ماں بے چاری کیا کرے؟


میں نے ڈاکٹر لبنی مرزا کا آرٹیکل ماں کا دل اور خالی گھونسلہ پڑھا، پڑھ کر بہت لطف آیا، ابھی وہ وقت دور ہے مگر پھر بھی مجھے لگا کہ میں ایک ایک چیز اور ہر ایک احساس سے ریلیٹ کر سکتی ہوں، پھر ڈاکٹر سہیل کا آرٹیکل آنول نال کا جذباتی پھندا پڑھا، مزید مزا آیا کیونکہ میں خود ایسا بچہ رہی ہوں جسے ماں نے زیادہ پروٹیکٹ کیا تھا اور چوزے کی طرح بس پروں میں دبا کر بیٹھی رہی تھیں، حالانکہ میں تو لڑکی تھی مگر شاید سب سے چھوٹا بچہ تھی تو انہیں کچھ سکون ملتا تھا۔

ہمارے معاشرے میں اکثر یہ تنازعہ اٹھتا ہے کہ شادی کے بعد ماں بیٹے کو آزاد چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتی اور بیوی پورا پورا تسلط چاہتی ہے میاں پر۔ پھر مشترکہ خاندانی نظام میں بھی اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور اس مرد پر اجارہ داری کی ایک جنگ سی چھڑ جاتی ہے۔ بعض دفعہ بہنیں بھی اس تسلط کی جنگ میں شریک ہو جاتی ہیں مگر وہ بیاہ کر جلد ہی اپنے میاں کے گھر جا کر ایک نئی جنگ شروع کر دیتی ہیں۔

میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ مائیں آخر اتنا چپک کیوں جاتی ہیں اور شادی کے بعد بھی اس لڑکے کو آزاد چھوڑنے پر کیوں تیار نہیں ہوتیں اور بیوی بھی ایک برابری کے رشتے کی بجائے، اپنے میاں کو ایک انسان سمجھنے کی بجائے اس پر ایک طرح کا تسلط کیوں چاہتی ہے؟

اس کے سیدھے جواب میں ایک اوسط پاکستانی ماں کی زندگی کا سائیکل اگر ہم دیکھیں تو سارے سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں لڑکیاں اور عورتیں اس سائیکل میں بس ایک بنیادی لیول پر ہی اپنی  پوری زندگی گزار دیتی ہیں اور ہمارے طرز زندگی کی وجہ سے اپنے پورے میٹامورفوسس سے گزار کر اپنی پوری خوبیوں اور صلاحیتوں کا ادراک نہیں کر پاتیں۔

دیکھیں ایک اوسط خاتون کی زندگی یا زندگی کا مقصد یہاں پر کیا ہے؟ سب سے پہلا اور آخری مقصد جو میں نے دیکھا ہے وہ ہےاچھی جگہ شادی ہو جانا۔ اگر پڑھائی اچھی ہے تو وہ رشتے کی تلاش میں کی جا رہی ہے، اگر ڈاکٹر بنایا جا رہا ہے تو اچھے رشتے آ سانی سے مل جانے کی وجہ سے۔

مجھے یاد ہے کہ میرے ماموں نے ایف اے میں میرے کالج کے انتخاب پر اعتراض کیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ میں کنئیرڈ کالج سے پڑھتی مگر وہاں اس دور میں وہ مضمون نہیں تھا جو مجھے پڑھنا تھا  تو انہوں نے کہا تھا کہ مضمون کا کیا ہے، اگر کنئیرڈ کالج سے پڑھے لڑکی تو اچھا رشتہ مل جاتا ہے اور یہ ایک روشن خیال پڑھے لکھے ماموں کی اپروچ تھی۔

اب شادی تک ایک پروٹیکشن اور تحفظ میں زندگی گزار دی لڑکی نے اور انتظار کیا اس شہزادے کا جو سفید گھوڑے پر آ کر اس کو ایک جادوئی دنیا میں لے جائے گا۔  چند لڑکیوں کو تو شادی سے پہلے بہت سے کام کرنے کی اجازت تک نہیں ہوتی کہ جب میاں کے گھر جاو گی تو تب ہی کرنا۔ اچھا اب شادی ہو گئی تو بہت سی خواتین ایک نئی جنگ کاشکار ہو جاتی ہیں۔ ساس نندوں کی اجارہ داری، میاں کا برتری بھرا سلوک اور ایک لمبی فہرست۔ اب کچھ تو اس میں مقابلہ کر سکتی ہیں اور کچھ پس جاتی ہیں۔

پسی ہوئی خواتین کی بھی اگر بیٹی ہو جائے تو ایک اور دباو۔ اب ایسے میں بیٹا ایک پہلا تمغہ ہے جو انہیں کچھ ہونے کا احساس دیتا ہے اور جسے چھاتی پر سجا کر وہ سرخرو ہوتی ہیں۔ اب اس تمغے کو وہ کیسے کلیجے سے نہ لگائیں۔  ایک خاتون ہیں میری جاننے والی، سسرال میں بہت زیادتیاں برداشت کیں مگر اب خوش ہیں، میں نے پوچھا کہ کیوں، تو کہنے لگیں اب میرا بیٹا جوان ہے، میری ڈھال ہے، اب مجھے کوئی کچھ کہے تو یہ میرے آگے کھڑا ہو جاتا ہے۔  اب دیکھیے کہ ایک کمزور عدم تحفظ کا شکار عورت اگر اس ڈھال کو ہٹائے تو کیونکر؟

اب ایک اور مرحلہ، جب بیٹی کی شادی کی باری آئے تو ٹرالی سجا کر لڑکوں کی ماوں کے نخرے اٹھائیں لڑکیوں کی مائیں، اور لڑکوں کی مائیں یوں آتی ہیں جیسے کوئی محاذ جنگ فتح کر کے علاقے کا دورہ کر رہا ہو یا جیسے انسان پورے پیسے لے کر کھادی پر جائے اور آگے ستر فیصد آف کی سیل ہو تو سمجھ نہ آئے کہ کونسا کپڑا خریدے اور کسے ریجیکٹ کرے۔ اس مرحلے پر بھی جو برتری اور تفاخر لڑکے کی ماں کو نصیب ہوا، اس لطف اور برتری کا مزا تو شاید اس سے پہلے زندگی میں انہیں کبھی نہیں ملا۔

پھر جب ایک عورت کو اپنا بڑھاپا سر پہ نظر آیا، تو نہ کوئی سوشل سیکیورٹی، نہ کوئی ملازمت، نہ کوئی بچت ۔ نہ لگتا ہے کہ وقت پڑنے پر کوئی ایمبولنس ہی ایک فون کال کرنے پر آ جائے گی۔ اگر شوہر کا انتقال ہو جائے تو چور ڈاکو ہی گھر کا راستہ نہ دیکھ لیں تو ایسے میں تحفظ کا تالہ کون نظر آتا ہے؟ ظاہر ہے کہ بیٹا۔ کمائے گا اور ماں کو دے گا تو کچھ برا نہ لگے گا، اور وہی ایسا مرد ہو گا جسے دیکھ کر دیگر مرد دور رہیں گے۔

تو بات یہ ہے کہ یہ چیز اب ایک جوان بیٹے کی ماں کے بس میں نہیں ہے، یہ چیز تو وہ ہے جو اس دور میں ایک بیٹی کی ماں کو سمجھنے کی ضرورت ہےکہ وہ اپنی بیٹی کو ایک ایسی لڑکی بنائے جو اپنے پیروں پر کھڑی ہو، جو اپنی زندگی کھوجے، جو خود ایک تتلی بنے، جو خود سہارے نہ ڈھونڈے، جو خود کسی پر نہ لدے اور پھر وہ لڑکی ایک ایسی ماں بنے جو اپنے بیٹے کو بھی آزاد چھوڑ دے کہ اسے کوئی ڈر نہ ہو اور اس بدلاو کی ضرورت معاشرے کو بھی ہے جو ایک اکیلی عورت کو تحفظ دے۔ اس بدلاو کی ضرورت تو قانون کو بھی ہے، تبھی ہر چیز مل کر وہ آزادی اور تبدیلی لائے گی جس میں ہر شخص اپنی آزادی کی اڑان بھر سکے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

مریم نسیم

مریم نسیم ایک خاتون خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ فری لانس خاکہ نگار اور اینیمیٹر ہیں۔ مریم سے رابطہ اس ای میل ایڈریس پر کیا جا سکتا ہے maryam@maryamnasim.com

maryam-nasim has 65 posts and counting.See all posts by maryam-nasim