ڈاکٹر خالد سہیل اچھے آدمی نہیں ہیں!


خالد سہیل صاحب سے پرانی واقفیت ہے ۔ یہ اچھے انسان نہیں ہیں ۔ فقط خواہش ہی کی جا سکتی ہے کہ یہ راہ راست پر آ جائیں لیکن کوائف کچھ اور بتاتے ہیں۔جب اپنے گذشتہ مضمون کے نیچے ان کاکمنٹ دیکھا تو جل بھن کر رہ گیا کہ اب بس زندگی میں اسی بات کی کسر رہ گئی تھی کہ کسی دن خالد سہیل ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے میرے مضمون کے نیچے کمنٹ کریں گے۔کاش وہ جانتے کہ ان کے لکھے لفظوں نے میری زندگی میں کیسا زہر گھولا۔

نسیم حجازی کے ناولوں پر مبنی ، پی ٹی وی پر ڈرامے لگا کرتے تھے ۔ گاؤں میں ٹی وی نیا نیا آیا تھا۔ ایک دو ڈرامے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ڈھوک پر شگر دوپہر کو جب دادا اور دادی سو جاتے ٗ پرندے گھونسلوں میں دبک جاتے اور گرمی کی شدت پر جشن مناتے بینڈے اپنی ٹیں ٹیں سے آسمان سر پر اٹھا لیتے ، ٹھیک ایسے لمحات میں ٗ میں ہاتھ میں لکڑی سے بنی تلوار لیتا اور گدھے کی رسی کھول کراس پرسوار ہوجاتا اور ساتھ والے کھیت میں گھس کرفصل کو کفار کا لشکر فرض کرتے ہوئے تہس نہس کرنا شروع کر دیتا۔

راولپنڈی شفٹ ہوئے تو نویں جماعت میں داخلہ لیا ۔اشتیاق احمد کے ناولوں کے بعد نسیم حجازی ایسے ملے کہ ۔۔نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں کی تعبیر ہوگئی ۔ ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ اے حمید کی کمانڈو سیرز پڑھی ۔ بس یہ سب کچھ پڑھنے کے بعد آتش کے رگ وپے میں پٹاخے بج رہے تھے ۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اگر کفار اور بالخصوص ہندو اب تک زندہ تھے تو کیوں تھے اور اگر یہ دنیا میں میری آمد کے باوجود زندہ ہیں تو آخرت میں کیا منہ لے کر جاؤں گا۔

ایک دن کہ نشہ ٹوٹ رہا تھا، مزید "افیون” کی تلاش میں راولپنڈی کے صدر بازار میں پرانی کتابوں کے بازار گیا۔ اس بازار میں بہت سے بے سمت الجھے نوجوان اس بازار آتے ۔ کرامات اولیا کرام کے ساتھ ہم مسلمان کیوں ہوئے ؟ جیسی کتابیں خریدیں ۔ مذہبی کتابوں کے سٹالز اور جنسی رسالوں کے پھٹے سب سے زیادہ رش سمیٹتے۔ جاتے جاتے ایک کتاب پر نگاہ پڑی ۔ عنوان تھا "انفرادی اور معاشرتی نفسیات ۔۔مصنف تھے خالد سہیل ۔

مسلمان مصنف کا نام دیکھ کتاب خرید لی۔ گھر پہنچا ۔ پہلے وہ کتابیں پڑھیں جو ضروری تھیں۔ ایمان کے قمقموں سے سینہ جگمگایا اور ایک نئی راہ ملی کہ راتوں کو جاگ کر وظیفوں کے ارتکاز سے اپنے آپ کو ایسے مقام پر فائز کیا جا سکتا ہے جہاں کسی اونچی جگہ چڑھ کر بھارت کی جانب پھونک ماری جائے اور ہندوؤں کو بھسم کر دیا جائے۔

کچھ عرصہ مزید گزرا۔ ایک دن بوریت کا سماں تھا۔ کچھ کرنے کو نہیں تھا۔ کتابوں پر نظر ڈالی تو انفرادی اور معاشرتی نفسیات پر نظر پڑی۔ بادل نخواستہ اٹھا لیا کہ بستر پر لیٹے انگلیاں چٹخانے سے بہتر تھا بور کتاب کے کچھ صفحے پڑھ لیے جائیں۔(یہ کتاب بعد میں بہت عرصہ میرے ساتھ رہی ۔اس مضمون کو لکھنے کے لیے کتاب ڈھونڈی کہ کچھ یادیں تازہ کی جائیں لیکن ملی نہیں ۔ پھر یاد آیا کہ کچھ کتابوں کے ساتھ گاؤں شفٹ ہو گئی تھی) لیکن جو کچھ مجھے یاد پڑتا ہے وہ عرض کیے دیتا ہوں۔ مصنف نے کہیں ضرب المثل لکھی تھی کہ "انسانی دماغ پیراشوٹ کی مانند ہوتے ہیں یہ تبھی کارآمد ہوتے ہیں جب کھلے ہوں” ۔۔۔خیر اس فقرے نے اس لیے متاثر نہیں کیا کہ خدا نخواستہ ہم اپنے بارے میں کوئی ایسا گماں رکھتے تھے کہ ہمارے دماغ بند ہیں۔ ہمارے دماغ تو کھلے ہی تھے ۔ صرف فقرہ اپنی ساخت اور بنت میں اچھا لگا تھا تو بس اچھا لگا۔

آگے بڑھے تو معلوم ہوا ،  خالد سہیل لفظ مستورات استعمال نہیں کرتے ۔۔سیدھا سیدھا عورتیں کہتے ہیں۔ برا تو لگا کہ بے حیائی کا گماں ہوا لیکن دماغ کو پیرا شوٹ کی مانند کھلا رکھنے کے فقرے سے جو زعم پیدا ہوا اس کے زیر اثر اگلے صفحے پڑھے۔ کچھ اور لفظوں پر نگاہ پڑی ۔۔۔جنس ۔۔۔اوہ دل دھک سے رہ گیا۔۔ توبہ توبہ ۔۔عورت اور جنس ۔۔اف ۔۔کتاب پڑھنے میں اب احساس گناہ غالب تھا لیکن مصنف کا انداز ایسا غصب کا ادبی تھا کہ کتاب بند بھی نہ کی جا سکی۔ اے حمید کو پڑھنے کی وجہ سے اچھے فقرے کا ذوق پیدا ہو چکا تھا۔ پڑھتے گئے اورچشم تصور سے مصنف کو دوزخ میں جلتا دیکھتے رہے۔

لیکن معلوم نہیں ۔۔کیا تھا۔۔ ایک پھانس سی رہ گئی۔ نہ جانے یہ گناہ گار مصنف جو بات بھی کرتا ہے دل کو کیوں لگتی ہے۔ دلیل عقل کو مرغوب ہے۔ عقل کو کہیں پہلی دفعہ مسلسل فاقوں کے بعد غذا نصیب ہوئی تو نادیدہ ہی ہو گئی۔ ۔۔احساس گناہ کو ایک طرف رکھتے ہوئے میں سوچنے لگا۔۔۔نہیں دہن عقل سے رال ٹپکنے لگی ۔۔”کیا ایسی کوئی اور کتابیں بھی ہوں گی؟” ۔۔دیکھنا تو چاہیے۔ہو سکتا ہے انہوں نے ہی کوئی اور کتاب بھی لکھ رکھی ہو ۔ پھر ایک خیال دل میں آتا کہ میرے نسیم حجازی سے تو امریکہ سے لیے کر سڈنی تک سب واقف ہیں خالد سہیل کا تو نام ہی کبھی نہیں سنا۔اتنا ہی اگر اچھا انسان ہوتا تو چار بندوں سے کبھی تو نام سنا ہوتا۔ لیکن خالد سہیل نامی گناہ گار ، ایک عبادت گزار متقی کے دل میں شک کا بیج رکھ چکا تھا۔ بیج جڑپکڑنے لگا۔۔دنیا اچانک بد صورت ہونے لگی۔۔اسی دنیا میں گلی کے ایک نکڑ پر کش لگاتے سگریٹ کے دھوئیں سے بچنے کے لیے آنکھ میچے فیض صاحب کھڑے مل گئے۔ کان میں سرگوشی کرتے ہوئے فرمایا۔۔

جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم ۔۔خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے ۔۔پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے

نشے غارت ہو گئے۔ خمار ٹوٹ گئے۔ ذہنی آسودگی خواب ہوئی ۔ افیون کی مزید پڑیاں لینا بند کردی گئیں کہ احساس ندامت ، احساس گناہ پر غالب ہوا۔ کبھی کبھی اس دور کو اور اس دور سے جڑی طلسمیات ہو شربا کو یاد کرتا ہوں تو دل سے آہ نکلتی ہے۔۔خدا ہی، خالد سہیل سے پوچھے!

Facebook Comments HS

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 180 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik