خوبصورتی، تجربے کی یادداشت اور شعور کے نادان دشمن
انسان حواسِ خمسہ رکھتا ہے اور اس کی ہر حس حسن کی متلاشی ہے۔ حسن پابندِ تعریف نہ سہی لیکن یہ ہم سب کا تجربہ ہے کہ ہمارے چھونے کی حس کے نزدیک وہ حسن ہے جسے چھونے کی پیاس ہمارے ہاتھ محسوس کرتے ہیں۔ آنکھ کے لئے ترتیب و تزئین، زبان کے لئے ذائقہ، ناک کے لئے خوشبو اور کانوں کے لئے مترنم آوازیں اور موسیقی حسن ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہر حس پر حسن و جمال کا تجربہ اور نظارہ حلال ہے تو پھر کچھ لوگوں کے نزدیک سماعت پر کیوں نہیں؟
کہیں سماعت پر حسن کا تجربہ حرام قرار دینے والے ہماری سماعتوں پر قابض تو نہیں ہونا چاہتے ؟
علمِ صوتیات (Phonetics) کے طالب علم جانتے ہیں کہ محض نظم یا شاعری ہی نہیں۔ ہر زبان کا ایک ایک لفظ کچھ صوتی ارکان (syllables) پر مشتمل ہے اور ہر رکن میں حروفِ صحت اور حروفِ علت کی مترنم ترتیب کی مدد سے لفظ ادائیگی کے قابل ہوتا ہے۔ یہ حروف ادا کرتے وقت کبھی ہم پھیپھڑوں سے نکلنی والی ہوا کو روک کر ارتعاش پیدا کرتے ہیں اور کبھی روکے بغیر۔ دنیا کی ہر زبان کا ہر ایک لفظ اسی موسیقیائی ترکیب سے بنا ہے۔
زبانوں میں فطری ترنم ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو لفظ موسیقی کے اصولوں پر پورا نہیں اترتا وہ نہ تو ادائیگی میں سہل ہوسکتا ہے، نہ ہی سننے میں بھلا لگتا ہے اور نہ یاد رکھا جاسکتا ہے۔ جو آواز موسیقی سے تہی ہو حافظہ اُسے قبول نہیں کرتا اور عین اسی طرح اگل دیتا ہے جیسے کوئی بیمار کونین کی گولی یا سمندر لاش کو۔ موسیقیت سے محروم لفظ یاد یا واقعہ اگر انسانی یاداشت میں رہ بھی جائے تو پھوڑے کی طرح تکلیف دینا شروع کردیتا ہے۔ جیسے لاش اگر پانی میں رہ جائے تو پانی کو بھی متعفن اور بدبو دار بنا دیتی ہے۔ تحلیلِ نفسی کے دبستان سے وابستہ لوگ جانتے ہیں کہ تحلیلِ نفسی ایسی ناخواشگوار واقعات کو تلاش کرکے انہیں شعور سے اس طرح نکالنے کا عمل ہے جن کا ذہن میں رہ جانا نفسیاتی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔
اس سے ملتی جلتی حقیقت سے علمِ عروض کے ماہرین بھی واقف ہیں کہ ایک طرف تو ہر زبان کے الفاظ موسیقی کے سانچے پر کسے ہیں تو دُوسری طرف ایک مصرعے میں حروف علت و صحت کی ترتیب بدلنے سے بحریں بنتی ہیں اور یوں شاعری حرف بہ حرف یاد رکھے جانے کے قابل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ایسی عبارت کبھی یاد نہیں رکھی جاسکتی جو موسیقی سے عاری ہو کیونکہ لفظ کی کوکھ موسیقی سے خالی ہو تو نہ صرف شاعری اور گیت کا امکان ختم ہوجاتا ہے بلکہ نہ کوئی ان الفاظ کو یاد رکھ سکتا ہے اور نہ ہی آسانی سے ادا کرسکتا ہے۔ اس لئے موسیقی کو حرام قرار دینا اس قدر آسان نہیں بلکہ انسانی حافظے، نطق اور شعور کی بنیادوں سے جنگ لڑنا ہے۔ موسیقی ہمارے حافظے، یاداشت اور سماعت کا مذہب ہے۔ اسے حرام قرار دیتے ہی آپ دنیا بھر کی زبانوں، حافظے اور نطق کی بنیادوں کو حرام قرار دے رہے ہیں۔
موسیقی، انسانی حافظے اور سماعت کے مابین تعلق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انسان نے زبان سے پہلے ردھم، ترنم اور موسیقی سے لو لگائی ہوگی۔ اس لئے دنیا کا ہر خطہ خواہ ایک دُوسرے سے الگ تھا لیکن جہاں زبان تھی وہاں موسیقی ضرور موجود تھی اور دنیا کے ہر خطے کی زبان کی بنیاد اُس علاقے کے بنیادی ردھم پر رکھی گئی تھی۔ ایسا ہرگز نہیں تھا کہ موسیقی کا علم رکھنے والے نابغے کسی علاقے میں سنائی دینے والی آوازوں کو موسیقی کے قالب میں ڈھال رہے تھے بلکہ لطیف آلات سے لیس یہ فنکار کسی خطے یا ثقافت کی جمالیاتی روش اور میلان کو قابلِ سماعت بنانے کی کرامات دکھا رہے تھے۔ یہ لوگ کسی خطے میں مقیم لوگوں کے مذاق کو صوتی لوگو(audible logos) میں ڈھال رہے تھے اس لئے مختلف ثقافتوں کو محض بیرونی خال و خد سے نہیں بلکہ ہر خطے کو اس کی انفرادی موسیقی سے بھی پہچان سکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسیقی کا علم رکھنے والی نابغہ روزگار شخصیات کسی ثقافت کی ماورائے سخن اور غیر جسمی اثاثوں، جہات اور میلانات کو آواز بخشی ہے۔
موسیقی ماورائے سخن کو زبان دینے کا نام ہے، اس بات کا اشارہ ہمیں ارسطو کی تنقیدی کتاب بوطیقا (Poetics) میں بھی ملتا ہے۔ مثال کے طور پر المیہ (tragedy) میں موسیقی کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے ارسطو نے کہا تھا کہ المیہ (ڈرامے) کے دوران جو کچھ باہر ہو رہا ہو اُس کے اظہار کے لئے مکالمہ اور ایکشن ہے جبکہ باطنی واقعات کے لئے، یعنی جو کچھ کردار کے اندر اُس کے باطن بلکہ بطن البطون میں ہو رہا ہو اُس کا ظہور صرف موسیقی سے ممکن ہے۔
ہمارا روزمرہ مشاہدہ ارسطو کی اس بات کو سچ ثابت کرتا ہے کہ جب کوئی کسی المیے کا شکار ہوتا ہے، کسی جذباتی صدمے سے گذرتا ہے، حُسن کا سامنا کرتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ اُس کی زُبان گنگ ہوجائے اور وہ محسوس کرے کہ وہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے وہ صرف شاعری کی زُبان میں کہا جاسکتا ہے کیونکہ شاعری کی دنیا عام بات چیت کی سرحد سے پار ہے۔ جو کچھ عام گفتگو میں نہیں کہا جاسکتا اُس کا اظہار شاعری میں ممکن ہے لیکن جب دُکھ، خوشی، حیرت اور جلال و جمال کا تجربہ آپ کو شاعری کی دنیا سے بھی پار لے جائے اور اظہار شاعری کے بحرِ اظہار میں بھی نہ سما سکے تو اُسے صرف موسیقی کی زُبان میں محسوس (experience) کرایا جاسکتا ہے۔ موسیقی کا جہان شاعری کے جہاں سے کہیں بڑا اور اناپ ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ شاعری کہکشاں ہے تو موسیقی کائنات۔ شاعری دریا ہے تو موسیقی سمندر اور جب جب انسان وہ کچھ کہنا چاہے گا جو ماورائے کلام یا پھر کبیر کے الفاظ میں ’اکت‘ ہے تو وہ موسیقی کا سہارا لے گا کیونکہ موسیقی کی صورت میں انسان کو وہ زُبان میسر ہے جو کسی قادرالکلام یا بحرِ سخن شاعر کے پاس نہیں بھی نہیں ہوسکتی۔
پاکستان میں مذہب کے نام پر جاری ثقافتی تخریب کو اگر اس زاویے سے دیکھا جائے تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہاں مذہب کے لبادے میں ثقافتی تخریب کار اس خطے میں رہنے والوں کو نہ صرف اظہار کے بلند ترین ذرائع سے محروم کرنا چاہتے ہیں بلکہ ان کی جمالیات، شعور اور حافظے کا قتل کر کے انہیں گونگا بنارہے ہیں۔ یہاں پر اگر ہم عرب استعمار کی گھڑی عربی و عجمی کی تفریق کا سہارا لیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو معاشرے شعوری و جمالیاتی لحاظ سے اس قدر ارتقا یافتہ نہیں تھے کہ ماورائے کلام کو قابلِ سماعت بنانے کا گُر جانتے ہوں، وہ معاشرے ہی حقیقت میں عجمی معاشرے تھے کیونکہ کسی بھی صاحبِ کلام کا اصل ہنر یہ نہیں ہے کہ وہ وہ سب کہہ دے جو کہا جا سکتا ہے بلکہ وہ کچھ کہنے کا گُن ہے جو اکت ہے اور نہیں کہا جاسکتا۔ لہٰذا ایسے میں کوئی اگر موسیقی کے خلاف یہ دلیل پیش کرے کہ عرب میں موسیقی نہیں تھی، لہٰذا مذہب میں موسیقی حرام ہے تو وہ عربوں کو ایسے معاشروں سے بھی ہزار گنا گونکا قرار دے رہا ہے جنہیں عرب گونگا کہا کرتے تھے۔
اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ موسیقی اور انسان کے درمیان رشتہ کس قدر گہرا اور اٹوٹ ہے۔
موسیقی اور انسانی شعور پر تحقیق کرنے والے ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ انسانی بچے کی بنیادی تربیت موسیقی پر ہوتی ہے۔ جب بچہ شکمِ مادر میں ہوتا ہے ماں کے دل کی دھڑکن سنتا ہے۔ دنیا میں آتے ہی انسانی بچے کے رونے کی ایک وجہ ردھم کی دنیا سے نکل کر بے ہنگم شور شرابے کی دنیا میں آجانا ہے۔ یوں انسان پہلی بار ردھم کے لئے روتا ہے۔ انسان اور موسیقی کے مابین ان اٹوٹ رشتوں کی خبر دینے والے نفسیات دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسان کا دنیا میں امن، شانتی، ترتیب و تزئین کا متلاشی ہونا دراصل اسی اولین ردھم (primordial rhythm) کو جہانِ مجاز میں مجسم کرنے کی دُھن ہے جو اُس نے کبھی سنا تھا اور اب سننے کے ساتھ ساتھ دیکھنا بھی چاہتا ہے۔
ا س زاویے سے دیکھا جائے تو موسیقی ہی وہ آواز ہے جسے سننے کا درس ہمیں مولائے روم کی شاعری سے ملتا ہے :
’’وہ آواز سنو جو الفاظ کی محتاج نہیں ‘‘۔
یہ سب جانتے ہوئے اگر کوئی موسیقی اور انسان کے درمیان رشتہ ختم کرنا چاہتا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ بچے شکمِ مادر میں نہیں، مشین میں پیدا کئے جائیں۔ لیکن اس رشتے کے دشمن یہ بھی جان لیں کہ اب تک اس مقصد کے لئے استعمال ہونے والی مشینوں میں بھی دل کی دھڑکن سنانے کا اہتمام کیا جاتا ہے کیونکہ آلات موسیقی جلانے والوں جنونیوں کے برعکس اہلِ علم جانتے ہیں کہ موسیقی اور انسان کا رشتہ نہ رہا تو شاید وہ انسان کے نام پر ہم کوئی اور ہی مخلوق پیدا کربیٹھیں گے۔ ایسی مخلوق جس کا نہ ردھم سے رشتہ ہوگا اور نتیجتاً نہ امن، شانتی، ترتیب و تزئین اور حسن سے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسے انسان کے نہ صرف کان حسن و قبح اور ان کے درمیان موجود گرے ایریاز کی شناخت نہ کرپائیں بلکہ آنکھ نظارے، زبان ذائقے اور ناک خوشبو کی تمیز کرنے کے قابل نہ رہے۔ شاید فنکاروں کو شرمندہ کرنے والے لوگ اپنے اردگرد ایسے ہی انسان دیکھنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ موسیقی کے دشمن وہی لوگ ہیں جو کل تصویر کے دشمن تھے اور آج ٹی وی سکرین پر دکھائی دیتے ہیں۔ کل تصویر کے خلاف تھے تو اس بات سے بے خبر تھے کہ تصویر تحریر کی ماں ہے کیونکہ دنیا کی ہر زبان کے حروفِ تہجی پہلے تصویر تھے جو بعد میں تصویری تحریر (pictograph) میں بدلے اور یوں رفتہ رفتہ اس تحریر کا جنم ہوا جس کے ذریعے ہم اس وقت خیالات کا تبادلہ کررہے ہیں۔ ہر طرف پھیلی کوب سورتی، لاکھوں برس پر محیط انسانی تجربے کی اجتماعی یاد داشت اور شعور کے یہ نادان دشمن اُس وقت بھی اس خُدا کو ماننے کا دعویٰ کرتے رہے جس نے ‘قلم کے ذریعے علم سکھایا’ لیکن کیسے سکھایا، یہ جاننے کے تکلف میں کبھی نہیں پڑے۔
(سر سے نفرت مٹانے کا ایک ہی ڈھنگ ہے کہ موسیقی کی تفہیم اور تحسین کو عام کیا جائے۔ جس زمین پر سُر کی روشنی پھیل جائے، وہاں ظلم، تشدد اور نفرت کا بیج مٹ جاتا ہے۔ آئیے ہارمونیم پر راگ بھیم پلاسی کی ایک سادہ سی شکل سنتے ہیں۔ شام کو گایا جانے والا یہ خوبصورت راگ کافی ٹھاٹھ سے تعلق رکھتا ہے۔ آروہ میں پانچ سر لگتے ہیں۔ رکھب اور دھیوت نہیں لگتے۔ امروہی میں ساتوں سر لگتے ہیں۔ دھیوت اور رکھب کے علاوہ تمام سر کومل لگتے ہیں۔)


