”ہم سب“ کے اشاعتی معاملات
ادارتی کام کے بہت زیادہ حجم کی وجہ سے کئی اچھے مضامین بھی شائع نہیں ہو پاتے ہیں جس پر ہم اپنے مصنفین سے معذرت خواہ ہیں۔
آج (آٹھ نومبر) تقریباً 40 مضامین موصول ہوئے ہیں۔ ان میں سے کئی شائع کر دیے گئے ہیں اور کئی شارٹ لسٹ کیے جا چکے ہیں۔ شارٹ لسٹ ہونے کے باوجود ان میں سے کئی شائع ہونے سے رہ جائیں گے کیونکہ ایک مضمون اگر دو تین دن پرانا ہو جائے تو وہ مضامین کے انبار میں دفن ہو جاتا ہے۔
ہم اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے نئے وسائل تلاش کرنے کے لئے حکمت عملی بنا چکے ہیں۔ جلد ہی اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اس وقت ”ہم سب“ کی ایڈیٹنگ اور پوسٹنگ، کل ملا کر تین جز وقتی کام کرنے والے افراد کر رہے ہیں جو یہ کام بلا معاوضہ کرتے ہیں۔ ہمیں مستقل سٹاف کی ضرورت ہے تاکہ موصول ہونے والے تمام اچھے مضامین شائع کیے جا سکیں۔
آج کل ایک دن میں تقریباً 30 کے قریب مضامین شائع ہوتے ہیں۔ ان کا ایک ایک لفظ پڑھ کر اور مناسب تبدیلیاں کرنے کے بعد انہیں شائع کیا جاتا ہے۔ بی بی سی اور قومی اخبارات کے کالم نگاروں کی اجازت سے شائع کیے جانے والے مہمان کالم ان کے علاوہ ہیں۔ یہ کالم لگانے نسبتاً آسان ہوتے ہیں کیونکہ یہ پہلے سے ہی ادارت کے عمل سے گزر چکے ہوتے ہیں۔
ہم اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ مضمون جس حالت میں موصول ہو اسی میں کاپی پیسٹ کر کے شائع کر دیا جائے۔ ایک مضمون کی اشاعت، اگر اس کی کمپوزنگ بالکل درست بھی ہو، تو پوسٹنگ کا عمل تقریباً 30 منٹ لیتا ہے۔ ایڈیٹنگ اور کمپوزنگ کی تصیح کا وقت شامل کر کے عام اوسط آدھ گھنٹے سے پنتالیس منٹفی مضمون ہے۔ ”ہم سب“ کے محدود انسانی وسائل اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ تمام مضامین شائع کیے جا سکیں۔
مضامین کی ترجیح مرتب کرنے میں ہمارا نظام کچھ یوں ہے کہ سب سے پہلے ریگولر شائع ہونے والے مصنفین کے مضامین دیکھے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی ایسے موضوعات پر مبنی مضامین بھی پرائرٹی لسٹ میں شامل کیے جاتے ہیں جو ان دنوں زیر بحث ہو۔ اس کے بعد ان مصنفین کے مضامین پر توجہ دی جاتی ہے جن کی تحریر میں ابھی پختگی نہیں ہے۔ تیسرے نمبر پر ان مصنفین کی باری آتی ہے جن کی تحریر درست کرنے کے لئے خاطر خواہ محنت درکار ہوتی ہے۔ سب سے آخر میں ان مصنفین کو دیکھا جاتا ہے جو ابھی ریگولر نہیں لکھتے ہیں، اور اپنا مضمون ہدایات کے مطابق نہیں بھیجتے ہیں۔
ہم جب کام شروع کرتے ہیں تو اتنا وقت نہیں ہوتا کہ ہر مضمون کی اٹیچمنٹ کھول کر اسے دیکھ سکیں۔ اس لئے ایسے مضامین جن کے متن کے اندر مضمون کاپی پیسٹ کیا گیا ہو یا تصویری شکل میں فراہم کیا گیا ہو، پرائرٹی لسٹ میں اشاعت کے مقام کے تعین میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ایسی ایمیل جو ایک نئے مصنف کی جانب سے آئی ہو، اور اندر صرف یہ لکھا ہو کہ ”مضمون کو شائع کرنے کی درخواست ہے“، اسے آخر میں دیکھنا ہماری مجبوری ہے۔ ہمیں بالکل اندازہ نہیں ہوتا کہ مضمون کیسا ہو گا۔ وقت ملے تو پھر ہی اس پر توجہ کی جاتی ہے۔
حتی المقدور کوشش کی جاتی ہے کہ خواتین، مذہبی اقلیتوں، وفاق کی کمزور اکائیوں، اساتذہ، محنت کشوں اور معاشرے میں امن اور بقائے باہمی کی بات کرنے والوں کے مضامین کو جلد از جلد دیکھا جائے تاکہ وہ طبقات اپنی بات کر سکیں جن کو مین اسٹریم میڈیا جگہ دینے کو تیار نہیں ہے۔ مضمون لگاتے وقت اس چیز کو ہرگز بھی اہمیت نہیں جاتی ہے کہ وہ انتظامیہ کے نظریات کے موافق ہے یا مخالف۔ ”ہم سب“ آزادی اظہار پر یقین رکھتے ہیں اور اختلاف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کے قائل ہیں۔

