گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا!

بچے کو پہلے عمومی تعلیم دی جاتی ہے جو کہ تین مراحل پہ مشتمل ہوتی ہے، ابتدائیہ، متوسطہ اور ثانویہ، اس کے بعد یونیورسٹی کا مرحلہ آتا ہے جہاں بچے کی اپنی صوابدید پہ ہوتا ہے کہ وہ کس تخصص میں سپلائزیشن کرنا چاہتا ہے، قرآن، حدیث، دعوہ واصول دین، شریعہ اینڈ لا، لغت، ہندسیات و طرزیات، علم طب و اسنان، معاشیات اور انتظامی علوم، انسانیات و فنونیات، ماس کمونیکیشن وغیرہ
عمومی تعلیم کے مختلف مراحل کا نصاب انتہائی متوازن اور معاشرتی ضروریات سے ہم آہنگ ہے، جہاں قرآن، حدیث، تفسیر، تجوید، سیرت کی تعلیم کے ساتھ بچے کو سوشل سائنس، معاشرتی علوم، سلوک و اخلاقیات اور جسمانی فکری اور ذہنی نشوونما سے متعلق مضامین پڑھائے جاتے ہیں، عمومی تعلیم کے ان تین مراحل میں بچہ سماج سے متعلق علمی اور شعوری آگاہی حاصل کرتا ہے، بعد میں جب وہ اعلی تعلیم سے فراغت پا کر معاشرے میں لوٹتا ہے تو اسے اپنے اور معاشرے کے درمیان کوئی کمونیکیشن گیپ محسوس نہیں ہوتا ہے۔
جب کہ ہمارے ہاں صورت حال مختلف ہے، ہم دو تین سال کی عمر میں بچے کو مدرسہ و مکتب کے حوالے کرتے ہیں، آٹھ سال بعد جب وہ سوسائٹی میں دوبارہ لوٹتا ہے تو سوسائٹی اس کے لیے اجنبی ہوتی ہے، ہونا یہ چاہیے کہ ہمارے ہاں بھی بچے کو پہلے عمومی تعلیمی اداروں میں داخل کیا جائے(عمومی تعلیمی اداروں کے نظام تعلیم میں نقائص سے انکار نہیں)، عمومی تعلیم سے فراغت کے بعد یہ فیصلہ بچے کو خود کرنے دیں کہ اس نے مولوی بننا ہے کہ ڈاکٹر، انجینئر بننا ہے یا فنکار، طارق جمیل بننا ہے یا عمر شریف۔
ایک بچہ جو مولوی بننے کے لیے پیدا ہی نہیں ہوا ہوتا ہے، اس کے اندر ایک فنکار، ایک مصور اور ایک شاعر ہوتا ہے اس کا گلا گھونٹ کر ہم اسے مولوی بنا دیتے ہیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ مفتی قوی کے روپ میں ڈھل کر مولویت کی جگ ہنسائی کا باعث بنتا ہے۔
سعودی عرب کی طرح ہمارے ہاں بھی یکساں تعلیمی نظام ہونا چاہیے، عمومی تعلیمی مرحلے میں دیندار غیر دیندار، اور امیر و غریب کی تفریق نہیں ہونی چاہیے، جو بچہ عمومی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی رضا اور شوق سے دینی علوم کے تخصص کا انتخاب کرے گا یقیناً وہ ایک بہترین عالم دین بن کر معاشرے میں واپس لوٹے گا، وہ سماج کی نفسیات اور ضروریات سے بھی آگاہ ہوگا اور معاشرہ بھی ایسے اہل لوگوں کا قدردان ہوگا، ورنہ ہم زمانے کی بے قدری کا روتا رہیں گے، مدرسے میں انگریزی اور میتھ کی اک آدھ کتاب شامل نصاب کرکے خوش رہنا کہ ہمارا نصاب تعلیم جدید معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے یہ خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے اور ہم مسلسل خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

