پاکستانی عوام اور ان کی سیاسی نفسیات
عمران خان پاکستانی سیاست میں ایک صاف و شفاف امیج لیکروارد ہوئے۔ اس سے پہلے وہ دنیائے کرکٹ میں ایک اچھے آل راونڈراور کامیاب کپتان کے حیثیت سے اپنا لوہا منوا چکے تھے۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ پر شوکت خانم ہسپتال کی وساطت سے وہ خود کوایک سوشل ورکر اور ایک کامیاب منتظم بھی ثابت کرچکے تھے۔ جس کے بدولت ان کو ایک اچھی خاصی عوامی حمایت حاصل تھی۔ اسی ”عوامی حمایت“ کو وہ ”سیاسی کامیابی“ میں بدلنے کے خواہاں تھے۔ اسی تناظر میں وہ ”کرپشن فری پاکستان“ کا نعرہ لے کر میدانِ سیاست میں اُترے۔
عمران خان سے کوئی تین دہائی پہلے اِیئرمارشل (ر) اصغرخان بھی ایک صاف و شفاف امیج کے ساتھ ”اصولی سیاست“ کا نعرہ لے کر ”تحریکِ استقلال“ کے پلیٹ فارم سے پاکستانی سیاست کے اُفق پر نمودار ہوِئےتھے۔ لیکن 1970 کے انتخابات سے لیکر1997 تک کے کسی بھی الیکشن میں اصغرخان کے تحریکِ استقلال پر عوام نے اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔ اور ہمیشہ اپنا ووٹ اُنہی روایتی جوڑتوڑ کے ماہر بدعنوان سیاستدانوں پر نچاور کرتیں رہی۔ آخرکار تین دہایؤں کی ناکام سیاست (اصولی سیاست) کا سورج غروب ہونے لگا۔
اسی دوران 1985 سے 1993 تک جتنی بھی حکومتیں عام انتخابات کے نتیجے میں بنی تھیں، سب کے سب کرپشن کے الزامات کے تحت فارغ کر دی گئی تھیں۔ چار منتخب حکومتوں کا کرپشن کے الزامات میں فارغ ہونا اس بات کا دلیل تھا، کہ کرپشن پاکستان کی سیاسی فضا کا ایک اہم عنصر بن چکا ہے۔ اسی سیاسی فضا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران خان نے ” عدالتی انصاف سے معاشی انصاف تک“ کے انتخابی منشور کے ساتھ ” پاکستان تحریکِ انصاف“ کے پلیٹ فارم سے انتخابی سیاست کا آغاز کیا۔ ایک صاف، شفاف اور بہترین سیاسی ٹیم کا انتخاب کرکے کرپشن فری پاکستان کے نعرے کے ساتھ انھوں نے 1997 کے جنرل الیکشن میں حصہ لیا، لیکن۔ ووٹ؟ ندارد! جس کا مطلب، کہ کرپشن پاکستانی عوام کا ایشو ہی نہیں تھا، اور وہی اصغر خان والی کہانی دہرائی گئی۔
اُس وقت اصغر خان کی ”اصولی سیاست“ کو کوئی گھاس نہیں ڈالی گئی تھی، اور اس دفعہ عمران خان کی ”بدعنوانی سے پاک سیاست“ کو عوامی پزیرائی ووٹوں کی شکل میں نہیں مل سکی۔ پشتو کے ایک محاورے کا مفہوم ہے، کہ آندھا ایک ہی کھائی میں صرف ایک بار ہی گرتا ہے۔ لیکن عمران خان نے شاید اصغر خان کے سیاسی زندگی کا مطالعہ نہیں کیا تھا یا کسی خوش فہمی میں دوسرا چانس لینا چاہتے تھے۔ 2002 کے اگلے انتخابات میں حالات تحریکِ انصاف کے لئے یوں سازگار تھے، کہ ماضی میں کرپشن کے الزامات کے تحت فارغکیے گئے حکومتوں کے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ٹاپ لیڈرشپ کو انتخابات سے باہر رکھا گیا تھا۔ اور عمران خان واحد مقبول سیاسی رہنما کے طور پرمیدان میں تھے، لیکن ووٹوں کے ہُما کو ایک مرتبہ پھر بدعنوان اشرافیہ کے سروں پر بٹھایا گیا۔
اورعمران خان کے تحریکِ انصاف کو دوبارہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب تو یہ بات روزِروشن کی طرح عیاں ہوچکی تھی، کہ پاکستانی عوام کا ووٹ بدعنوان اشرافیہ کی عین امانت ہے۔ بحرحال عمران خان صاحب اسی کھائی والے راستے پر تیسری دفعہ چل پڑے، جہاں آندھا بیچارہ دو دفعہ پہلے گِر چکا تھا۔ اگرچہ عمران خان 2002 سے 2007 تک خود کو بنفسِ نفیس ایک سیاسی رہنما کے طور پر منوا چکے تھے، تاہم ”تانگہ پارٹی“ اور مستقبل کے ”دوسرے اصغر خان“ جیسے طعنوں سے پیچھا چُھڑا نہ سکے۔ یہ ”طعنے“ دراصل ”اشارے“ تھے، کہ اگرپاکستانی سیاست میں کامیاب ہونا ہے، تو بدعنوان اشرافیہ کو ساتھ ملا کر روایتی سیاسی نعروں کے ساتھ الیکشن لڑنا ہے۔ عمران خان ان اشاروں کو شاید سمجھ نہ سکے یا پاکستانی عوام کے سیاسی شعور کے حوالے سے کسی بڑی خوش فہمی کا شکار تھے۔
بہرحال 2008 کے انتخابات کا نتیجہ عمران خان کے لئے وہی ہونا تھا، جو 1997 اور 2002 کے انتخابات کا تھا۔ لیکن خوش قسمتی سے 2008 کے الیکشن کا بائکاٹ کرکے تحریک انصاف اس دفعہ خفت سے بچ گئی۔ تاہم ان انتخابات کے نتائج نے اس امر پر مہر تصدیق ثبت کردی، کہ پاکستانی عوام کا ووٹ نسل درنسل بدعنوان اشرافیہ کی امانت ہے۔ عمران خان کو شاید اس بات کا احساس دس۔ بارہ سال پےدرپے شکستوں کے بعد ہوا۔ اب وہ ایک موقع کی تلاش میں تھا، کہ کب پاکستانی ووٹوں کےجدی پشتی اہل لوگوں کو اپنی پارٹی کے طرف متوجہ کیا جائے۔ یہ موقع جب 30 اکتوبر 2010 کے لاہور والے جلسے کے صورت میں ملا، تو عمران خان نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور پارٹی میں شامل ہونے والوں کی لائنیں لگ گیئں۔ تاہم اب کے بارکچھ تجزیہ کار ایک اور طعنہ دینے لگے کہ ان بدعنوان اشرافیہ کو اگر پارٹی میں شامل کرنا ہی تھا تو پھر تحریکِ انصاف بنانے کی ضرورت کیا تھی۔ لیکن یہ طعنے عمران خان کی اس نئی حقیقت پسند رجحان کو متزلزل نہیں کرسکے اور وہ لوٹوں پرلوٹے جمع کرنے لگے۔
آپ ذرہ تصور کریں کہ 1997 سے پہلے اگر اصغر خان اور 1997 کے بعد عمران خان انتخابات میں آہستہ آہستہ کچھ کامیابیاں حاصل کر پاتے تو آج شاید ”اصولی سیاست“ اور ”کرپشن فری پاکستان“ کا خواب کسی حد تک ضرور شرمندہ تعبیر ہو چکا ہوتا۔ اگر عمران خان کو 1997 کے الیکشن میں کوئی زیادہ نہیں، یہی کوئی 5 سے 10 قومی اسمبلی کی سیٹیں مل جاتی، اسی طرح 2002 کے الیکشن میں 10 سے 20 سیٹیں، 2008 میں (اگر بائکاٹ نہ کیا ہوتا) 20 سے 30، اور 2013 میں 30 سے 40 سیٹیں، تو تحریکِ انصاف اُس جگہ کھڑی ہوتی، جِس جگہ یہ آج ہے، لیکن فرق یہ ہونا تھا، کہ اس وقت کرپشن کے خلاف ایک عمومی موڈ بن چکا ہوتا۔ جبکہ آج کرپشن پاکیستانی سیاست میں سکہ رائج الوقت کی حیثیت ختیار کرچکا ہے۔ مجھے تو ڈر ہے کہ اگر پاکستان میں کرپشن کو جائز بنانے کے لئے ریفرینڈم منعقد کیا جائے، تو شاید کرپشن بھی جائزٹھرے۔


