ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھے

بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا
غالب نے یہ شعر سادہ آدمیوں کے بارے میں ہی کہا تھا۔ دانا کہہ گئے ہیں کہ سیاست سادہ آدمیوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کوچے میں صرف نام کا شریف ہی کامیاب ہو سکتا ہے۔ وطن عزیز کی سیاست اس حقیقت کی شاہد ہے۔
ہر دوست دشمن یہ بات مانتا ہے کہ امیر الصالحین تو اتنے سادہ ہیں کہ خدا کی قدرت کی سب سے بڑی نشانی کالی بھینس کا سفید دودھ دینا قرار دیتے ہیں۔ رہن سہن ان کا درویشوں والا ہے۔ حاشا وکلا ہمارا ارادہ کسی درگاہ کے ملنگوں کے رہن سہن کی طرف نہیں ہے۔ سراج صاحب ملنگوں کی سردائی سے شغف نہیں رکھتے۔ اشارہ فقیرانہ رہن سہن کی طرف ہے۔ نہ ان پر کرپشن کا داغ ہے اور نہ ناظم جمعیت ہونے کے باوجود کسی قسم کی غنڈہ گردی کا۔ ہر چھوٹا بڑا ان سے مل سکتا ہے اور ان کی دید سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر سکتا ہے۔ لیکن ووٹر ان کو کھال تو دے دیتا ہے ووٹ نہیں دیتا۔
جماعت کی بات کریں تو انصاف کی بات یہی ہے کہ جماعت اسلامی سے بڑھ کر اندرونی جمہوریت کسی جماعت میں نہیں ہے۔ اس پر کرپشن کے داغ نہیں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جماعت اسلامی پر دھرنوں اور اس کی ذیلی تنظیم (جسے یہ اپنا قرار نہیں دیتی) اسلامی جمعیت طلبہ پر تعلیمی اداروں میں بے پناہ غنڈہ گردی کے الزامات لگتے ہیں۔
جماعت کی تربیت کی بات کی جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ ایک سے بڑھ کر ایک نابغے کی اس نے تربیت کی ہے۔ مصفنین کی بات کی جائے تو اس کی صفوں سے باکمال انشا پرداز نکلے ہیں۔ مقررین کی بات کی جائے تو گفتار کے غازیوں کی جماعت میں کمی نہیں رہی۔ مجاہدین کی بات کی جائے تو سوویت یونین، امریکہ اور شیو سینا کو جماعت کے تربیت یافتہ کارکنان نے ہی شکست دی ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ مولانا امین احسن اصلاحی سے منسوب یہ قول بارہا درست ثابت ہوا ہے کہ جماعت عقل سکھاتی ہے، اور جب بندے کو عقل آ جاتی ہے تو وہ سب سے پہلا کام یہ کرتا ہے کہ جماعت چھوڑ دیتا ہے۔ ارشاد حقانی، حسین حقانی، مولانا کوثر نیازی، حنیف عباسی، کس کس کا نام لیں جو جماعت چھوڑ کر عروج پا گیا۔ کیا وجہ ہے کہ ایسے قابل ترین کارکنوں کے ہوتے ہوئے بھی انتخابات میں جماعت کا مقدر عبرتناک شکست رہی ہے؟
کراچی میں جماعت کی شکست کی بات کی جائے تو جماعتی صالحین ہمیں اس کی یہ وجہ بتاتے ہیں کہ ادھر الطاف حسین نامی ایک بہت ظالم شخص موجود ہے، وہ ٹی ٹی کے زور پر اینڈتا ہے، کراچی کے پانچ سو میل کے قطر میں نہ تو جماعت کو ووٹ لینے دیتا ہے اور نہ ہی قربانی کی کھال۔ غالباً ٹھیک کہتے ہوں گے، سندھ میں جماعت کی ناکامی کی صرف یہی ایک وجہ ہو گی۔
پنجاب میں جماعت کی ناکامی کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ پہلے میاں نواز شریف نے جماعت کی سادہ دل لیڈر شپ کو پرچا کر ان سے اتحاد کر لیا۔ جب جماعت کے سارے ووٹر اس اتحاد کو ووٹ دینے لگے تو میاں نواز شریف نے اتحاد تو واپس کر دیا لیکن ووٹر اپنے پاس رکھ لیا۔ پہلے حافظ سلمان بٹ جیسے جی دار جماعت میں سرگرم ہوا کرتے تھے، اب سارے جی دار گلو بٹ مسلم لیگ نواز میں چلے گئے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ لاہور کے حلقہ 120 میں تین لاکھ ووٹروں میں سے بمشکل 592 جماعت کو ووٹ ڈالتے ہیں اور جماعت چھٹے نمبر پر آتی ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں جماعت کی صف اول کی لیڈر شپ کے بچے نواز شریف اور عمران خان سے کونسلر کا ٹکٹ لیتے ہیں اور پھر بھی اپنی سادگی کے سبب ہار جاتے ہیں۔ منصورہ کے حلقے تک میں یہ ہار ہوتی ہے۔ اب پشاور میں ووٹر نے جماعت کی سادگی کو ٹھکرا دیا ہے۔ ادھر بھی جماعت چھٹے نمبر پر آئی ہے۔ پتہ نہیں کس نے جماعت پر چھٹے ہوئے ہونے کی تہمت دھر دی ہے۔ بہرحال یہ بات واضح ہے کہ ووٹر جماعت کے امیر کی سادگی اور درویشی سے متاثر نہیں ہو پا رہا ہے۔
سن 1970 سے ہر الیکشن میں جماعت بری طرح ناکام ہوتی رہی ہے۔ واحد استثنا 2002 کا الیکشن ہے جس میں جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان صاحب کی برکت سے جماعت کو فیض اور سیٹیں ملیں مگر ان کے دامن عافیت سے نکل کر جماعت کا پھر وہی حال ہوا جو روایت ٹھہری ہے۔ لیکن جماعت اسلامی نہ صرف ہمارے ملک بلکہ پوری امت کا ایک اہم تزویراتی اثاثہ ہے۔ فی زمانہ پولیٹیکل اسلام کے اسلامسٹ کہلانے والے داعین چند ایک ہی تو بچے ہیں۔ اخوان المسلمین، جماعت اسلامی، القاعدہ اور داعش۔ اسلامسٹ مانتے ہیں کہ القاعدہ اور داعش کا مقصد نیک بس طریقہ غلط ہے۔ جماعت کا بھی بعینہ یہی معاملہ ہے اور اس کا طریقہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔
اس بارے میں ہم چند تجاویز پش کرنا چاہیں گے۔ جماعت کو اگر ایسی قیادت مل جائے جو سادہ نہ ہو بلکہ دانشمندی سے فیصلے کر سکے تو وہ ووٹر کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے۔ اس ضمن میں ہمارے ذہن میں دو نام آتے ہیں۔ اگر الطاف بھائی کی طرح سراج الحق صاحب بھی رہبر بن جائیں تو ان دو حضرات میں سے ایک کو امیر اور دوسرے کو جنرل سیکرٹری (عرف قیم) بنایا جا سکتا ہے اور پھر جماعت کو وفاق اور چاروں صوبوں میں حکومت بنانے سے کوئی نہیں روک پائے گا۔
جماعت کے امیر کے لئے شخصیت کا انتخاب کرتے ہوئے ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جماعت کا امیر کسی عالم فاضل شخص کو ہونا چاہیے۔ وہ عوام میں مقبول ہو۔ سیاست میں دلچسپی رکھتا ہو۔ بچوں میں ہو تو بچوں کی سی بات کرے، نوجوانوں میں ہو تو نوجوان اس کے فیشن اور اس کے انداز کی نقل کرنے پر خود کو مجبور پائیں، بزرگوں میں ہو تو ان پر عذاب قبر سے لرزہ طاری رکھے، تقریر کرے تو ساری ساری رات بولتا رہے اور کوئی اپنی جگہ سے ہل نہ پائے، نعت پڑھے تو بڑے بڑے نعت خواں اس کی قدم بوسی کریں، عنایات بانٹنے نکلے تو بچہ بوڑھا مرد و زن اس کے چشم و ابرو کے اشارے پر سر کے بل چل پڑے۔ یعنی جماعت کے لئے ایک آئیڈیل امیر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔
قیم کے لئے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو جس گروہ کے پاس جائے اسے ایسی ڈیل آفر کرے جو وہ ٹھکرا نہ پائیں۔ جو لوگوں کو ملانے والا ہو۔ جس قضیے میں اسے ڈالا جائے اس کا وہ ایسا حل نکال کر ہی اٹھے جس سے سب خوش ہوں۔ اسے خواہ کمیونسٹوں کے پاس بھیجا جائے یا لبیک والوں کے پاس، وہ اپنی شیریں بیانی سے سب کو جماعت کا انتخابی اتحادی بننے پر قائل کر دے۔ اس وقت وطن عزیز میں صرف ایک ہی ایسا شخص ہے۔ یعنی سینیٹر رحمان ملک صاحب۔
امید ہے کہ اہل جماعت بشمول شوریٰ ہمارے تجویز کردہ ناموں پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ ورنہ ہر الیکشن میں حلقے میں چھٹے نمبر پر آنے کے بعد یہ شعر پڑھا کریں گے اور غم غلط کیا کریں گے
خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

