لفظ، نظامِ تعلق، انسان اور سانس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لفظ کی بناوٹ خود میں کھردری ہے۔ قلم کی نوک سے جنم لینے والے یہ الفاظ دراصل ایک نظامِ تعلق کا پرتو ہیں، جو ربط و ترسیل کی ڈور میں بندھے ہیں۔ جدید لسانیات کے بانی سوشور (Saussure) کے نزدیک، لفظ ایک علامت ہے جو اپنے سینے میں ایک صوتی تصویر (sound image) اور خیال، اشارہ، نشان (signified) کو چھپائے ہوئے ہے۔ مطلب یہ کہ لفظ اپنی اصل میں صرف ایک آواز سے ذہن کے پردے پر بننے والی تصویر کا نام ہے۔ وہ تصویر جو بنتے وقت کسی تصور کو جگا دیتی ہے۔ یوں تصویر اور خیال کا یہ کھیل زبان کو جنم دیتا رہتا ہے۔ یعنی یہ سار عمل ذہن کے اندر بپا ہونے والے ایک اصول پر مشتمل ہے، جس کی آخری حد علامت گری ہے۔ اشیا کو علامات میں بدلنا، جیسے زبان کی کلی ذمہ داری ہے اور ذہن ان علامات کی مدد سے ہمہ وقت درجہ بندی کی ذمہ داری پر مامور ہے۔

جب کہ مشہور فرانسیسی ماہرِ عمرانیات پیئر بورڈیو (Pierre Bourdieu) کے مطابق یہ ساری بناوٹ خود میں کسی سماجی نظام کے تابع ہے۔ اس کے مطابق علامت گری کا یہ کارخانہ جس اصولِ کاروبار کے تابع ہے وہ ذہنی نہیں ہیں بلکہ معاشرے کے قوانین سے ماخوذ ہیں۔ بولنے والا ہمیشہ اپنے سامع کے اعتبار سے بڑی چابک دستی سے اپنے الفاظ کا انتخاب کرتا ہے۔ میں کب کس سے کس حیثیت میں مخاطب ہوں، یہ اصول کسی بھی زبان کی گرائمر سے زیادہ میری بات کو ترتیب دیتا ہے اور میرے بیان کی بناوٹ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انسان اپنے گھر میں جیسے بات کرتا ہے، اسی لہجے میں اپنے باس سے بات نہیں کرسکتا۔ لفظ اپنے تئیں کسی معنویت کے لیے اپنے ارد گرد موجود انسانوں کے نظام کا تابع ہے۔ یعنی یوں کہیے کہ یہ سارا عمل ایک سماجی نظام کے زیرِ اثر ہے۔

میرے نزدیک یہ سب تاریخی مباحث، خود میں قابلِ غور ہیں، لسانیات کے طالبِ علم کے لیے؛ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا لفظ ایک ظرف ہے یا ایک پردہ ہے معنی اور ذہن کے درمیان؟ یا یوں کہیے کہ کوئی پل ہے وجود و شعور کے مابین؟ مثال کے طور پر لفظ ”رات“ ہی کو دیکھیے۔ رات اپنے سینے میں سورج چھپائے پھرتی ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ تاریک ہے۔ رات کی خاموشی پر اسرار ہے، پر تاثیر ہوتی ہے، با معنی ہے اور بولتی ہے۔ اب اس فقرے کی معنویت کو علامت گری کے اصول پر استوار کیا گیا ہے، ورنہ ”رات بولتی ہے“، اپنے آپ میں ایک مہمل بیان ہے۔ میرا ماننا ہے کہ خیال کی پیدائش کسی ایک خاص ماحول میں موجود، بات چیت میں مشغول اذہان کے آپس میں تعلق سے ممکن ہوتی ہے۔ یہاں بھی جرمن فلسفی ہیگل (Hegel) کا فلسفہ اپنے رنگ بکھیرتا نظر آتا ہے۔ ہیگل کی نظر میں یہ کائنات مجموعہ اضداد ہے اور ان کا باہمی ربط دراصل وہ پہیا ہے جس میں تاریخ گھوم رہی ہے، انسانوں کے درمیان۔ اور اس پہیے کی یہ حرکت جہانِ معانی پیدا کرتے جاتی ہے۔

انسانی تعلق اپنی سرشت میں ایک خواہش ہے۔ یہ عمل بذاتِ خود اپنا حاصل ہے۔ وہ وقت جو انسان اپنے تعلقات میں گزاردے اسے تعمیر کرتا رہتا ہے۔ انسانی معاشرے کی بنیاد ہے کہ انسان اپنے سے باہر موجود دوسرے انسانوں سے نظامِ تعلقات استوار کرے، یہ شرط ہے اس کے بقا کی۔ مگر یہی انسان جہاں ایک سماجی وجود ہے، وہیں یہ خود اپنے ساتھ بھی وقت گزارنا چاہتا ہے۔ تنہائی زہر بھی ہے اور دوا بھی۔ اگر تنہائی کا تعلق آدمی کو اکیلا کر دے تو زہر، اور اگر خود سے جوڑ دے تو دوا۔ دنیا و مافیہا کہیں جا کر کسی نکتے میں ضم ہو جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ کائنات کا زیادہ تر حصہ مادے پر نہیں بلکہ خلا پر مشتمل ہے۔ کیا یہ جگہ واقعی خالی ہے یا جو اس میں موجود ہے وہ ابھی معلوم نہیں ہے؟ یا یہ احساس کہ ”معلوم نہیں“ خود ایک جال ہے جس میں شعور قید ہے؟ عجب بات ہے کہ انسان عقلی سطح اس نادیدہ کے ہونے کو تو مانتا ہے مگر ہر دوسرے نظامِ تعلق جو آنکھ سے ماورا ہے، اس کے خلاف جانے پر مصر ہے یا کم از کم اسے عقلی بنانے پر مامور ہے۔

ذہن ہمیشہ گہرائی کا متلاشی رہتا ہے۔ عصرِ حاضر کے انسان کی ترقی مادی ہے۔ جس دنیا میں، میں ابھی موجود ہوں وہ ترقی یافتہ کہلاتی ہے۔ بڑی بڑی عمارتیں، شاپنگ مال وغیرہ سامانِ حیرت بکھیر رہے ہیں، مگر قیمتوں کے درجات میں بٹے ہوئے ہیں۔ حلب، موسل اور سینائی جیسے قدیم شہر راکھ کے ڈھیر بن چکے ہیں۔ کتنے ہی خیالات بارود کے ملبے تلے دب گئے ہیں۔ ان گنت نفوس لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ بچے، بوڑھے اور جوان سب تاریخ کی اس آگ کا ایندھن بن گئے ہیں، جو جل جل کے بجھتی ہے اور پھر بھڑک اٹھتی ہے۔ مہاجر کوچ کرجاتے ہیں کہ زندہ رہ سکیں۔ اپنا سامان لٹا کر آنے والے مسافر سے زندگی کے بابت پوچھا جائے، تو وہ کہتا ہے کہ کل سامانِ ہستی، بس چند سانسیں ہیں جو اٹکی ہوئی ہیں، ناک کے نتھنوں اور پھیپھڑوں کے درمیان۔ جب یہ انسان اپنے اردگرد پھیلے ہول ناک سمندر میں موجود رات کے سناٹے میں تیرتی، ترکی سے یونان کی طرف بہتی لاغر سی کشتی پر ٹھٹھرتا ہے، تو اسے زندگی کی وحشت اپنے اندر سموتی ہے اور اس منظر کی بے بسی اس کی نگاہوں میں کھارا پانی بھرتی رہتی ہے۔ لفظ کی بناوٹ خود میں کھردری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •