پچاس سال کی خاتون کیسے پیدا ہوئی؟
فیلوشپ کے دوران ایک دن کلینک چل رہا تھا۔ ایک خاتون کافی عرصے سے فالو اپ کے لیے نہیں آئی تھیں تو میں نے ان سے فون کرکے کہا کہ آپ سال میں ایک مرتبہ ضرور آئیں تبھی آپ کو دوا کا ری فل دے سکتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہو رہا ہے، نقصان نہیں ہو رہا۔ جب میں دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوئی تو دیکھا کہ وہ اپنی وہیل چئر پر ایک طرف لڑھک گئی ہیں، ان کا چہرہ ٹیڑھا ہو رہا ہے اور وہ بات نہیں کرسکتیں۔ اپنی ٹریننگ کے مطابق میں نے باہر نکل کر چلا کر کہا کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے، میرے مریض کو اسٹروک ہو رہا ہے۔ فوراً سے مشینری حرکت میں آگئی اور ان خاتون کو ایمرجنسی روم لے جایا گیا جہاں جلدی پہنچ جانے کی وجہ سے ان کو دوا دی گئی جس سے بلڈ کلاٹ پگھل جاتا ہے۔ اگر ان کو وقت پر یہ علاج نہ ملتا تو دماغ کا وہ حصہ جو اس بند شریان سے آکسیجن حاصل کرتا ہے، وہ تباہ ہوتا اور فالج مستقل بھی ہوسکتا تھا۔ وہ مر بھی سکتی تھیں اس لیے اچھا اتفاق ہوا کہ اس وقت وہ گھر پر نہیں بلکہ کلینک میں تھیں۔
ایک مرتبہ ریذیڈنسی میں کوڈ کال آئی۔ ہم سب بھاگے پہنچے تو ایک صاحب اپنا سینہ پکڑ کر کراہ رہے تھے۔ ان کی ای سی جی کی گئی تو اس میں لیڈ ٹو، تھری اور اے وی ایف میں ایس ٹی ایلاویشن تھی جس سے پتا چلتا تھا کہ ان کو دل کی کس دیوار میں دورہ پڑ رہا ہے اور وہ حصہ کون سی خون کی شریان سے جڑا ہوا ہے۔ اس معلومات کو استعمال کرکے کارڈیالوجسٹ کیتھی ٹریزیشن کر کے اس مریض کی جان بچا سکتے ہیں۔
مجھے خود آج تک کتنے ہارٹ اٹیک یا اسٹروک ہوئے ہیں؟ ابھی تک تو نہیں ہوئے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اور کسی کو بھی نہیں ہوتے۔ جب ایک مریض آ کر کہتا ہے کہ میرے سر میں درد ہے تو ہم اس کی علامت کے بارے میں سن کر، تمام وائٹل سائنز، خون کے ٹیسٹ اور سر کے اسکین دیکھ کر یہ تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کو کیا مسئلہ ہے اور وہ کیسے ٹھیک کیا جائے۔ کچھ دائرے ایسے ہیں جن میں اب بھی کافی کھوج کی ضرورت ہے۔ ہمارا کام انسانوں کی زندگی بہتر بنا کر دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانا ہے۔ ہر انسان کے اپنے تعصبات ہوتے ہیں جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کو بچپن سے ہمارے دماغوں میں بٹھایا گیا ہے۔ تجربے کے ساتھ آہستہ آہستہ ہم اپنے تعصبات اور تجربات کو اپنے مریضوں کی انفرادی صورت حال سے جدا کرنا اور ان کی حالت کے بارے میں سیکھتے اور سمجھتے ہیں جس کو ایمپتھی کہتے ہیں۔
ٹرانس جینڈر کے بارے میں مضامین لکھنے کے بعد مجھے دو طرح کے میسجز اور ای میلز موصول ہوئے۔ ایک ان لوگوں کی طرف سے تھے جو خود ٹرانس جینڈر ہیں اور چھپ کر دہری زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے اپنی ناکام شادیوں اور ناخوش زندگیوں کے بارے میں افسوسناک باتیں لکھی ہیں۔ یہ لوگ چونکہ معاشرے میں دیگر افراد سے جڑے ہوئے ہیں، ان کی وجہ سے ان کے تمام خاندان اور خاص طور پر معصوم بچوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ دوسری جانب ایسے افراد ہیں جو اس موضوع پر کانفرنس بلا کر کافی غور کر کے اس کمزور اقلیت کے خلاف قوانین بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ میں انسان کی وکیل ہوں۔ ایک آزاد ملک کے عاقل بالغ انسان کو اپنی مرضی اور پسند ناپسند سے معاشرے میں سر اٹھا کر جینے کا حق ہے۔ کمزور اقلیتوں کے خلاف اکثریت کو بھڑکا کر طاقت حاصل کرنے کا پروسس ایک نیا آئیڈیا نہیں ہے اس کو ہٹلر اور ٹرمپ کی طرح کے افراد استعمال کرچکے ہیں۔
جیسا کہ ہم پاپولیشن اسٹڈیز سے اعداد و شمار جانتے ہیں، یہ اندازہ ہے کہ ان کانفرسوں میں شامل افراد میں ہم جنس پسند تقریباً 5 فیصد ہیں اور ٹرانس جینڈر اعشارہ تین فیصد۔ اے سیکچوئل بھی قریب 5 فیصد ہوتے ہیں۔ اس لیے ان افراد کو اپنی جیسی اقلیت کے خلاف بنائے جانے والے غیرمنصفانہ اصولوں کی مخالفت کرنی چاہیے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ خود اپنی اقلیت کے خلاف سب سے بلند آواز رکھتے ہوں جس کو ری ایکشن فارمیشن کہتے ہیں۔ جیسا کہ زہرا نقوی نے اپنے مضمون میں اندرونی جبر کا ذکر کیا ہے، ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جبر کے بعد ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب جابر کی ضرورت نہیں رہتی۔ 29 سالہ عمر متین خود سے کیوں نفرت کرتا تھا، اس نے 12 جون 2016ء کی رات فلوریڈا نائٹ کلب میں گھس کر پچاس بے گناہ انسانوں کو کیوں قتل کیا؟
ایک سو پیر والے کیڑے سے کسی نے سوال کیا کہ تمہارے اتنے سارے پیر ہیں، یہ کیسے پتا چلتا ہے کہ پہلے کون سا آگے رکھوں؟ یہ سن کر وہ سوچ میں پڑ گیا اور چلنا بھول گیا۔ کچھ افراد کے خیال میں دنیا میں معلومات اتنی زیادہ ہیں کہ کوئی نتائج اخذ کرنا ناممکن ہے۔ معلومات بلاشک بہت زیادہ ہیں لیکن فیصلے ضروری ہیں اور وہ ان معلومات پر مبنی ہوں گے جو انسانی دائرے میں اس وقت موجود ہوں۔ ایک ہی سوال کا جواب وقت اور جگہ کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ میڈیسن میں کسی بھی سوال کا جواب دینے کے لیے پی ای سی او (PECO) میتھڈ استعمال کرسکتے ہیں۔ پی فار پاپولیشن، آئی فار انٹروینشن، سی فار کنٹرول اور او فار آؤٹ کمز۔ ہم کس نتیجے پر پہنچیں گے وہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ کون سا سوال اٹھایا گیا ہے؟ کیا سوال یہ ہے کہ ایک پہلے سے بنے ہوئے سانچے میں تمام انسانوں کو نسل در نسل فٹ کیسے کیا جائے یا سوال یہ ہے کہ انسانوں کی انفرادی صورت حال کے لحاظ سے ان کی مدد کیسے کی جائے؟ میڈیسن کا پہلا اصول ہے کہ "ڈو نو ہارم!” اس ڈسپلن کو استعمال کر کے مریض کی جان بچانے کی کوشش کی جائے گی اور اس کے بعد ان کی زندگی کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ ٹرانس جینڈر افراد میں خود کشی کی شرح زیادہ ہے اور خاص طور پر ایسے ٹرانس جینڈر افراد جو فوج میں کام کرتے ہوں ان میں خود کشی کی شرح اور بھی زیادہ ہے۔ طب کے شعبے کا ستاروں کی گردش سے کچھ تعلق نہیں ہے۔
یہ مضمون اس لیے لکھا ہے کہ میرا موقف سفید اور کالے کی طرح واضح ہوجائے اور یہ بھی اچھی طرح سمجھ لیا جائے کہ میں کس طرف کے لوگوں کی مدد کروں گی۔ ہر انسان کے مسائل مختلف ہیں۔ کل مجھے یا میرے بچوں کو خود کوئی ایسی بیماری ہوجائے جو کسی نے نہ دیکھی ہو نہ سنی ہو تو میں بھی یہی چاہوں گی کہ انسانی ہمدردی کے ساتھ ہماری مدد کی جائے۔ ہم انسانوں کو ہی ایک دوسرے کا خیال کرنا ہے۔ میرے دو ٹرانس جینڈر مریضوں کے کامنٹس یہاں لکھوں گی۔ ان کامنٹس کے بارے میں مجھے کیا سوچنا چاہئیے وہ ابھی میرے ذہن میں بہت واضح نہیں ہے۔ ایک مریضہ نے )جو خود کشی کرنے سے بچ گئی تھیں( کہا کہ "آپ نے پچاس سال کی خاتون کو جنم دیا ہے۔” اور دوسرے نے کہا کہ "آپ خدا کا کام کر رہی ہیں۔”


