لفظ کی آنکھ

لفظ انسان کو بناتا ہے مگر لفظ اپنی آخری تعمیر میں علامت ہے، علامتی ہے، اشارہ ہے۔ اس کی اپنی تکمیل بھی معنویت کی تعمیر تک ہے۔ لفظ با معنی ہے، لفظوں کی خاص ترتیب معنی کو جنم دیتی ہے۔ یہ نقطہ آغاز ہے۔ ”ردملی عف شعتقیوو“ اپنے تئیں کسی معنی کو جنم نہیں دے سکتے حالانکہ یہ ہجے تو ہیں، یا یوں کہیے صوتی آوازیں ہیں جو تصویریں نہیں بن پاتے۔ بے ہنگم ہجے ہیں جن کا آپسی ملاپ

Read more

اکیڈیمیا سے چند اعتراضات ۔ حصہ دوم

اس طویل مضمون کے پچھلے حصے میں ہم نے اکیڈیمیا سے متعلق کچھ اعتراضات۔ حصہ اول کے عنوان سے آپ سے بانٹے تھے، لہٰذا اب اسی سے منسلک مگر کچھ تفصیلی اعتراضات پیش خدمت ہیں۔ پچھلے مضمون میں اہل اکیڈیمیا میں فقدان خود بینی پر بحث ہوئی تھی، اس حصے میں ہم رویہ ٔحصول علم پر کچھ بات کریں گے۔ Ritual انگریزی کا ایک ایسا لفظ ہے جس کا اردو ترجمہ ناممکن نہ سہی، مگر مشکل ضرور ہے۔ سب سے

Read more

اکیڈیمیا سے متعلق چند اعتراضات (2)

اس طویل مضمون کے پچھلے حصے میں ہم نے اکیڈیمیا سے متعلق کچھ اعتراضات ۔حصّہ اول کے عنوان سے آپ سے بانٹے تھے، لہٰذا اب اِسی سے منسلک مگر کچھ تفصیلی اعتراضات پیشِ خدمت ہیں۔ پچھلے مضمون میں اہلِ اکیڈیمیا میں فقدانِ خود بینی پر بحث ہوئی تھی، اس حصے میں ہم روّیہ ٔحصولِ علم پر کچھ بات کریں گے۔ Ritual انگریزی کا ایک ایسا لفظ ہے جس کا اردو ترجمہ ناممکن نہ سہی، مگر مشکل ضرور ہے۔ سب سے

Read more

اکیڈیمیا سے چند اعتراضات۔ حصہ اول

کہتے ہیں خیالات کسی کی ملکیت نہیں ہوتے۔ جبکہ ہم یونیورسٹیز میں یہ طے کرنے میں مصروف ہیں کہ کون سا خیال کس کی جاگیر ہے۔ یہ بات بجا ہے کہ کلام ہمیشہ متکلم کی نسبت سے پہچانا جاتا ہے ورنہ علم کا شاید کوئی وجود ہی نہ رہے۔ یعنی یہ کہ افلاطون کی کہی گئی باتیں دراصل صرف باتیں ہیں، افلاطون کی باتیں ہونا بے معنی ہے، خود میں ایک ایسی کی پیداوار ہے جس کو رو میں بہتے انسان

Read more

مسجد نبوی: ایسی ضد جو آفاق کو نگل گئی

مسجد نبوی میں یہ سب ہوا؟ آسمان بھی ہم پر ملامت کر رہا ہو گا جب یہ سب ہوا ہو گا۔ فرشتے حیران ہیں اور آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہیں کہ کیا یہ وہی نہیں جس کے بارے میں ہم نے کہا تھا کہ یہ زمین میں جا کر فساد پھیلائے گا، مگر وہ فساد ایسی مقدس ہستی کے گھر جا کر پھیلائے گا؟ ان ظالموں نے تو اس کے گھر کو نہ چھوڑا جو رحمت اللعالمین بن کر

Read more

ریاستی قوانین اور فرد کا باہمی تعلق

آج میری آنکھوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ میں اور میرے کچھ ساتھی اپنی روزمرہ کی پرواز میں مشغول تھے کہ ہم نے ایک خاتون کو جرمنی کے شہر بون کے ریلوے سٹیشن کے عقب میں ہمارے لئے کچھ دانے پھینکتے دیکھا۔ ہم سب اس طرف کو ہو لئے۔ نیچے اترے تو سب اپنی چونچ میں دانے بھرنے میں مشغول ہوئے۔ میں ایک کبوتر ہوں۔ میرا کوئی نام ہے، نہ ذات، نہ برادری۔ میں بھی اپنے دوستوں کے ہمراہ تھوڑی

Read more

کام کی حقیقت، ذہن کی عادت اور بدھ مت کا بیان

ذہن جس چوراہے پر بیٹھا ہے، زندگی وہاں سے اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ گزرتے رہنے میں مصروف ہے۔ پیر و جواں، مرد و زن، سب چل رہے ہیں۔ ہنگامۂ محشر ہے جو بپا ہے۔ چلنے والوں کے قدم خاموش ہیں مگر حرکت ایک سنائی دینے والی آواز کی غماز۔ سفر جاری ہے۔ ذہن کے چھوٹے سے پنجرے میں قید آزاد افکار کا سفر۔ خاموش لبوں پر موجود لا متناہی الفاظ کا سفر، جو بے آواز ہیں مگر

Read more