کھوجی آنٹیاں

کیا ایک انسان ہونے کے ناتے ہر فرد کا بنیادی حق نہیں ہے کہ وہ اچھی زندگی بسر کرے ،اچھی تعلیم حاصل کرے،اپنے خواب پورے کرے۔؟ہم ہمیشہ سے یہی سمجھتے آ رہے ہیں کہ مرد چاہتا ہی نہیں عورت خود مختار ہو اور اس کے ہم پلہ، ہم قدم ہو کر چلے مگر المیہ تو یہ ہے کہ مرد وں سے کئی زیادہ عورتیں ہی ہیں جو عورت کے آزاد ،خود مختار ہونے میں کسی ولن سے کم رول ادا نہیں کر رہیں۔ ہماری آنٹیوں کا ہر محفل میں پہلا سوال یہی ہوتا ہے، بھئی بیٹی کی شادی نہیں ہوئی ؟ کوئی لڑکا نہیں دیکھا ؟ بہن عمر گزر جائے گی۔
اگر شادی ہو جائے تو اگلے ہی کچھ مہینوں میں بچے کے متعلق سوالات شروع ہو جاتے ہیں۔ بچہ کیوں نہیں ہو رہا ؟ اگر ایسا کچھ ہے، تو پھر اگلا سوال بیٹا ہے یا بیٹی ؟ مطلب کیا ؟ آپ اتنی غیر ضروری فکریں کریں گی تو بہت جلد بوڑھی ہو جائیں گی اور کسی مہنگے سیلون کا ٹریٹمینٹ بھی آپ کے چہرے پر ابھرتی جھریوں کو روک نہیں سکے گا۔
بات آجائے عورت کے کردار کی تو کیا صرف کالج یونیورسٹی جانے والی یا کسی دفتر کسی کمپنی میں نوکری کرنے والی خاتون کے ہی قصے سننے کو ملتے ہیں ؟ نہیں نہیں ، چادر چار دیواری میں بیٹھی عورت بھی اگر راہ راست سے بھٹکنے لگے تو اسے بھی کسی نوکری یا کالج یونیورسٹی کے آسرے کی ضرورت نہیں ہو گی، تو برائے مہربانی اس اس معاملے کا ملبہ پڑھائی یا نوکری پر نہ ہی ڈالیں تو بہتر ہو گا۔
راہ راست کا انتخاب کرنے کے لئے بھی تو شعور کی ضرورت ہے جو تعلیم سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ قدیمی سوچ کی بوسیدہ دیواروں میں محصور ہو کر، اچھے برے ، صحیح غلط کی پہچان نہیں ہو سکتی۔
شادی ،بچے اور ایک عمر گزارنے کے بعد آپکو تو بخوبی اندازہ ہو چکا ہو گا کہ ایک لڑکی کے لئے شعور مند ہونا کتنا ضروری ہے۔جو مشکلات آپ نے اپنے دور میں دیکھیں آپ کیوں چاہتی ہیں کہ آنے والی نسلیں بھی اسی عذاب سے دو چار ہوں ؟آپ نے آج کے دور کے فیشن تو اپنا لئے تو پھر اس سوچ سے متفق کیوں نہیں ہیں ؟جو آج کی سوچ ہے، آج کے دور کے مطابق آج کی ضرورت ہے ۔
براہ کرم اپنے گیٹ ٹوگیدرز میں دوسروں کی بیٹیوں بہوووں پر تبصر ے کرنے سے بہتر ہے کہ آپ یہی وقت اپنی بیٹیوں کی تربیت پر
صرف کریں تا کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کر سکیں اوروہ آنٹیاں جو زیادہ پڑھی لکھی اور نوکری والی بہو لانے کے حق میں نہیں شاید ان کو گھر پر ٹکٹکی چڑھانے کے لئے کوئی چاہئیے کیوں کہ وہ سٹار پلس کے متنازعہ ڈرامے دیکھ دیکھ کر بور ہو چکی ہیں اور ہاں، آپ بھی تو ایک نوکری پر مامور ہیں۔
دوسروں کے گھروں میں ہونے والی ہر نقل و حرکت پر نطر رکھے ہوئے ہیں اور ہروقت کسی نئے قصے کو زیر بحث لانے کی کھوج میں رہتی ہیں۔ اب خدا جانے آپکو اس کا معاوضہ کیا ملتا ہو گا۔

