عالمی مقابلہ حسن میں حیض کا ذکر منع ہے!

جب آپ مقابلہِ حسن کا سوچتے ہیں تو آپ کے خیال میں شاید حسین لڑکیوں کی قطاریں، آنسو بھری عالمی امن کی تمنائیں، اور ملکہِ حسن کے تاج پر ہاتھا پائی آتی ہوگی۔

مگر ہیروں کی چمک دمک اور سوئم سوٹ مقابلوں سے بڑھ کر اب ان مقابلوں کی شرکا زیادہ سیاسی ہوتی جا رہی ہیں۔

2017 میں چلی، ترکی، لبنان، میانمار، پیرو، اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے ملکہ حسن سب خبروں کی شہ سرخوں میں رہی کیونکہ انھوں نے غیر متوقع بیانات یا بظاہر بغاوت جیسی باتیں کی ہیں۔ کچھ سے تو ان کے اعزازات بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔

تو جیسے جیسے مس ورلڈ اب مس ورلڈ افیئرز بنتی جا رہی ہیں، اس اعزاز کو جیتنے والی حسینائیں اپنی رائے اور اپنے تاج دونوں کو ساتھ کیسے رکھ سکتی ہیں۔

1. سفارتی تنازع نہ کھڑا کریں

گذشتہ ہفتے چلی سے تعلق رکھنے والی ماڈل ویلنٹینا شنٹزر نے اس وقت ایک تنازع کھڑا کر دیا جب انھوں نے ایک جنوبی امریکی مقابلہِ حسن میں کہہ دیا کہ ’سمندر بولیویا کا ہے۔‘

سمندر سے ان کی مراد بحر الکاہل تھی جو کہ چلی اور ہمسایہ ملک بولیویا کے درمیان ایک صدی سے زیادہ عرصے سے کشیدگی کا باعث ہے۔

انھوں نے مقابلے کے دوران کہا کہ ’ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہم آپ کے حق کے لیے لڑتے رہنا چاہتے ہیں۔ چلی کے لوگ، میرے لوگ، میرے تمام ساتھی، جن لوگوں سے میں بات کر پائی ہوں، (سب یہی کہتے ہیں کہ) سمندر بولیویا کا ہے۔‘

یہ علاقائی تنازع عالمی عدالتِ انصاف میں زیرِ غور ہے مگر اس بیان کے فوراً بعد ہی ٹوئٹر پر ایک سفارتی جنگ شروع ہوگئی۔

بولیویا کے صدر نے چلی کی حسینہ کی حمایت کی اور ان کے ’جرتمندانہ‘ موقف کی تعریف کی۔

مگر ان کے ہم وطن کچھ زیادہ خوش نہ تھے۔ ایک صارف نے کہا کہ ’مس چلی کو صرف اپنے حوالے سے بات کرنی چاہیے۔‘

2. اپنی سیلفیوں اور اپنی چھٹیوں کے پلان ذرا سوچ کر بنائیں

دنیا کے کچھ علاقوں میں ملکہِ حسن کو نہ صرف اپنے الفاظ بلکہ سفری منصوبوں کا بھی خیال کرنا ہوتا ہے۔

امینڈا ہینا سوئڈش لبنانی ہیں اور 2017 میں انھیں صرف ایک ہفتے کے لیے مس لبنان امیگرینٹ کا اعزاز ملا جس کے بعد ان سے واپس لے لیا گیا تھا۔

ان کا جرم کیا تھا؟ 2016 میں انھوں نے ایک تعلیمی دورہ پر اسرائیل کا دورہ کیا جس میں انھوں نے اپنے سوئڈش پاسپورٹ کا استعمال کیا تھا۔

لبنان اور اسرائیل سرکاری طور پر جنگ کر رہے ہیں مگر 2006 سے جنگ بندی جاری ہے۔

چند سال قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے ایسا ہی تنازع بنا تھا جب 2015 کے مس یونیورس مقابلے میں مس لبنان کی مس جاپان، مس سلوینا اور مس اسرائیل کے ساتھ ایک سیلفی منظرِ عام پر آئی۔

ان پر دشمن کے ساتھ دوستی بڑھانے کا الزام لگایا گیا۔ انھوں نے فوراً فیس بک پر اپنی صفائی پیش کر دی۔

انھوں نے کہا کہ ’جس دن سے میں اس مقابلے میں شریک ہونے آئی ہوں، میں نے مس اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے رابطے یا تصویر سے گریز کیا جبکہ انھوں نے کئی مرتبہ اس کی کوشش کی۔‘

مذکورہ تصویر کے بارے میں انھوں نے کہا کہ میں مس جاپان اور مس سلوینا کے ساتھ تصویر کھینچ رہی تھی کہ مس اسرائیل ایک دم سے آئی، ایک سیلفی لی اور اب انھوں نے وہ سوشل میڈیا پر شائع کر دی ہے۔‘

ان کی وضاحت کامیاب رہی اور مخالفت کے باوجود ان سے اعزاز واپس نہیں لیا گیا۔

3. یو ٹیوب پر وائرل ہونے سے اجتناب کریں

ایک وقت تھا جب مس امریکہ منتخب کرنے کا مقابلہ سیاسی معاملات سے دور دور رہتا تھا لیکن اب ریٹنگ کی ریس اور شائقین کی توجہ ٹی وی پر کرنے کی لالچ میں انھوں نے یہ سیاست سے متعلق متنازع سوالات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاکہ کوئی امیدوار کسی بھی قسم کی غیر مناسب بات کرے اور وہ یو ٹیوب پر وائرل ہو جائے۔

اس سال، مس ٹیکساس مارگانا ووڈ سے شارلوٹسول میں نیو نازی ہنگاموں اور اس میں مرنے والی خاتون کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس کے بارے میں انھوں نے جواب دیا کہ یہ ‘دہشت گردی کا واقعہ’ ہے اور مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کو اس پر اپنا بیان جلد دینا چاہیے تھا۔

مارگانا ووڈ کے جوابات کو اتنی ہی توجہ ملی جتنی یہ مقابلہ جیتنے والی امیدوار کو ملی تھی۔ .


4. اپنے ‘پیریڈ’ کو فوجی بغاوت سےمشابہت نہ دیں’
مس ترکی میں ہونے والے مقابلہ حسن میں فتح حاصل کرنے والی 18 سالہ اتر اسین نے جیت کے چند گھنٹوں بعد ایک نامناسب ٹویٹ کی جس کے نتیجے میں ان سے جیت کا تاج واپس لے لیا گیا۔

اپنی ٹویٹ میں اتر اسین نے لکھا: ‘شہیدوں کے دن، جولائی 15 کو میرے ایام ماہواری شروع ہو گئے اور میں اسے شہیدوں کے خون کے نام منسوب کرتی ہوں۔’

ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان 2016 میں ناکام فوجی بغاوت میں مرنے والوں کو شہید بلاتے ہیں لیکن اتر اسین کی ٹویٹ کو نامناسب اور تضیحک آمیز سمجھا گیا۔

لیکن درحقیقت 2017 کی مقابلہ حسن کی فاتح کو اتنی مشکلات کا سامنا کرنا نہیں پڑا جتنا ترکی کی ایک سابق ملکہ حسن کو پڑا تھا۔ 2016 میں مروے بیویک ساراک کو 14 سال معطل سزا سنائی گئی کیونکہ انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ نظم شائع کی تھی جسے ‘صدر کی شان میں گستاخی’ تصور کیا گیا تھا۔ .

5. اگر احتجاج کرنا ہے تو اجازت لے کر کریں اور دنیا بھر میں کریں

مقابلہ حسن کی امیدواروں کو تربیت دینے والی کوچ ہیئس کہتی ہیں کہ مقابلہ جیتنے والوں کو ہزاروں صفحات پر مشتمل معاہدے ملتے ہیں جن میں ان کے رویے کے بارے میں تفصیلات ہوتی ہیں کہ ان حسینائوں کو کیسا برتاؤ رکھنا ہوگا۔

معاہدوں کی خلاف ورزی کی صورت میں ان کے کینٹریکٹ ختم بھی کیے جا سکتے ہیں۔

اس سال اکتوبر میں میانمار سے تعلق رکھنے والی شیو آیین سی نے دعوی کیا کہ ان سے مس گرینڈ میانمار کا اعزاز واپس لے لیا گیا کیونکہ انھوں نے ملک کی ریاست رخائن میں جاری ہنگاموں کی ویڈیو بنائی اور اس میں روہنگیا شدت پسندوں کو مورد الزام ٹھیرایا۔

18 سالہ خوبرو ماڈل کا خیال تھا کہ اس ویڈیو سے شاید انھیں اپنے ملک میں پزیرائی ملے لیکن انھیں اندازہ نہیں تھا کہ ملک سے باہر ان کی بنائی گئی ویڈیو کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔

میانمار میں مقابلہ حسن منعقد کروانے والے ادارے ہیلو میڈم میڈیا گروپ کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شیو آیین سی نے رول ماڈل کی حیثیت سے اپنا کردار ادا نہیں کیا لیکن انھوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ ان سے اعزاز واپس لینے کی وجہ سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کرنا نہیں ہے۔

اس بات سے قطع نظر کہ آپ کس پر یقین کر رہے ہیں، سوال ابھی بھی یہی ہے: ان مقابلوں میں بغیر کسی مشکل اور تنازع میں پڑے سیاسی و سماجی بیانات کیسے دیے جائیں۔

اس کی ایک اچھی مثال ہے پیرو کی۔

گذشتہ ہفتے پیرو میں ہونے والے مس یونیورس کے مقابلہ حسن میں 23 امیدواروں نے اپنے جسم کی پیمائش کے بجائے دنیا بھر میں خواتین پر ہونے والے تشدد کے اعداد و شمار پڑھے۔

ان مقابلوں کےمنتظمین نے پہلے سے ہی اس بارے میں تیاری کی ہوئی تھی اور ان کے اس قدم کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے منتظمین میں سے ایک جسیکا نیوٹن نے کہا :’افسوسناک طور پر کئی ایسی خواتین ہیں جن کو ان واقعات کے بارے میں نہیں پتہ اور وہ سمجھتی ہیں کہ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔’

اس مقابلے میں شامل امید واروں کا ارادہ کہ چند دنوں بعد وہ پیرو کے دارالحکومت لیما میں خواتین پر ہونے والے تشدد کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words