عمران خان کی کرپشن مہم، سعودی عرب اور ڈانلڈ ٹرمپ

دوسری طرف ہمارے سامنے لاہور کے حلقہ 120 کے ضمنی انتخابات کے نتائج بھی ہیں۔ ضمنی انتخابات عام طور پر حکومتی حمایت یافتہ امیدوار جیتتا ہے۔ حکومت وقت اپنے امیدوار کو کامیاب کروانے کے لئے ہر طرح کے ذرائع استعمال کرتی ہے۔ اس لئے لاہور کے حلقہ 120 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کے جیتنے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ نہ صرف پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا بلکہ مریم صاحبہ کو گلی گلی جا کر کمپین چلانے پر مجبور ہونا پڑا، پھر جا کر ان کو بمشکل 14 ہزار ووٹ سے کامیابی نصیب ہوئی۔
پشاور حلقہ نمبر 4 کا نتیجہ بھی سب کے سامنے ہے۔ خیبر پختونخوا کی روایت ہے کہ ادھر جس پارٹی کی حکومت ہو، اگلے انتخابات میں وہ ہار جاتی ہے۔ لیکن پشاور میں تحریک انصاف کے حکومتی امیدوار کو مسلم لیگ ن اور اے این پی کے مقابلے میں دگنے سے کچھ کم ووٹ ملے۔ عمران خان کچھ اچھا کر رہے ہوں گے جو وہ وہاں جیتے ہیں ورنہ خالی حکومت ہونے سے کیا ہوتا ہے۔
ہر ذی شعور شخص کو یہ اعتراف بھی کرنا پڑے گا کہ عمران خان کی کرپشن کے خلاف مہم کے نتیجے میں نواز شریف کی رخصتی کے جھٹکے دنیا بھر میں محسوس کیے گئے۔ حتی کہ نواز شریف کے سب سے بڑے حامی سعودی بادشاہ بھی اب خان صاحب کی پیروی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ادھر اب سعودی خاندان کے ان طاقتور شہزادوں کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا جانے لگا ہے جن کا ٹریفک چالان کاٹنے کا بھی تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ بلکہ چھوٹے موٹے سعودی شہزادوں کو بھی برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک تک میں ہاتھ لگانا تقریباً ناممکن تھا۔ عمران خان نے دنیا بھر کو کرپشن کے خلاف یہ شعور اور اس کے خلاف لڑنے کا حوصلہ دیا ہے۔
ہمیں امید ہے کہ حالات معمول پر آتے ہی شاہ سلمان خاص طور پر دعوت دے کر عمران خان صاحب کو اپنے پاس بلائیں گے اور ان سے ایک عدل و انصاف اور آئل فری معیشت والے نئے سعودی عرب کے قیام کے سلسلے میں تجاویز لیں گے۔ جنرل راحیل شریف پہلے ہی ادھر موجود ہیں۔ عمران خان صاحب کی تجاویز اور حوصلہ ہوں اور جنرل صاحب جیسا عمل کرنے والا جری شخص، تو نیا سعودی عرب کیوں نہیں بنے گا؟
اگلے انتخابات میں عمران خان صاحب کی فتح یقینی ہے۔ وہ پشاور میں جیت سکتے ہیں تو گوادر سے لنڈی کوتل تک ان کی جیت ممکن ہے۔ لیکن ایک دھڑکا ہے۔ امریکہ کو دیکھیں تو سٹیٹس کو کے حامی طبقات کی شدید مخالفت کے باوجود ڈانلڈ ٹرمپ جیسا حق گو، دلیر اور منہ پھٹ شخص امریکی عوام کے سونامی کے بل پر امریکہ کا صدر بن گیا۔ مخالفین نے کیا کیا الزام نہیں لگائے تھے اس پر۔ عورتوں کے ساتھ اس کے سکینڈل بنائے گئے، اسے احمق مشہور کیا گیا، اس کی شادیوں پر اعتراض کیا گیا، یہ کہا گیا کہ وہ سوچے سمجھے بغیر بیان دے دیتا ہے اور بعد میں اس کی ٹیم مصیبت میں پڑ جاتی ہے کہ اس بیان کو کیسے جسٹیفائی کریں۔ لیکن عوامی سونامی پر سوار ڈانلڈ ٹرمپ نے پراپیگنڈے کی ایسی جنگ لڑی جس پر پراپیگنڈے کا بادشاہ گوئبلز بھی ناز کرتا اور سٹیٹس کو کی حامی قوتوں کو شکست فاش دی۔ ٹرمپ صدر بن گئے۔
عمران خان کا بھی ویسا ہی معاملہ ہے۔ ان پر بھی یہی سب الزامات لگائے گئے ہیں۔ سٹیٹس کو کی حامی قوتیں ان کے اقتدار کی راہ میں حائل ہیں۔ ان پر بھی کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔ ان کے بھی سکینڈل بنائے جاتے ہیں۔ ان کے بیانات کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے۔ مگر خان صاحب دل لگا کر پراپیگنڈے کی جنگ لڑتے رہیں۔ بالآخر فتح حق کی ہی ہو گی۔ اور حق صرف وہی ہے جو خان صاحب کسی سے ڈرے بغیر ببانگ دہل کہتے ہیں۔
اب سٹیٹس کو کی حامی قوتین ڈانلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ ایک سچے عوامی نمائندے کو اقتدار سے ہٹایا جائے اور پرانے امریکہ میں کھل کھیل کر کھیلا جائے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ وزیراعظم بنتے ہی عمران خان کے خلاف بھی یہی سب کچھ کیا جائے گا جو ان کے سیاسی ہمزاد کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ پراپیگنڈے کی جنگ میں عمران خان کے سامنے گوئبلز کیا، ڈانلڈ ٹرمپ بھی پانی بھرتا ہے۔ اندھی عوامی حمایت کے سونامی کے بل پر عمران خان جلد ہی نیا پاکستان بنا دیں گے اور ان کے مخالفین حیران ہوتے پھریں گے کہ اس بلا سے کیسے جان چھڑائیں۔
لیکن ہم عمران خان کے مخالفین کو خبردار کر دیتے ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں پوری دنیا ایک نئے کرپشن فری دور کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سعودی اور امریکی تو پہلے ہی عمران خان سے قیادت کے گر سیکھ رہے ہیں۔ جس وقت عمران خان وزیراعظم ہوں گے اور ان کی پشت پر ان سے متاثر شدہ سعودی اور امریکی حکمران ہوں گے تو جیت حق کی ہی ہو گی۔ مدعی لاکھ برا چاہے کیا ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔

