شمالی کوریا کے سفارت کار ہزاروں بوتل شراب کا کرتے کیا ہیں؟

پاکستان میں شمالی کوریا کے سفارت کار کے مکان پر حال ہی میں ہونے والی ایک چوری نے ان شبہات کو جنم دیا ہے کہ آیا وہ خفیہ طور پر بڑے پیمانے پر شراب فروشی کا کاروبار کر رہے تھے یا پھر بہت زیادہ شراب نوشی کرتے ہیں۔ ان شبہات کی وجہ وہسکی، بیئر اور وائن کی چوری ہونے والی بوتلوں کی تعداد ہے جو کہ ہزاروں میں ہے۔ پاکستان میں مسلمانوں کے لیے شراب حرام ہے اور اس کی دستیابی کافی مشکل ہے۔ اگرچہ سفارت کاروں کو ذاتی استعمال کے لیے شراب خریدنے کی اجازت ہے جس کے لیے انھیں ایک مخصوص کوٹہ دیا جاتا ہے لیکن شبہ ہے کہ اس کوٹے سے حاصل کردہ کچھ شراب غیر قانونی طور پر بازار میں فروخت بھی کر دی جاتی ہے۔

رواں سال اکتوبر کے آغاز میں شمالی کوریا کے سفارت کار ہیون کی یونگ کے مکان پر چوری ہوئی۔ انھوں نے پولیس کو بتایا کہ چور اُن کے مکان سے دو ہیرے، کئی ہزار ڈالر اور بڑی تعداد میں شراب لے کر فرار ہو گئے ہیں۔ اس چوری کے بارے میں ملنے والی اطلاعات میں تضاد ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چوری میں تین پولیس اہلکار ملوث ہیں اور پولیس نے اُن کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔ دیگر ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ پولیس کا ایک آپریشن تھا۔

چوری کی ایف آئی آر اسلام آباد کے کوہسار تھانے میں درج کروائی گئی اور تھانے کے انچارج انسپکٹر اسد محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ تین پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے کیونکہ وہ سفارتکار کے مکان میں ’غیر قانونی طور پر‘ داخل ہوئے، شراب ملنے کے بعد اپنے افسران کو مطلع نہیں کیا اور ’اُسے اپنے لیے بچا کر رکھا۔‘

عموماً نقب زنی کی کسی واردات پر اتنی زیادہ بات نہیں ہوتی لیکن یہاں معاملہ شراب کا ہے اور وہ بھی بہت زیادہ شراب۔ گو یہ شراب کتنی تھی اس بارے میں کچھ حتمیٰ طور پر تو نہیں کہا جا سکتا لیکن روئٹرز کے مطابق اس میں جونی واکر بلیک لیبل کی ایک ہزار بوتلیں تھیں۔ غیر قانونی طور پر بلیک لیبل کی ایک بوتل 80 ڈالر یعنی آٹھ ہزار پاکستانی روپے میں ملتی ہے۔ پولیس کو بتایا گیا کہ چور وائن کے 200 اور بیئر کے 60 کارٹنز کے علاو ٹکیلا کی درجنوں بوتلیں بھی لے گئے۔

پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں قانون کے تحت شراب نوشی کی ممانعت ہے۔ گو کہ کچھ لوگ شراب پیتے ہیں لیکن الکحل ملنا مشکل ہوتا ہے جس کی وجہ سے شراب کی فروخت کے لیے ایک بڑی غیر قانونی مارکیٹ موجود ہے۔ غیر ملکی سفارتکاروں کو شراب کی خریداری کے لیے کوٹہ دیا جاتا ہے جس کے تحت وہ باہر سے شراب منگوا سکتے ہیں لیکن شراب سفارت خانے میں رکھنے کی اجازت ہے نہ کہ نجی رہائش گاہوں میں۔ روئٹرز کے مطابق شمالی کوریا کے سفارت کار کے مکان سے چوری ہونے والی شراب کی مقدار ان کے ششماہی کوٹہ سے بھی کہیں زیادہ تھی۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں: شمالی کوریا کے سفیر اپنے کوٹے سے بہت زیادہ تعداد میں شراب درآمد کرنے میں کامیاب ہوئے اور وہ اگر سارا دن شراب کے نشے میں چُور نہیں رہتے تھے تو وہ ممکنہ طور پر اس اضافی شراب کو غیر قانونی طور پر بازار میں فروخت کرتے تھے۔

شمالی کوریا کے سفارت خانے کی جانب سے اس الزام پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ روئٹرز کے مطابق مسٹر ہیون کے گھر سے ملنے والی شراب کی مجموعی مالیت ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں غیر مسلم آبادی کے لیے شراب بنانے والے چند کارخانے ہیں لیکن روایتی طور پر یہاں غیر ملکی شراب کی طلب بہت زیادہ ہے، خاص کر سکاٹش وسکی اور واڈکا وغیرہ۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پاکستان میں گذشتہ دس برسوں میں اسلامی شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے اور مغرب میں سمگلنگ روٹس پر ان کے اثرورسوخ سے شراب کی سمگلنگ ختم ہو گئی ہے۔ اسی وجہ سے اسلام آباد میں شراب کے غیر قانونی کاروبار کو کافی فروغ ملا ہے اور غیر ملکی سفارتکاروں کا عملہ اپنا کوٹہ فروخت کر کے فائدہ اٹھاتا ہے۔ سی ایس آئی ایس ٹینک سے وابستہ اندرے ابراہیم کا کہنا ہے کہ ’اس بات کا قومی امکان ہے کہ یہ (شراب) غیر قانونی مارکیٹ کے لیے ہو۔‘

شمالی کوریا کے غیر ملکی مشن کے غیر قانونی اقدامات ملوث ہونے کا ریکارڈ موجود ہے جیسے ہاتھی دانت، سونا اور شراب کی غیر قانونی فروخت وغیرہ۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ شمالی کوریا کا کوئی سفارت کار غیر قانونی کام کرتے ہوئے پکڑا گیا ہو۔ سنہ 2015 میں کراچی میں ایک سفارتکار پر غیر قانونی طور پر شراب فروخت کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ اسی سال شمالی کوریا کا ایک سفارت کاربنگلہ دیش میں 14 لاکھ ڈالر مالیت کا سونے سمگل کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ حال ہی میں شمالی کوریا کے ایک سفارت کار پر افریقہ سے غیر قانونی طور پر ہاتھی دانت فروخت کر کے اس کی رقم پیانگ یانگ بھجوانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اندرے ابراہیم کا کہنا ہے کہ ’بنگلہ دیش سے سونے کی سمگلنگ بہت ہی دلچسپ معاملہ ہے کیونکہ شمالی کوریا پر سونا برآمد کرنے پر بہت سخت پابندیاں ہے۔‘ پہلے شمالی کوریا کو سونا برآمد کرنے کی اجازت تھی لیکن اب پیانگ یانگ کو ایسے ساتھی مل گئے ہیں جہاں سے یہ سونا آگے فروخت کیا جاتا ہے۔ اندرے ابراہیم کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک طرح کی غنڈہ گردی ہے جہاں غیر قانونی طور طریقے اختیار کر کے اپنی مصنوعات فروخت کی جاتی ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ سونے اور اسلحے کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم پیانگ یانگ بھجوائی جاتی ہے اور شراب کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ شراب کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے مشن کے اخراجات پوری کیے جاتے ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words