سلطنت عثمانیہ کے شاہی حرم سرا میں کیا ہوتا تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ترکی کی حسین اسلامی روایات پر اس قدر فریفتہ اور عمل پیرا ہیں کہ ہم اپنی خواتین کی دوسروں کے سامنے تشہیر نہیں کرتے، لیکن ترقی کے علمبرداروں اور اسلامی روایات کے دشمنوں نے ابھی تک عورت کو حرم سرا سے متعلق افواہوں کا موضوعِ سخن بنایا ہوا ہے۔ آخر حرم سرا ہے کیا؟ اگرآپ ان سے یہ سوال پوچھیں گے تو وہ جواب میں کہیں گے کہ مغرب ہم سے شدید بغض کی بنیاد پر جو قصے بیان کرتا ہے وہ درست ہیں۔ ان کی نظر میں جانوروں کی افزائشِ نسل کے مراکز کی طرح حرم سرا بھی افزائشِ نسل کا مرکزتھا… یہ بہتان طرازی اور افترا پردازی ہے۔

’’تنظیمات’’کے دور سے ہم حرم سرا سے متعلق معلومات اپنے مآخذ کی بجائے مغربی مآخذ سے حاصل کر رہے ہیں۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ کچھ دن پہلے میں نے ایک جرمن سے کہا تھا: ‘‘اگرآپ بازار یا لائبریری میں جائیں گے تو آپ کو نہ صرف فرانس، جرمنی اور اٹلی بلکہ بعض ایشائی ممالک کے حرم سراؤں کے قصوں پر مشتمل ان کے گندے ماحول کی عکاسی کرنے والی بہت سی فلمیں، ڈرامے اور کتابیں ملیں گی، لیکن فتح استنبول کے بعد کی پانچ سو سالہ تاریخ (اس سے پہلے دور کی تو بات ہی کیا ہے) میں آپ کو شاہی حرم سرا سے متعلق کوئی فحش واقعہ سننے کو نہ ملے گا۔ اس قسم کے واقعات کے نہ سنے جانے کی وجہ رازداری نہیں، بلکہ ہمارے ہاں حرم سرا میں فحش واقعات پیش ہی نہیں آئے۔ ‘‘

اس قسم کے فحش واقعات نہ صرف شاہی حرم سرا میں پیش نہیں آئے، بلکہ مالدار طبقے کے حرم سرا بھی ان سے محفوظ رہے ہیں، کیونکہ ہمارے ہاں حرم سرا نہ صرف پاکدامنی اور پاکیزگی کا نمونہ ہے، بلکہ وہ ہمارے ہاں عورت کے خصوصی مقام و مرتبے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ ہماری تاریخ کی خوبیوں کا انکار کرنے والوں نے ہمیں اپنی تاریخ کے درخشاں پہلوؤں کو دیکھنے سے محروم کر رکھا ہے۔ درحقیقت عورتوں اور مردوں کی اجتماع گاہیں جدا رکھنا اور انہیں ناجائز میل جول کی اجازت نہ دینا مرد اور عورت میں موجود ضعف کے نتیجے میں توازن قائم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حرم سرا نہ صرف تقدس و حرمت کی حامل جگہ تھی، بلکہ وہ خاندانی فساد اور نسبوں کے اختلاط کی راہ میں رکاوٹ اور ترکی کی اسلامی روایات کے حسن و جمال کا مظہر تھا۔

حرم سرا ایسا گلدستہ ہے، جس سے پھولوں کی مہک اور اخلاق واقدار کی خوشبو پھوٹتی ہے۔ ہمارے ہاں خوابگاہ کی خصوصی حیثیت ہوتی ہے، کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں نسب کا تعین اور اس کی حفاظت ہوتی ہے اور جہاں پوری رازداری اور خصوصیت کے ساتھ خاندان کی داغ بیل پڑتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے مہمانوں کے لیے کھولا جاتا ہے اور نہ ہی یہاں کسی کو بلایا جاتا ہے، نہ صرف اجنبی بلکہ خاندان کے دوسرے افرد بھی جب چاہیں وہاں نہیں جا سکتے۔ خوابگاہ کو اس قدر رازداری (Privacy) حاصل ہوتی ہے کہ ہمیں تربیت دی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص ہماری تکریم کی خاطرہمیں سونے کے لیے اپنی خوابگاہ پیش کرے تو ہم اس کی دعوت کو قبول نہ کریں۔ خوابگاہ بھی دوسرے کمروں کی طرح ایک سادہ سا کمرہ ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس قدر رازداری برتنے میں کیا راز ہے؟ ہمارے ہاں ہر چیز کا رنگ مختلف ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی آداب کا خیال رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے حرم سرا صرف عثمانیوں کا ہی امتیاز نہیں، بلکہ ہم میں سے ہر ایک کے گھرمیں حرم سرا ہے۔ جو لوگ اس بارے میں اپنے آباء واجداد پر تنقید کرتے ہیں وہ دراصل اپنے اوپر تنقید کر رہے ہوتے ہیں۔

عثمانیوں کے ہاں حرم سرا کو اور بھی زیادہ رازداری (Privacy) حاصل ہوتی تھی اور ہر کسی کو حرم سرا میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ جیساکہ بعض محلات میں دیکھا گیا ہے حرم سرا کے گرد اونچی اونچی دیواریں کھڑی کی جاتی تھیں، مثلاً توپ کاپے کے محل میں حرم سرا کے حصے کو باقی محل سے جدا رکھنے میں بڑی احتیاط برتی گئی ہے، جہاں محل کی خواتین اور کنیزیں باغیچوں اور باغات میں شرعی حدود میں رہتے ہوئے سیر و تفریح اور آرام کرتی تھیں۔ اس بندوبست سے خواتین اور کنیزوں کی کسی نامناسب چیز پر نظر پڑنے سے حفاظت کرنا مقصود ہوتا تھا۔ ان خواتین اور کنیزوں کی عام زندگی اور سیر و تفریح شریعت کی حدود میں ہوتی تھی۔ وہ باہر جھانکتیں تھیں اور نہ ہی ان کی نظر اپنے خاوندوں اور محرموں کے سوا کسی پر پڑتی تھی۔

دراصل محل سے وابستہ مرد بھی ایسی ہی زندگی بسر کرتے تھے اور یہ تمام پابندیاں ان پر بھی عائد تھیں۔ ان کی زندگی بھی دیواروں کے پیچھے گزرتی اور وہ صرف حلال تفریح سے محظوظ ہوتے تھے۔ اگر یہ زندگی محل کی قید سے عبارت ہے تو مرد بھی اس قید میں برابر کے شریک تھے۔ اگر لوگ اس بات پر تنقید کرتے ہیں تو میرے خیال میں وہ ایسی چیز پر تنقید کر تے ہیں، جس کا انہیں علم ہی نہیں، تاہم اگر اس تنقید کا رخ محل میں خواتین کی کثرت کی طرف ہے تو اس کا جواب قدرے تفصیل طلب ہے۔

یہ درست ہے کہ بعض عثمانی سلاطین کی دو دو یا تین تین بیویاں تھیں، لیکن اس کے خلاف ہم کچھ کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ مغرب، اس کے نظریات اور آراء معیار ہیں اور نہ ہی سب کچھ ہیں۔ ایک دور تھا جب اہل مغرب مختلف انداز سے سوچتے تھے۔ آج وہ تعددِازواج پر اعتراض کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کل وہ آج کے طرزِفکر پر تنقید کرنے لگیں۔

مزیدبرآں جس ذات کو اس بارے میں بات کہنے کا حق حاصل ہے، اس نے اپنی بات کہہ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو مخصوص شرائط کے ساتھ چار عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے۔ صرف عثمانی سلاطین نے ہی اس رخصت سے فائدہ نہیں اٹھایا کہ انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جائے، بلکہ رسول اللہﷺ، صحابہ کرام اور مسلمانوں کی بہت سی عظیم ہستیوں نے اس رخصت سے فائدہ اٹھایا ہے، لہٰذا دین کی عطاکردہ اس رخصت پر تنقید کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں۔ بعض لوگوں کی دو دو اور تین تین بیویاں ہوتیں، لیکن ان کی راتیں عبادت میں اور دن روزے کے ساتھ گزرتے ۔

ایک اور موضوع جسے حرم کے موضوع کے ذیل میں اٹھایا اور ہدفِ تنقید بنایا جاتا ہے، کنیزوں کا معاملہ ہے۔ چونکہ غلامی کی جس صورت کو اسلام نے باقی رکھا ہے، اس پر ہم تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں، اس لیے ذیل میں صرف یاددہانی کے طور پر انتہائی اختصار کے ساتھ اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔

کنیزیں جنگ کے دوران گرفتار ہونے والی خواتین کو کہتے ہیں۔ مسلمان انہیں اپنے گھروں میں رکھ کر ان کی تربیت کرتے، انہیں اچھی زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھاتے اور ان کی تمام جسمانی اور روحانی ضروریات پوری کرتے۔ اگر ان میں سے کوئی دین اسلام کو قبول کر لیتی تو عام طور پر اسے آزاد کر دیا جاتا تھا، اسی طرح اگر اس کے مالک کا اس سے کوئی بچہ جنم لیتا تو وہ‘‘ام الولد’’ بن کر آزادی کی مستحق ٹھہرتی۔ باقی جہاں تک ان سے جنسی تعلقات قائم کرنے کا تعلق ہے تو چند شرائط کے ساتھ ان کے مالک کو اس کی اجازت تھی۔ ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ اس کا کوئی خاوند نہ ہو۔ دوسری یہ کہ وہ مکمل طور پر ایک ہی شخص کی ملکیت میں ہو اس کے ایک سے زائد حصہ دار نہ ہوں۔

چونکہ اس موضوع پر گفتگو ناگزیر ہے، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ جنگ میں گرفتار عورتوں (کنیزوں) میں ایک طرح کی مشترکہ ملکیت کا پہلو پایا جاتا ہے، لیکن اسلام کی رُو سے مالک اس مشترکہ ملکیت کو ختم کرکے اسے اس سے نجات دلاتا ہے، اس کی آبرو کی حفاظت کرتا ہے اور اسے آزادی کے مواقع فراہم کرتاہے۔

آج قیدیوں کے ساتھ جو برتاؤ کیا جاتا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ انہیں اصطبل نما جگہوں میں جانوروں کی طرح رکھ کر طرح طرح کے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جس سے ظلم و ستم ڈھانے والوں کو خوشی محسوس ہوتی ہے۔ کچھ ہی عرصہ پہلے ایک اسرائیلی فوجی نے ایک فلسطینی نوجوان کے ساتھ جو برتاؤ کیا اسے ساری دنیا نے دیکھا۔ باقی اہل مغرب کی اجتماعی قتل و غارت گری کا تو ہر کسی کو علم ہے۔ اہل مغرب کے اس وحشیانہ سلوک کو دیکھنے کے بعد ان کی تنقید کا جائزہ لیں تو یہ کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ اہل مغرب انسانیت کے مفہوم سے آشنا ہیں اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ انسانوں کے ساتھ کیسے برتاؤ کیا جاتا ہے، اسی لیے وہ انسانوں کے ساتھ برتاؤ کے اسلامی تصور کو نہیں سمجھ پاتے۔ چونکہ وہ انسانی معاملات کا ادراک نہیں رکھتے، اس لیے انسانی سلوک پر تنقید کرتے ہیں۔ درحقیقت اہل مغرب کی یہ ناواقفیت کوئی تعجب خیز بات نہیں، بلکہ سراسر ان کے مزاج کے مطابق ہے، لیکن تعجب تومغرب کی تقلید کرنے والے اپنے ہم وطنوں کی جہالت پر ہے۔

وہ ہم سے جنگ میں گرفتار قیدیوں سے کس قسم کے برتاؤ کے امیدوار ہیں؟ کیا ہم انہیں آزاد کر دیں، تاکہ وہ دوبارہ مسلح ہو کر ہم پر حملہ آور ہوں؟ کیا ہم ان کے قیدیوں کے ساتھ یہ برتاؤ ایسے وقت میں کریں جب وہ ہمارے جنگی قیدیوں کو بدستور اپنی قید میں رکھتے ہیں؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ہم سے اپنی مرضی کے مطابق جس طرح بھی بن پڑے اپنے قیدی رہا کرا لیں اور پھر ہم سے اس بات کے امیدوار بھی رہیں کہ ہم اپنی عظمت اور مروت کے پیش نظر ان کی قیدیوں کو رہا کر دیں؟ کیا یہ غفلت اور بے وقوفی نہیں ہے؟ اگر ہم دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈالنے کے لیے کسی قسم کی تادیبی کاروائی نہیں کرنا چاہتے تو پھر ان سے جنگ کیوں کرتے ہیں؟ کیوں ہزاروں انسانوں کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں؟ کیوں ہزاروں عورتوں کو بیوہ اور ہزاروں بچوں کو یتیم کرواتے ہیں؟

جو لوگ جنگ شروع کرتے ہیں وہ جنگ کے عواقب سے باخبر ہوتے ہیں اور اس کے نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ جنگ میں شریک ہو کر قید ہونا بھی جنگ کا ایک نتیجہ ہے، لہٰذا کیا اسلامی اصولوں کی روشنی میں قیدیوں سے سلوک کرنا بہتر اور زیادہ انسان دوست رویہ نہ ہو گا؟ جس طرح دشمن ہمارے آدمیوں کو قیدی بناتے ہیں، اسی طرح ہم ان کے آدمیوں کو قیدی بناتے ہیں۔ اب ہم ان قیدیوں کے ساتھ کیسا سلوک کریں؟ کیا ہم انہیں آزاد کر دیں یا انہیں موت کے گھاٹ اتار دیں؟ نہیں، بلکہ ہم انہیں مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیں گے اور جب وہ ان گھروں میں اسلام کا روحانی ماحول دیکھیں گے تو ان کے دل اسلام کی طرف مائل ہوں گے اور ان کے مسلمانوں کے ساتھ ذاتی تعلقات قائم ہوں گے۔ ایسا انسانی برتاؤ دیکھ کر وہ بغیر کسی جبرواکراہ کے بخوشی اسلام قبول کر لیں گے، تب اسلامی مروت کا مظاہرہ ہو گا اور ان کے لیے آزادی کی بہت سی صورتیں پیدا ہو جائیں گی۔ چونکہ ان کے مالک غلاموں کو آزاد کرنے کے ثواب سے واقف ہیں، اس لیے وہ اپنے مسلمان بھائیوں کو کبھی بھی غلام بنا کر رکھنے کو پسند نہ کریں گے، مزیدبرآں بہت سے گناہوں کی توبہ کی پہلی شرط ہی غلام آزاد کرنا ہے، غرض اسلام میں غلاموں کو آزادی کی نعمت سے نوازنے کی بہت سی صورتیں ہیں۔

ہم قیدیوں کے ساتھ انسانوں جیسا برتاؤ کرتے ہیں، ان کی صحیح انسانی تربیت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، دنیا اور آخرت کے درمیان اعتدلال پیدا کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں اور اسلام کی طرف ان کی راہنمائی کرنے کے لیے جو کچھ ہمارے بس میں ہوتا ہے کرتے ہیں، جس کے لیے سب سے پہلا اقدام ان کے ساتھ انسانوں جیسا برتاؤ ہے۔ محلات میں غلاموں خصوصاً کنیزوں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ ہوتا تھا۔ کیا ان محلات سے برے سلوک کی وجہ سے کبھی کسی عورت نے بھاگنے کی کوشش کی ہے؟ کیا ایسی ایک مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے؟ ہرگز نہیں، ایسی کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔

آخر میں ہم اِس انسانی برتاؤ اور سلوک کے نتائج کا تاریخ کی روشنی میں جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاریخ سے ایک اصطلاح’’موالی‘‘کا پتا چلتا ہے۔ موالی ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو (خود یا ان کے آباء واجداد) غلام رہے ہوں اور پھر انہیں آزادی نصیب ہوئی ہو۔ موالی میں ایسی ایسی عظیم ہستیاں پیدا ہوئی ہیں، جن کا نام تا قیامت انتہائی احترام سے لیا جاتا رہے گا۔

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا شمار بھی موالی میں ہوتاہے۔ رسول اللہﷺ ان سے اپنے نواسوں کی طرح محبت فرماتے تھے۔ آپﷺ نے انہیں بازنطینیوں کی سرکوبی کے لیے بھیجی جانے والی جنگی مہم جس میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمررضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ کرام بھی شامل تھے، کی قیادت سونپی۔ اس وقت ان کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ ان کے والد حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے غزوۂ موتہ کی قیادت کرتے ہوئے شہادت پائی تھی۔

امام مالک جیسے شخص کی تربیت کرنے والے حضرت نافع رضی اللہ عنہ بھی موالی میں سے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی مرجانہ نامی ایک باندی تھی، جس سے انہیں شدید محبت تھی، لیکن جب آیت مبارکہ ﴿لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّی تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ (آلِ عمران:۹۲) ‘‘مومنو!جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمہیں عزیز ہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے۔ ’’ نازل ہوئی اوران کے پاس اس سے زیادہ پسندیدہ کوئی چیز نہ تھی تو انہوں نے پسندیدہ چیزیں راہِ خدا میں خرچ کرنے والوں میں شمار ہونے کے لیے اسے قربِ الٰہی کے حصول کی خاطر آزاد کر دیا۔ (54) پھر مرجانہ نے کسی شخص سے شادی کی اور اس کے ہاں حضرت نافع پیدا ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان سے محبت کرتے اور انہیں اپنے سینے سے لگاتے۔ انہوں نے حضرت نافع کی تربیت کی اور انہیں علم کے اعلیٰ ترین مقام تک پہنچایا۔ وہ خود بھی امت کے عظیم عالم تھے۔ عالم اسلام کایہ درخشندہ ستارہ بھی موالی میں سے تھا۔

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، مسروق اورطاؤس بن کیسان وغیرہ بہت سی عظیم ہستیاں موالی تھیں حتی کہ اموی دور کے دو علماء نے ایک مذاکرے میں اکاون علماء کا تذکرہ کیا، جن میں سے پچاس موالی تھے۔ اگر یہ محلات ایسی شخصیات تیارکرتے تھے (جو کہ ایک حقیقت ہے) تو ہمیں چاہیے کہ کچھ عرصے کے لیے اپنی آزادی سے دستبردار ہو کر وہاں تربیت حاصل کریں اور پھر دوبارہ اپنی آزادی حاصل کر لیں، لہٰذا ہم اس سلسلے میں کسی قسم کی تنقید کا جواز نہیں پاتے، ہمیں بغیردلیل کے قائم کردہ خیالات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے۔
Nov 7, 2017

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>