مہاجر کارکنوں کے اغوا میں سندھی وڈیروں کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پڑھنے والوں کو مبارک باد۔ ساحلی شہر کراچی سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ اور متوسط طبقے کے نمائندہ رہنماؤں نے باہمی اختلافات مٹا کر ایک ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ پاکستان سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم (پاکستان) نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ انتخاب ایک نشان اور ایک منشور کے تحت لڑا جائے گا۔ کل حضرت علامہ اقبال کا یوم ولادت ہے۔ علامہ اقبال نے فرمایا تھا۔۔۔

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

مسلمانوں کا اتحاد کئی صدیوں سے بوجوہ معرض التوا میں ہے۔ تاہم مسلم امہ نے پاکستان سرزمین پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کی حد تک متحد ہونے قابل تعریف فیصلہ کیا ہے۔ یہ حضرت جمال الدین افغانی کے پان اسلامسٹ خواب کی تعبیر ہے۔ اسے جدید زبان میں مائنس ون کہتے ہیں۔ ٹرپل ایم اینکر ایسوسی ایشن کے عہدے داروں نے متفقہ طور پر تجزیہ کیا ہے کہ ایم کیو ایم نے این آر او نہیں کیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے سندھی وڈیروں پر کڑی تنقید کی کہ انہوں کے کراچی شہر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ اب ایم کیو ایم (پاکستان) کے غائب ہونے والے کارکن بازیاب ہو سکیں گے۔ فاروق ستار کی اس توقع پر سیاسی حلقوں میں زور و شور سے بحث ہو رہی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ گزشتہ 15 ماہ میں پاکستان سرزمین پارٹی کا کوئی کارکن غائب نہیں ہوا۔ دونوں سیاسی جماعتوں کے انضمام کے بعد فوری طور پر ایم کیو ایم (پاکستان) کی کارکنوں کی بازیابی کی توقع کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ ان کارکنوں کی گم شدگی میں پی ایس پی کا کوئی ہاتھ تھا۔

اگر ایسا ہوتا تو فاروق ستار جیسا باحمیت رہنما ایسی جماعت کے ساتھ ہاتھ کیوں ملاتا۔ یہ بھی واضح ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں کا سیاسی کارکنوں کی گمشدگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یوں بھی رینجرز سمیت عسکری ادارے سیاست میں دخل دینے سے مکمل گریز کرتے ہیں۔ ایسے میں یہی سمجھنا چاہیے کہ اردو بولنے والے سیاسی کارکنوں کو سندھی وڈیروں نے اغوا کر رکھا ہے۔ تاہم یہ معما حل نہیں ہو سکا کہ کراچی پر قبضے کا ارادہ رکھنے والے اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں سیاسی کارکنوں کو غائب کر دینے والے سندھی وڈیرے اب ان کارکنوں کو کیوں رہا کریں گے؟

گزشتہ دنوں کنگری ہاؤس ، کراچی میں پیر صبغت اللہ پگارا کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اس میں سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ، سابق وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم، سابق وزیر اعلیٰ سندھ ممتاز علی بھٹو، سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مظفر حسین شاہ، وفاقی وزیر مرتضیٰ جتوئی، سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، ڈاکٹر صفدر عباسی اور اٰیاز لطیف پلیجو شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائینس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فاروق ستار نے آج کی پریس کانفرنس میں ان سندھی سیاست دانوں کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا کیونکہ انہوں نے بھی اپنے مشترکہ بیان میں آصف علی زرداری کے لتے لئے تھے۔ جو سندھی سیاست دان پیپلز پارٹی کی مخالفت کریں، وہ ایک نامعلوم معجزے کی مدد سے مہاجر قومیت کے ہمدرد قرار پاتے ہیں۔ ماضی میں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور کچھ قوم پرست گروہوں سے تعلق رکھنے ان سیاست دانوں نے کبھی کراچی پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اور نہ کبھی کسی سیاسی کارکن کا اغوا کیا۔

نہایت مسرت کی بات ہے کہ سابق صدر اور سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) اور پاک سر زمین پارٹی کے ممکنہ الحاق کے حوالے سے کہا ہے کہ مہاجر کمیونٹی کا اکٹھا ہونا خوشی کی بات ہے۔ پرویز مشرف نے اپنے بیان میں کہا کہ مہاجر قوم کو اکٹھا ہونا چاہیے اور ایک نئی طاقت کو ابھر کر سامنے آنا چاہیے۔ ایم کیو ایم نے اپنے آپ کو پاکستان بھر میں بدنام کر دیا ہے۔

تاہم پرویز مشرف نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آل پاکستان مسلم لیگ کا سربراہ ہونے کے ناتے انہیں ایم کیو ایم اور اس کے موجودہ یا سابق دھڑوں میں غیر معمولی دلچسپی کیوں رہتی ہے۔ سیاسی تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ساحلی شہر کراچی سے تعلق رکھنے والے متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ سیاسی کارکن اس قدر کم عقل نہیں کہ الطاف حسین نامی مصیبت سے جان چھوٹنے کے بعد پرویز مشرف نامی عذاب مول لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •