کشمیر کہانی… اروندھتی رائے کی زبانی
ایک بے پناہ تخلیقی قلم سے ایک بڑی ادیب کو خراج تحسین۔ اروندھتی رائے نے ”دے منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس“ لکھ کر ہندوستان کی روح سے انصاف کیا ہے۔ جدید ہندوستان کا عطر پنڈت نہرو جیسے سیکولر، گاندھی جی جیسے امن پسند، قائد اعظم محمد علی جناح جیسے آزادی پسند، ابوالکلام آزاد جیسے بطل حریت اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے متمدن عالم میں ظہور پذیر ہوئی۔ اروندھتی رائے ایسی ہی ہستیوں کا ہم عصر پرتو ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ نے یہ کالم لکھ کر دراصل بتایا ہے کہ اعلیٰ ترین انسانی قدروں کی شناخت، علمبرداری اور پذیرائی میں پاکستان کسی سے پیچھے نہیں۔ واہ ، واہ۔۔۔۔۔
میں تذکرہ کر رہا تھا مین بکر پرائز کے حوالے سے اروندھتی رائے کا جس نے اپنے پہلے ناول ”گاڈ آف سمال تھنگز“ پر یہ پرائز حاصل کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ بیس برس بعد ان دنوں اس کا نیا ناول ”دے منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس“ شائع ہوا ہے اور اس نے مجھے حیران کر دیا ہے۔ برسوں پہلے جب اسے بکر پرائز سے نوازا گیا تو وہ پاکستان آئی‘ لاہور کے ا یک فائیوسٹار ہوٹل میں اس کا لیکچر سننے کے لیے پہنچا اور خیال تھا کہ اس سے مختصر ہی سہی کچھ ملاقات ہوگی‘ کچھ سوال جواب ہوں گے لیکن وہاں تو ہال ایسے لوگوں سے بھرا پڑا تھا جنہیں ادب سے کچھ غرض نہ تھی‘ وہ صرف ایک بین الاقوامی طور پر شہرت یافتہ خاتون کا دیدار کرنے آئے تھے۔ لیکچر کا اختتام ہوا تو وہ لاہور کے اگرچہ بہت متمول اور فیشن ایبل کراﺅڈ کے گھیرے میں آ گئی اور یقینا ان میں صرف دوچار لوگ ہوں گے جنہوں نے اس کا ناول پڑھ رکھا تھا, بقیہ کے لیے وہ ایک ”سیلیبرٹی“ تھی۔ میں اس کے قریب نہ ہو سکا۔ اپنی چاہت کا اظہار نہ کرسکا۔
ہر برس جب مین بکر پرائز کی لانگ لسٹ جاری کی جاتی ہے تو میں کوشش کرتا ہوں کہ اس میں شامل ناولوں کو پڑھ کر اپنے طور پر اندازہ لگاﺅں کہ اس برس ادب کا یہ ہما کس کے سر پر بیٹھے گا۔ میں نے اس برس بھی اس لانگ لسٹ میں شامل بیشتر ناول پڑھے۔ میں ان میں سے صرف تین ناولوں کا تذکرہ کروں گا۔ مجھے محسن حمید کا پہلا ناول ”ماتھ سموک“ بہت بچگانہ لگا تھا۔ اس کا دوسرا ناول ”ریلکٹنٹ فنڈا مینڈلسٹ“ اچھا لگا اور یہ ناول اس لیے بھی مشہور ہوا کہ اس پر مبنی ایک فلم منظر عام پر آ گئی۔ یعنی میں محسن حمید کو کوئی قابل ذکر ناولسٹ نہ گردانتا تھا اور پھر بکر پرائز کی لانگ لسٹ میں شامل میں نے اس کا ناول ”ایگزٹ ویسٹ“ یعنی مغرب کی جانب اخراج پڑھا تو اس کی تخلیقی صلاحیتوں پر ایمان لے آیا۔ اس کا گرویدہ ہو گیا۔ قائل ہو گیا کہ یہ ایک ایسا ناول ہے جو میرے پسندیدہ ناولوں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ ”ایگزٹ ویسٹ“ ایک ایسے پاکستانی مرد اور عورت کی کہانی جو فرار ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور ان پر ایسے طلسمی دروازے کھلتے جاتے ہیں جن کے پار وہ جاتے ہیں تو کبھی یونان میں پناہ گزین ہوتے ہیں اور کبھی لندن پہنچ کر ایک ایسی عمارت میں جاگزیں ہو جاتے ہیں جہاں دنیا بھر کے لوگ ایک بہتر مستقبل کی خاطر منتقل ہو چکے ہوتے ہیں۔ میں نے دیگر ناولوں کے پڑھے بغیر اپنے تئیں محسن حمید کو بکر پرائز کا حقدار ٹھہرا دیا۔ دوسرا ناول امریکی ادیب جارج سانڈرز کا ”لنکن ان وے بارڈو“ تھا۔ یہ امریکی صدر لنکن کے گیارہ برس کے بیٹے وِلی کی موت کی کہانی ہے جو سینکڑوں اخباری رپورٹوں اور عینی شاہدوں کے بیانات کے حوالے سے ایک ناول کی صورت بیان کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جس شب وہ مر رہا تھا اس رات لنکن اور اس کی اہلیہ صدارتی محل میں ایک شاندار اور پُر تکلف پارٹی کا اہتمام کر رہے تھے اور بالائی منزل پر ان کا بیٹا عالم نزع میں تھا۔
”وِلی پانچ تاریخ کی رات کو بخار سے پھنک رہا تھا جب کہ اس کی ماں پارٹی میں شامل ہونے کے لیے ایک زرق برق لباس کا چناﺅ کر رہی تھی۔ اس کا ہر سانس مشکل سے کھینچا جاتا تھا۔ وہ دیکھ سکتی تھی کہ اس کے پھیپھڑے ناکارہ ہورہے ہیں۔“
وِلی لنکن گیارہ برس کی عمر میں ایک کمرے میں تنہا مر گیا۔ جبکہ اس کے ماں باپ ایک جگمگاتے ہال میں مہمانوں کے ساتھ پارٹی کر رہے تھے۔ وِلی لنکن کو جب ایک قبرستان میں دفنایا گیا بلکہ اس کا تابوت ایک کوٹھڑی میں محفوظ کیا گیا تو لنکن ہر شب وہاں جاتا اور اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھ کر لڑکھڑاتا ہوا واپس آ جاتا۔ اگرچہ یہ ایک انوکھے پیرائے میں لکھا گیا ناول تھا لیکن اس میں تخلیقی عنصر کم تھا اور حوالے زیادہ تھے اور اس کے بعد میں نے اروندھتی رائے کا ناول ”منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس“ پڑھنا شروع کیا اور مجھے اس سے زیادہ توقع اس لیے نہ تھی کہ میں نے اس ناول کے جتنے بھی ریویو پڑھے۔ ان میں ”نیویارک ٹائمز“ کے بک سیکشن کا ریویو بھی شامل تھا۔ سب کے سب اگرچہ اروندھتی رائے کی نثر اور بیان کے معترف تو ہوتے تھے لیکن انہوں نے اس کی توصیف نہ کی۔ اسے اس کے پہلے ناول سے کمتر قرار دیا۔ زیادہ پسند نہ کیا اور جب میں نے ذاتی طور پر اس ناول کو شروع کیا تب جان گیا کہ آخر اتنے عظیم ناول کو بین الاقوامی طور پر کیوں مطعون کیا جا رہا ہے۔ یہ مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے بارے میں ہے۔ کشمیر کی جدوجہد کی ایک دل خراش اور خونی داستان ہے۔ ناول کا آغاز پرانی دلی کی ایک شکست حویلی ”خواب گاہ“ سے ہوتا ہے جہاں بہت سے ہیجڑے قیام پذیر ہیں جہاں آفتاب نام کا ایک ”لڑکا“ آتا ہے پناہ کا طالب ہوتا ہے کہ وہ دراصل ہیجڑا ہوتا ہے اور انجم کا نام اختیار کرتا ہے۔ یہ ہیجڑے سب کے سب سرمد منصور کی قبر پر حاضری دیتے ہیں کہ صرف وہ ہے جو ان کے دل کی حالت جانتا ان پر شفقت کرتا ہے۔ ہیجڑا‘ ایک عورت جو ایک مرد کے بدن میں قید ہوگئی ہے۔ کہاں جائے۔ وہاں رضیہ ہے‘ نموں گورکھ پوری اور استاد کلثوم بھائی ہیں۔ یہ صرف آغاز ہے اور پھر داستان آرکی ٹیکچر کالج میں پڑھنے والے چار طالب علموں کی جانب منتقل ہو جاتی ہے۔ ان میں ایک کشمیری نوجوان کوئے ہے۔ ایک لڑکی ٹلو ہے جو کوئے کے عشق میں مبتلا ہے اور ایک صحافی ناگا ہے۔ ناول کی پوری کہانی فشتر ہے۔ رائے کہتی ہے میں ایک فشتر کہانی کو کیسے بیان کروں‘ شاید آہستہ آہستہ ہر روپ میں ڈھل جاﺅں۔ نہیں۔ آہستہ آہستہ ہر چہرہ ہو جاﺅں۔
یہ وہ ناول ہے جسے ایک ہندوستان کو نہیں ایک پاکستانی کو لکھنا چاہیے تھا۔ لیکن ہم صرف احتجاج کرنے کے لیے‘ ریلیاں نکالنے اور اپنے ہی ملک کو آگ لگانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ہم دن رات روہنگیا مسلمانوں کی کربلا کے حوالے سے سینہ کوبی کرتے ہیں لیکن ان کی مدد کو نہیں پہنچتے۔ ہم صرف آہ و زاری کرسکتے ہیں۔ ایک ناول نہیں لکھ سکتے کہ اس میں محنت‘ لگن اور تیقن زیادہ ہے۔ اروندھتی رائے کا ناول کشمیر کی جدوجہد آزادی کی ایک دل گداز اور دل کو خون کرنے والی کہانی ہے۔ ہم جو کہانی نہ کہہ سکے وہ ایک ہندوستانی عورت نے کہہ دی ہے۔ گویا اس نے آج تک جتنے بھی کشمیری آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے شہید ہوئے ہیں‘ کم از کم ساٹھ ہزار اور جتنے بھی مقبوضہ فوج نے غائب کرکے مارڈالے ہیں‘ تقریباً دس ہزار‘ ان سب کو تاریخ کے مضمون میں محفوظ کردیا ہے۔ میں کہاں تک اس ناول کے اقتباس پیش کروں کہ ہر صفحہ اس لائق ہے کہ اسے نقل کر کے نہ صرف پاکستانی ادیبوں بلکہ ٹیلی ویژن پر چیختے چلاتے‘ جن کے منہ سے غضب اور مذہبی طیش کی جھاگ نکلتی ہے‘ ان کو شرمندہ کروں۔
اور یہاں میں حب الوطنی کے جذبے سے بغاوت اختیار کرکے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بے شک ہندوستان میں ان دنوں مودی کی گائے راج کرتی ہے۔ یہاں تک کہ بقول رائے چمار بھی مردہ گائے کا چمڑا اتارتے پکڑے جائیں تو ان کی چمڑی اتار دی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود وہاں ایک ایسی اقلیت موجود ہے جو مذہب سے ماورا ہو کر حق سچ کی آواز بلند کرتی ہے اور یہ ہمارے ہاں نہیں ہے۔ اگر کچھ لوگ واہگہ کی سرحد پر جا کر کچھ چراغ روشن کرتے ہیں تو وہ معتوب حرم ہو جاتے ہیں۔ ہندوستان میں جہاں پاکستان کے خلاف نہایت غلیظ اور متعصب فلمیں بنائی جاتی ہیں وہاں ”حیدر“ ایسی فلم بھی پروڈیوس کی جاتی ہے جس میں ہندوستانی فوج کے کشمیر میں مظالم کی داستان بھی پیش کی جاتی ہے۔ اس فوج کی بربریت کے قصے سکرین پر دکھائے جاتے ہیں۔ کیا ہم بنگلہ دیش اور آج کے بلوچستان کے بارے میں یوں زبان درازی کرسکتے ہیں۔
میں ذاتی طور پر اروندھتی رائے کا احسان مند ہوں کہ اس نے کشمیر کے بارے میں ایسا لازوال ناول لکھ کر ہم سب کو شرمندہ کردیا۔ بے شک انہی دنوں مین بکر پرائز کا اعلان ہو گیا ہے اور یہ امریکی جاج سینڈرز کے ناول ”لنکن ان وے براڈو“ کو مل گیا ہے۔ اس لیے بھی کہ وہ ایک امریکی تھا۔ یہ پاکستانی نژاد محسن حمید کو ملا اور نہ ہی اروندھتی رائے کو ملا۔ لیکن میں ایک پاکستانی ناول نگار کی حیثیت سے اس بہادر اور ”غدار“ خاتون کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے دل کی ہر بوند میں بندھا تشکر کا ایک اور دل اس کے چرنوں تلے بچھاتا ہوں۔




