ہم ہر روز ہالوین ڈے مناتے ہیں


یونانی المیہ نگاری میں ایسکلیس کو سہ جہتی المیہ کا معمار مانا جاتا ہے۔ پانچ سو قبل مسیح میں ایتھنز کے تھیٹرز میں سورج کے طلوع ہونے کے ساتھ ایسکلیس کا سہ المیہ شروع ہوتا تو اختتام، سورج کے غروب ہونے پر ہی ہوتا۔ دن بھر المیہ میں جکڑے ناظرین کے لئے رات کو ایک مزاحیہ ڈرامہ بھی پیش کر دیا جاتا تاکہ المیے کی تاثیر کو کم ہو سکے۔ ڈرامہ کوئی بھی ہو اس میں المیے سے دو چار کردار سکرپٹ پڑھ کر رو تے ہیں۔ چند منظر بدلنے کے بعد رونے والا کردار ناظرین کے منورنجن کے لئے مسخرہ بن کر ان کے چہروں مسکراہٹ لانے کی جستجو کرتا ہے۔ انسانی زندگی میں المیہ تو ہو سکتا ہے مگر یہ ڈرامہ نہیں ہے۔

ہسپتال جانے کے لئے جناح ایونیو کی جانب مڑے تو راستہ بند تھا۔ معلوم ہوا عرش کی نمائندگی پر کمربستہ کچھ اہل علم نے دھرنا دے رکھا ہے۔ بات کرنے کی کوشش کی تو خدا کے برگزیدہ بندوں نے سننے سے انکار کر دیا۔ غصہ اتنا شدید کہ زبانیں آگ اگل رہی تھی۔ کسی نامعلوم دشمن کے لئے کے چہروں سے نفرت ٹپک رہی تھی۔ خود کو مکان کی قید سے آزاد کر کے کہیں دور سے اس پورے گروہ پر نظر ڈالی جائے تو گویا ہر شخص کے ہاتھ میں ایک خیالی تلوار ہے جسے وہ ایک خیالی دشمن کے خلاف مسلسل ہوا میں چلاتا جا رہا ہے۔ اس خیالی تلوار بازی سے جب بازو شل ہو جائیں تو جنگ پھر منہ سے لڑی جا رہی ہے۔ بدکلامی اور مغلظات کے ایک طویل سلسلے کے بعد وما علینا الا البلاغ کا سابقہ لگا کر یہ اپنے فرض منصبی سے وقتی طور پر سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ ان جنگی مشقوں سے گمان ہوتا ہے کہ گویا خدا کچھ انسانوں کے خلاف کوئی ورلڈ آرڈر قائم کرنا چاہتا ہے جس کی ذمہ داری ان سپاہیوں نے اپنے نازک کاندھوں پر فرض کر لی ہے۔ اصل مدعا کا علم ہوا تو بس اتنا تھا کہ قہر و جبروت کے دعویدار اکثریت کے ایمان کو ایک کمزور اقلیت سے خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔

واپسی پر پمز کے سامنے صحافیوں کا جم غفیر تھا۔ پتہ چلا احمد نورانی پر کسی نے حملہ کر دیا۔ اب جس سے بھی پوچھو کہ حملہ کس نے کیا؟ مصنوعی حیرت چہرے پر سجا کر سرگوشی کے انداز میں جوابی سوال کرتے ہیں ’ کیا آپ کو علم نہیں ہے‘؟ بھائی مجھے علم ہوتا تو آپ سے کیوں پوچھتا۔ نام لینے پر مگر کوئی تیار نہیں۔ اشاروں میں بتاتے ہیں کہ جان سب کو عزیز ہوتی ہے۔ الزام کسی پر نہیں لگانا چاہیے مگر نتیجہ بہرحال یہی نکلتا ہے کہ یہاں بھی ایک اکثریت کو ایک اقلیت کی زبان سے خطرہ ہے۔ وہ ان کی زبان بندی چاہتے ہیں۔ وہ جو بھی ہیں مگر انہیں سوال سے خوف لاحق ہے۔

کوئی خوش قسمتی سمجھ لے یا بدقسمتی، یہ مرضی کا معاملہ ہے، تاہم واقعہ یہ ہے کہ وطن عزیز میں بہت سے دھارے خود کو ملک کے کسی مبہم نظریاتی تشخص کے پہرہ دار سمجھتے ہیں۔ ٹھیک ہے یہ آفاقی ذمہ داری اگر انہوں خود اپنے اوپر لازم کر لی ہے تو کوئی کیسے روک سکتا ہے۔ آپ دلیل کی بنیاد پر صرف اختلاف کر سکتے ہیں۔ اب سنتے ہیں کہ اختلاف سے نظریاتی تشخص کی بنیادوں میں پانی پڑتا ہے۔ سو اختلاف سے باز رہیں۔ خاموش رہیے اور تماشا دیکھیے۔

اس کہانی کو چھوڑ دیں۔ امریکہ میں ہماری ایک رشتہ دار خاتون رہتی ہیں۔ ان کا پیغام ملا کہ ان کے بچے امریکی ماحول میں خراب ہو رہے ہیں۔ وہ واپس پاکستان شفٹ ہونے کا سوچ رہی ہیں۔ فرمانے لگیں، بیٹا زمانہ خراب ہو گیا۔ ہم نے بچوں کو اس سماج سے بہت محفوظ رکھنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ خدا کی پناہ اب بچے ہالوین ڈے منانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ عرض کیا، خالہ جی بچے ہیں، اب وہاں رہتے ہیں تو ظاہر ہے وہاں کے طور طریقوں کا بھی اثر لیں گے۔ اور ویسے بھی ہالوین منانے میں کیا برا ہے۔ کدو کا خول پہن کر تھوڑی دیر چند خیالی بد روحوں کے خلاف اگر لڑنا چاہتے ہیں تو لڑنے دیں۔ خالہ جی کا لہجہ سخت ہوا۔ کچھ سخت سست سنانے کے بعد فیصلہ کن لہجے میں کہنے لگیں کہ بس اب وہ پاکستان شفٹ ہو کر رہیں گی۔

عرض کیا خالہ جی اگر ویسے ہی شفٹ ہونے کا ارداہ کر لیا ہے تو بہت اچھی بات ہے لیکن اگر بچوں کے ہالوین منانے پر فیصلہ دے رہی ہیں تو نہ ہی آئیں۔ خالہ نے بڑی معصومیت سے پوچھا کیوں بیٹا کیا وہاں بھی اب 31 اکتوبر کو ہالوین ڈے منایا جاتا ہے؟

عرض کیا۔ یہاں ہر روز ہالوین ڈے منایا جاتا ہے۔ ہر چہرہ کرخت ہے۔ وحشت اپنی تمام بدنمائی کے ساتھ رقصاں ہے۔ یہاں اصلی بدروحیں موجود ہیں۔ وہ کھلے چہروں انسانوں کے خلاف لڑتے ہیں۔ یہاں آکر اصلی بدروحوں کے خلاف لڑنا پڑے گا۔ ادھر مشکل یہ ہے کہ لڑنا تو دور کی بات یہاں کسی کے خلاف زبان کھولنا جرم ہے۔

 ایکلیس کے سہ جہتی ڈرامے میں المیے سے دو چار کردار سکرپٹ پڑھتے تھے۔ یہاں المیہ کثیر الجہتی ہے۔ المیے سے دو چار کردار اصلی ہیں۔ المیے کے بعد تناﺅ کم کرنے کے لئے کوئی مزاحیہ ڈرامہ بھی پیش نہیں کیا جاتا۔ دکھ ہجرتوں میں رہنے والے پرندوں کے غول کی طرح آتے چلے جارہے ہیں۔ ہجرتوں میں رہنے والے پرندے گھونسلے بھی تو نہیں بناتے۔ گھاس کے تنکوں کا گھر میسر نہ ہو تو زندگی مشکل ہوتی ہے۔ میرا جی نے لکھا تھا، ’ کوئی ہنستا نظر آئے کوئی روتا نظر آئے۔۔ میں سب کو دیکھتا ہوں دیکھ کر خاموش رہتا ہوں۔۔ مجھے ساحل نہیں ملتا‘۔ میرا جی نے شاید درست کہا ہو مگر ساحلوں پر خوش رنگ پرندوں کے اترنے کی امید تو نہیں چھوڑی جا سکتی۔ پرندوں کا اڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

Facebook Comments HS

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 186 posts and counting.See all posts by zafarullah