آپ کی تعریف۔۔۔؟ جی آپ مجھے نہیں جانتے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دن میں ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں مریض دیکھ رہی تھی کہ ایک شخص کیمرہ سمیت داخل ہوا اور ایک مریض کی تصویریں لینے لگا۔ میرے منع کرنے پر اپنے گلے میں ثنگے کارڈ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا آپ دیکھ نہیں رہیں کہ میں کون ہوں۔ کارڈ ایک نیوز چینل کا تھا نام نہیں لکھ رہی۔ میں نے ان صاحب سے کہا آپ جو کوئی بھی ہیں فورا اس بستر سے کیا ایمرجنسی سے باہر نظر آئیں ورنہ گارڈ آکر آپ کو نکالے گا تو آپ کو اچھا نہیں لگے گا۔ کچھ بحث کے بعد منہ بناتا دھمکی نما الفاظ نکالتا باہر چلا گیا۔ ایسے کئی واقعات ہماری پریکٹس کا حصہ ہیں۔

میری سرجیکل ٹریننگ کے دوران شہر کراچی میں تین بڑے بم دھماکے ہوئے۔ امام بارگاہ کا ، نشتر پارک کا دھماکہ اور کارساز کا دھماکہ اس کے علاوہ بینظیر کا قتل جو ہوا تو پنڈی میں لیکن اس کی بازگشت شہر قائد میں کچھ زیادہ زور سے سنائی دی۔ ان واقعات نے ہمیں بڑے سبق دکھائے اور ہم پروٹوکول دینے کا مطلب کچھ زیادہ اچھی طرح سمجھ گئے۔ بقول ممتاز مفتی تتلی کے پر جھڑجائیں تو اندر سے سنڈی نکلتی ہے تو یوں کہہ لیں ہم نے ہر طرح کی تتلیاں اور سنڈیاں دیکھ لیں۔ اور ہر واقعے میں مومن مولوی اور جیالوں کے ساتھ میڈیا کے لوگوں کو بھی دیکھ لیا۔ بہت سے اچھے لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی جیسے مفتی منیب الرحمن صاحب ان کو مریض دکھانے والے دوست نے ان کی بڑی تعریف کی اور شرارتی انداز میں کہنے لگا کہ ابھی انہوں نے ایک مریض کی خیریت دریافت کی تھی کہ مجھے نیند آنے لگی۔

یہ تو بڑے واقعات تھے۔ آئے روز مختلف طرح کے لوگ مختلف حوالوں سے اسپتالوں میں پروٹوکول نما سہولیات حاصل کرتے رہتے ہیں ۔ میں فلاں ہوں تو میں فلاں کا رشتہ دار ہوں ۔ کچھ کو یہ عزت قدرتی ملتی ہے۔ ادا کار لہری جب کلینک میں داخل ہوتے تو سرجن صاحب کھڑے ہو کر ان سے ملتے تھے۔ اور وہ خود ایک عاجز اور ملنسار انسان تھے۔

ڈاکٹرز کو عموما ایسی صورتحال کا سامنہ کرنا پڑتا ہے کبھی کسی دوست کا فون کبھی گھر والوں کا حوالہ۔

اس معاملے میں شوبز کے لوگ کچھ زیادہ ہی آگے ہوتے ہیں۔ ہمارے ایک ساتھی کچھ زیادہ خدمت کرنا چاھتے تھے تو کاسمیٹک سرجن بن گئے تاکہ جن کی تھوڑی ٹیڑھی ناک نے زندگی عذاب بنا دی ہے یا اضافی چربی کا دکھ انہیں جینے نہیں دیتا تو ان کی خدمت کی جا سکے۔ اس سلسلے میں شوبز والوں کے دکھ سب سے زیادہ ہوتے ہیں اور وہ ان کے پاس آتے رہتے ہیں ۔ ہم نے ایک بار ان سے فرمائش کی کہ ہم کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو کے بچوں کے لئے پروگرام کر رہے ہیں آپ فلاں مزاحیہ کردار سے کہیں کہ ہمارے پروگرام میں آئیں تو وہ کہنے لگے یہ کبھی مفت نہیں آئیں گے اور بغیر نام بتائے بتایا کہ شوبز کے کچھ لوگ سرجری کی فیس کم کروانے کے چکر میں ہمارے لئے اشتہار میں آنے کی آفر کر دیتے ہیں۔

اسپتالوں میں پروٹوکول لینے کے لئے اور جلد کام نکلوانے کے لئے اپنی شناخت کو اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ نہ صرف خود بلکہ ان کے دوست احباب رشتہ دار وغیرہ بھی اپنا تعارف ان کے حوالوں سے کراتے ہیں ۔۔ ورنہ بتائیے کس اسپتال کے فارمز وغیرہ میں بہن کا نام لکھنا لازم ہے یا ڈاکٹرز کی مریض کی ہسٹری لیتے وقت یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس کی بہن ہیں۔ تو پھر آغا خان اسپتال کے ڈاکٹر نے یہ کیسے جانا کہ جس خاتون کا وہ علاج کر رہے ہیں وہ کسی مشہور شخصیت کی بہن ہیں۔ شاید ڈاکٹر نے شکل دیکھ کر کہا ہو کہ ارے آپ کی شکل تو ان سے ملتی ہے اور خاتون نے چہک کر کہا ہو میں ان کی بہن تو ہوں یا ڈاکٹر نے پوچھا ہو آپ کی تعریف تو خاتون نے کہا ہو میں مشہور زمانہ شرمین کی بہن ہوں علیٰ ہذا القیاس۔

خیر اصل قصہ تو اسپتال انتظامیہ کو پتہ ہوگا۔ لیکن یہاں ایک سوال یہ ہے کہ کیاا بڑے سیاستدان ادا کار شوبز نیوز چینل وغیرہ کے حوالے دینا ہراسمنٹ میں نہیں آتا۔ وہ ہراسمنٹ جسے ڈاکٹرز سمیت اسپتال کا عملہ مسکرا کر سہتا ہے اور آخر میں "اور کوئی خدمت” کہہ کر رخصت کرتا ہے۔

اپنے مفاد کے لئے اپنی شناخت جائز ہے ۔ پروٹوکول لینے کے لئے حوالے دینا بھی جائز ہے لیکن حوالہ سن کر کوئی متاثر ہو کر فرینڈ ریکویسٹ وہ بھی فیس بک پر بھیج دے تو وہ ہراسمنٹ ہے۔

ہماری پیاری اور عظیم مصنفہ آمنہ مفتی نے بڑی اچھی بات لکھی کہ انسان جس حد تک تعلق رکھنا چاہے اسی حد تک رکھنا چاہتا ہے۔ تعلق کی ابتدا تعارف سے ہوتی ہے۔ اگر تعارف مریضہ ہے تو تعلق معالج ہے اور اگر تعارف اس سے آگے جائے تو ذمہ دار تعرف دینے والا ہے۔ وہ خاتون ایک عام شہری کے طور پہ علاج کرواتی تو بھی ان کا علاج ہو جانا تھا۔ اور فرینڈ ریکویسٹ بھی نہیں آنی تھی۔

یہ بات میں ہمیشہ سے بہت لوگوں کو سمجھاتی ہوں کہ بلا ضرورت ریفرنس چپکانے سے بیماری اور علاج وہی رہتا ہے

البتہ بات کو وہیں تک رکھنا چاہئے جہاں تک وہ ہو۔ کل تک سر پر بٹھائے جانے والی شرمین کے کام کو اور اس کے ایوارڈ کو نشانہ بنانا بالکل غلط ہے یا اگر آپ کو اس میں کچھ غلط نظر آیا تھا تو اس سب کا وقت گزر گیا ہے یا بہرحال یہ وقت مناسب نہیں۔ اب بات صرف اس معاملے تک کی جائے تو ہی مناسب ہے۔

آج کل ہراسمنٹ کے موضوع پر بہت لکھا جا رہا ہے جن میں زیادہ ترموضوعات میں مجھےدلچسپی نہیں لیکن یہاں بات اپنے شعبہ کی تھی۔ اور حقیقت جو بھی ہو لیکن بظاہر حو کہانی سنائی گئی ہے اس کے مطابق ہراسمنٹ کی تعریف صحیح نہیں البتہ ڈاکٹر کو اپنی ذات اور بیماری کے علاوہ غیر ضروری معلومات دینا اورریفرنس دینا اور ان کی توجہ علاج سے ہٹانا ضرور ہراسمنٹ کے زمرے میں ضرور آتا ہے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).