تھیسس کوڑے کے ڈھیر میں
کسی ملک اور معاشرے کی ترقی میں تعلیم ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مذہب، سیاست اور ثقافت سماج کی ترقی سے وابستہ ہوتے ہیں اور نظریات معاشرےکی ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں۔ معاشرے کے انسانوں کی سوچ معاشرے کی ترقی کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔ اگر سوچیں سطحی اور پسماندہ بن جائیں تو اس کے نتائج بھی ویسے ہی پسماندہ ہوں گے جیسی سوچ ہوگی۔ یہی سوچیں معاشرے میں شدت پسندی اور جدید نظریات پیدا کرتے ہیں۔ اور ان سوچوں کو پیدا کرنے اور سوچوں کو مثبت ڈائریکشن میں ڈالنے کا کام ملک کی جامعات کا ہے۔ جہاں ایسی سوچیں پنپتی ہیں۔ علم کو عام کرنے میں جامعات کا اہم کردار تو موجود ہے مگر ہائیر ایجوکیشن کے اساتذہ یعنی جامعات کے اساتذہ کا کردار مسلمہ ہے۔ ملک میں 1947سے اب تک دس کے قریب تعلیمی پالیسیاں آئیں مگر جو تعلیم عام کرنے کے اقداف ہیں وہ ابھی تک پورے نہیں ہوسکے۔
پاکستان اپنے قیام سے اب تک کی سات دہائیوں سے علم کے بحران سے گزر رہا ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قیام نے ایک نئی سمت متعین کی اساتذہ کو پی ایچ ڈی کے لئے باہر ممالک بجھوایا گیا۔ یونیورسٹیوں میں اگے جانے کی فضا پیدا کرنے کے لئے درجہ بندی شروع کی گئی۔ اور تحقیق کو لازمی قرار دیا گیا۔ جس میں سرقہ نویسی کے خاتمے کے لئے منصوبہ بندیاں کی گئیں۔ جس کے بعد جو ایک چوری کا نظریہ تھا اس کا خاتمہ ہوگیا۔ اب طلبا سمیت اساتذہ بھی کوئی سرقہ نہیں کرسکتے۔ مگر یہاں پاکستانی سوچ پھر میدان میں پنجہ جماتی ہے۔ ہمارے لوگوں نے دیگر زبانوں سے خیالات لے کر اپنے الفاظ میں تحقیق کو پیش کیا ہے یا پھر کہی پر الفاظ کی اور پیراگراف کی ہیر پھیر کی ہے یا پھر گوگل ماما کے گوگل ٹرانسلیٹر کا سہارا لیتے ہیں۔ اور یہ طریقہ ہمارے انہی اساتذہ کرام نے ڈھونڈا ہے۔ مگر ابھی تک ہمارے اسلامیات، اردو زبان کے لئے کوئی سافٹ وئیر نہیں بن سکا جس کے باعث دھڑلے سے اردو زبان میں سرقہ نویسی ہورہی ہے اور من وعن وہی چیزیں ڈالی جارہی ہیں۔ اگر انگریزوں کی زبان اردو ہوتی تو شاید ایسا سافٹ وئیر بن چکا ہوتا۔ ہائیر ایجوکیشن اگر ان مضامین کے لئے بھی کوئی طریقہ وضح کرسکے تو بہتر ہوگا۔ کیونکہ یہ ہمارے اپنے مضامین ہیں جن میں اگر تحقیق ہو تو ہماری ترقی ممکن ہے۔ کیونکہ ترقیاں اپنی زبانوں میں ہوتی ہیں۔
کچھ دنوں پہلے ایک یونیورسٹی کی تھیسیز کی کاپیاں ایک کچرے کے ڈھیر میں پڑی ہوئی نظر آئیں جس سے ہماری تحقیق کا پتہ چل جاتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں ہونے والی تحقیقات کے ساتھ کیا کھلواڑکیا جاتا ہے۔ ایک محققق یعنی طالب علم جب تحقیق کرتا ہے تو اُس کا کتنا خرچہ ہوتا ہے۔ اُسے اساتذہ کی کتنی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ تحقیق کرنا جوئےشیرلانے سے کم نہیں ہوتا مگر وہ تحقیقات تعلیمی اداروں کے باہر کچروں کےڈھیر میں ملے توہماری تعلیمی نظام سے اگاہی ہوجاتی ہے۔ سالانہ ملک بھر میں سینکڑوں پی ایچ ڈی اور ایم فل فارغ التحصیل ہوتے ہیں مگر اُن سب کے خیالات، تصورات، مفکرات اور نظریات کا فقدان ہے کیونکہ سب اپنے مفادات کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ مراعات تو طالب علم ڈگری اور ادارے اپنی رینکنگ اور پیسوں کے حصول کے لئے لگے ہوئے ہیں کوئی ذہنی نشوونما نہیں ہورہی۔ اس لئے ہماری یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیقات لائبریریوں میں ریکارڈ کا حصہ بن جاتی ہے یا پھر باہر کوڑوں کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ جس سے ملک کا نہیں بلکہ کباڑیوں کا فائدہ ہورہا ہے۔


