امریکہ کی بھارت سے محبت اور ہماری معیشت پر بری نظر

اب لطیفہ یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ ہماری ایکسپورٹ میں تقریبا آدھی کمی کا ذمہ دار افغانستان ہے۔ بظاہر بھوکا سا لگتا افغانستان ہم سے تین ارب ڈالر کے لگ بھگ کا
سالانہ تجارتی سامان منگواتا تھا۔ اب اس کا حجم کم ہو کر چالیس پچاس کروڑ ڈالر کے پاس رینگ رہا ہے۔ ہماری معیشت براہ راست ہماری سیکیورٹی پالیسی سے جڑی ہوئی ہے۔ اشرف غنی کا تازہ بیان آیا ہے کہ افغانستان کو بھارت تک راہداری دیں گے تب ہی ہم سی پیک میں شامل ہوں گے۔ جو راہداری اشرف غنی ہم سے بھارت کے لیے مانگتے ہیں وہی راہداری وہ ہمیں تاجکستان کے لیے دینے کو تیار نہیں ہیں۔
عالمی برادری نے پاکستان کی معیشت کا گلا مصنوعی طور پر دبایا ہوا ہے۔ وجہ اس کی بہت سادہ ہے، اور وہ ہماری سیکیورٹی پالیسی ہے۔ افغانستان بھی ہمیں ڈھائی ارب ڈالر کا ٹیکہ لگا چکا ہے۔ یہی افغانستان ہم سے دگنی خریداری کر سکتا ہے اگر ہمارے معاملات اس سے طے ہو جائیں۔ افغان حکومت ابھی ہمیں مزید چڑائے گی اور تنگ کرے گی۔ پاکستان ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگا کر افغان سرحد پر اپنا کنٹرول بہتر کر رہا ہے۔ یہ ہماری طرف سے پیار بھرا اشارہ ہے کہ جاؤ اپنا کام کرو۔ پاکستان میں دہشت گردی کو شکست دی جا چکی ہے اب اس کے آفٹر شاکس آفٹر افیکٹس ہیں، کافی عرصہ موجود بھی رہیں گے۔
پاکستان تو دہشت گردوں کو شکست دے کر تقریباً فارغ ہے۔ امریکی اب بھی طالبان سے نپٹ رہے ہیں۔ افغانستان میں ان کو حیران حیران دیکھ رہے ہیں کہ ان کا کیا کریں۔ کبھی پاکستان پر غصہ آتا ہے کبھی حقانی نیٹ ورک پر رونا۔ پاکستان کو سلامتی کے بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ ایسے میں وہ کبھی بھی اپنے آزمودہ ہتھیار واپس نہیں رکھے گا جب تک اس کے مسائل کا اسے حل نہیں دیا جاتا۔ اس لیے ہمیں حقانی نیٹ ورک پر پیار آتا رہے گا اور امریکیوں کو غصہ۔ ہماری پالیسی کی دنیا کو اگر سمجھ آتی بھی ہے تو وہ اسے ماننے کو تیار نہیں ہے۔
ہمارا دوست ملک چین بھی تنازعات کو تجارت ترقی معیشت وغیرہ سے الگ رکھ کر دیکھنے کا قائل ہے۔ امریکی ہم سے اب افغانستان پر تعاون نہیں مانگ رہے۔ افغان سرحد پر باڑ لگا کر ہم پہلے ہی افغان مسئلے سے خود کو الگ کرتے جا رہے ہیں۔ یہ بہت پریکٹیکل ثبوت ہے کہ نہ تو افغانستان سے پاکستان میں کوئی مداخلت اب ہم ہونے دیں گے نہ یہاں
سے کوئی افغانستان جا کر کچھ کر سکے گا۔ پاکستان کے کیے گئے عملی اقدامات ہی ہیں جن کی وجہ سے امریکیوں نے پاکستان مخالف جماعت الاحرار کی پوری قیادت کو ہی ڈرون کے رکھ دیا ہے۔
ہمارے پرو طالبان میڈیا مجاہدین بھلے ساٹھ فیصد افغانستان پر طالبان کا قبضہ بتاتے رہیں۔ اصل میں یہ قبضہ بارہ پندرہ فیصد سے ہرگز زیادہ نہیں ہے۔ پندرہ فیصد افغان سرزمین پر طالبان کی عملداری ہے مزید بیس فیصد پر وہ حملے کرتے رہتے ہیں۔ وہاں وہ اپنی موجودگی کا احساس دلا کر ساٹھ فیصد قبضے کا تاثر بناتے ہیں۔ ڈیورنڈ لائین پر انتظام بہتر ہونے کے بعد افغان طالبان کو امریکی زیادہ شدت سے نشانہ بنائیں گے۔
طالبان تیزی سے اپنی جوابی کارروائی کی صلاحیت کھونا شروع کریں گے۔ طالبان بڑے سیانے ہیں وہ اس کی نوبت آنے سے پہلے ہی امریکیوں کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہونا چاہیں گے۔ ان کی بس ایک ہی شرط ہو گی کہ ان سے مذاکرات کرنے سے پہلے داعش کی طاقت ہر صورت کم کر دی جائے۔ تاکہ مذاکرات کی وجہ سے ناراض ہو کر لڑائی کو ہی مقصد حیات سمجھنے والے جنگجو داعش سے نہ مل جائیں۔
افغانستان طالبان اور اس سے جڑے وغیرہ وغیرہ سے اب ہمارا تعلق اتنا رہ نہیں جائے گا۔ امریکی جو ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں وہ افغانستان کی بجائے بھارت کو علاقائی لیڈر منوانے کے لیے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ امریکی ابھی جنگ لڑیں ہم سکون سے بیٹھے راستے بنا رہے ہوں۔ اپنی معیشت کو ترقی دیں مزے کریں نوٹ کمائیں۔ امریکہ بھارت کو اپنا مستقبل کا بزنس پارٹنر مان چکا ہے۔ ہم بھارت کی ترقی اور کمائی کے راستے میں پتھر رکھ کے اس پر بندوق لے کر بیٹھے ہیں۔ امریکی بھارت کے نقصانات کو اپنا نقصان سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی معشیت بھارت سے جوڑ نے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
امریکی کہتے ہیں کہ راستے کھولو ہم کہتے ہیں کہ ہمارے مسئلے حل کرا دو پہلے۔ وہ ہماری معیشت کا گلا دبا دیتے ہیں مزید دبائیں گے۔ بھارت کے ساتھ راستے کھول کر پیسے کمانے کا نوازشریف کو بچپن سے شوق تھا۔ وہ اب سائڈ پر کیے جا چکے ہیں۔ سول حکومت اب ہر بات مائی گارڈ سے پوچھ کر کر رہی ہے۔ جس کے بعد سارا پریشر بھی اب مائی گارڈ پر آ چکا ہے۔ مائی گارڈ آپ سکون سے پنڈی بیٹھیں، وہاں بیٹھ کر پھر کریں معیشت پر بات کہ یہ سیکیورٹی سے ہی تو جڑی ہوئی ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

