorching beam,

Yet bears the heat all day

Without the rain’s refreshing spray,

Thou charm’st the wanderer’s woe away

With soothing shade

How strong you are, how unafraid,

How green thy leaves inspire of all

The mid-day flames that burning fall

Upon thy unprotected head ……….

Could man be both as thou and rise

Above the earth, with the sheltering arm

To save the suffering ones from harm,

From sorrows, poverty and vice

Through sacrifice

Could man be steadfast, and like thee

Face every fate, would it not be

Fulfilment of life’s loftiest dream

My lovely Neem!

By: Mrs. Elsa Kazi    

Facebook Comments HS