ڈاکٹر عطا الرحمان، ایڈز کا علاج اور صدارتی نظام


ڈاکٹر عطا الرحمان صاحب ان دنوں  خبروں اور کالموں کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ موصوف اس ملک کے ایک بہت نامور کیمیا دان ہیں۔ وہ رائل سوسائٹی آف لنڈن کے فیلو بھی ہیں۔ کیمسٹری کے شعبے میں یقیناً ان کی بہت سی خدمات ہوں گی جن سے ہم جیسے سائنس سے ناخواندہ لوگ بے بہرہ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا شمار ان باکمال اور نایاب  سائنس دانوں میں ہوتا ہے جو کئی سال تک ایک دن کے لیے بھی لیبارٹری کے اندر قدم نہیں رکھتے لیکن ان کے قلم سے تحقیقی مقالات ساون کی برسات کی طرح برس رہے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب سائنس دان ہونے کے ساتھ ساتھ کالم نگاری  بھی فرماتے ہیں اور اس قوم کی زبوں حالی پر کڑھتے بھی رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنی لیبارٹری میں اس قوم کے جملہ امراض کا ایک علاج دریافت کیا ہے جسے وہ صدارتی نظام کا نام دیتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب جیسے عظیم سائنس دان کو اتنی خبر تو ہو گی کہ جو علاج وہ دریافت کرنے کا دعوی کر رہے ہیں وہ قبل ازیں ان کی نوجوانی کے زمانے میں اس ملک میں آزمایا جا چکا ہے اور اس علاج کے نتیجے میں اس ملک کا اکثریتی حصہ الگ ہو کر بنگلہ دیش بن چکا ہے۔ معلوم نہیں اب ان کی نظر کس خطہ ملک پر ہے۔

رشید احمد صدیقی صاحب نے کہیں لکھا تھا کہ اردو نثر کوانگریزی سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ جو شخص انگریزی میں اچھی بھلی بات کر رہا ہوتا ہے اردو میں آتے ہی بہکنے لگتا ہے۔ (بہت برس پہلے پڑھی ہوئی بات یادداشت کے سہارے لکھ  رہا ہوں، اگر الفاظ ادھر ادھر ہو گئے ہوں تو معذرت)  یہی معاملہ ہمارے پیارے سائنسدان ڈاکٹر صاحب کا ہے۔ وہ اردو میں قلم اٹھاتے ہیں یا زبان کھولتے ہیں تو لمبی لمبی چھوڑنے لگتے ہیں۔ اس کا شاہکار مظاہرہ انھوں نے اکیس برس قبل کیا تھا۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب او آئی سی کے ماتحت ادارہ اسلامک سائنس آرگنائزیشن کے سیکریٹری منتخب ہوئے تھے۔ اس عہدہ جلیلہ پر ترقی پاتے ہی موصوف نے روزنامہ جنگ کو ایک انٹرویو دیا اور اس میں دل کھول کر، شاعرانہ مبالغے کے ساتھ، اپنے سائنسی کارناموں کا ذکر کیا۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت ایچ ای جے ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف کیمسٹری کے ڈائریکٹر بھی تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے دعوی کیا کہ ان کے ادارے نے تین سال کی شبانہ روز محنت کے بعد تین پودوں سے حاصل ہونے والے مرکبات سے ایڈز جیسے موذی مرض کے علاج کی دوا تیار کر لی ہے اور ان مرکبات کو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ واشنگٹن سے ٹیسٹ بھی کرا لیا گیا ہے۔  نیز امراض قلب کو کم کرنے کے لیے  کولیسٹرول کو کم کرنے کی دوا تیار کر لی ہے۔ اس کے علاوہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایک ایسا مائع دریافت کر لیا ہے  جس سے دھونے کے بعد سبزیوں اور پھلوں کو کئی ہفتے تک تازہ رکھا جا سکتا ہے۔ (روزنامہ جنگ، 22 جنوری، 1996ء)

جنگ میں شائع ہونے والی اس خبر کے سات مہینے بعد اس کی تائید مزید کے لیے یہ خبر بھی شائع کرائی گئی کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ واشنگٹن کے نیچرل پروڈکٹ برانچ کے سربراہ  گورڈن ایم کراگ نے ان کے نام خط میں لکھا ہے کہ آپ نے چند پودوں کے مرکبات انسٹیٹیوٹ کو ٹیسٹ کے لیے بھیجے تھے، ان میں ایڈز کے علاج کے موثر اثرات موجود ہیں، اس لیے فوری طور پر اپنی تحقیق کو محفوظ کرنے اور اسے کمرشل کرنے کے لیے پیٹنٹ کرا لیں۔ (روزنامہ جنگ، 23 جولائی،  1996)

یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ ڈاکٹر صاحب نے پیٹنٹ کرانے کے قیمتی مشورے پر عمل کیا یا نہیں تاہم یہ اتنا بڑا دعوی تھا کہ سائنس کی دنیا ان کا نوٹس لیے بغیر نہ رہ سکی۔ سائنس کے ممتاز جریدے، نیچر، کی 8 اگست 1996 کی اشاعت میں ڈاکٹر صاحب کے ان دعووں پر مبنی ایک رپورٹ شائع ہو گئی۔ اب یہاں بھی اردو اور انگریزی کا فرق واضح ہے۔ اردو میں چھپا تھا کہ ایڈز کی دوا تیار کر لی گئی ہے۔ نیچر میں چھپا تھا کہ ایڈز کی دوا تیار کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ لیکن انگریزی کی یہ احتیاط بھی ڈاکٹر صاحب کو پسند نہ آئی اور انھوں نے سرے سے اس بات کی تردید کر ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بعض مرکبات پر تحقیق ضرور کر رہے ہیں لیکن ہمارا ہرگز یہ دعوی نہیں کہ ہم علاج کی دریافت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے نیچر میں یہ بھی لکھا تھا کہ اردو میں رپورٹ درست نہیں چھپی تھی اور اس کی وضاحت بھی کر دی گئی تھی۔(نیچر 26 ستمبر، 1996) البتہ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ وہ وضاحت نہ روزنامہ جنگ والوں کو کبھی ملی اور نہ وہاں شائع ہوئی۔

ڈاکٹر صاحب کا مسئلہ وہی ہے جو ہمارے ہاں ان تمام افراد کا ہوتا ہے جنھیں خوبی قسمت سے کبھی کسی اعلیٰ انتظامی عہدے پر فائز ہونے کا موقع میسر آ جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ ساری زندگی یہ کہانیاں سناتے رہتے ہیں کہ انھوں نے اس دوران میں کیا کارہائے نمایاں انجام دیے تھے۔ اس سنہری زمانے کو یاد کرتے ہوئے وہ اپنی دیانت، اصول پسندی، حق گوئی اور انتظامی صلاحیتوں کا ایسا نقشہ کھینچتے ہیں کہ سننے والا حیران ہو کر یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ان نادرہ روزگار افراد کے ہوتے ہوئے وطن عزیز اس حال کو کیونکر پہنچا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے لیے مناسب ہو گا کہ وہ قوم کو لاحق جملہ امراض کے لیے صدارتی نظام کا نسخہ تجویز کرنے کے بجائے اپنی اس ادھوری تحقیق پر توجہ دیں اور ایڈز کا علاج دریافت کرکے انسانیت پر ایک احسان کریں۔

Facebook Comments HS