ثانیہ مرزا کی متنازع تصویر کی اشاعت


نیند کی بے قاعدگی ایک مستقل عذاب بن چکی ہے۔ شب فرقت کے جاگے کو، دن گیارہ بجے نیند آئی، شام پانچ بجے آنکھ کھلی تو فیس بک میسینجر میں رقیبوں کے شکووں کا انبار لگا تھا۔ میسینجر کے ڈبے میں اس طرح کے دشنام کا تانتا بندھا ہوا تھا۔

ایک: ”ثانیہ مرزا کی یہ تصویر کیوں چھاپی؟“
دو: ”یہ ’ہم سب‘ میں تصویریں کون منتخب کرتا ہے؟“
تین: ”کچھ شرم حیا ہے، آپ لوگوں کو؟ یہ کیا گند پھیلا رکھا ہے؟“
چار: ”’ہم سب‘ کا ایجنڈا کیا ہے؟“

خیرخواہوں نے ثبوت کے طور پہ ثانیہ مرزا کی متنازع تصویر بھی ارسال کی تھی، جسے دیکھ کر کچی پکی نیند میں بھی میرے رونگھٹے کھڑے ہوگئے۔

میری ایک سہیلی ہیں، جن کا نام نقض امن کے اندیشے کی وجہ سے نہیں لے پاوں گا۔ دو تین دن ہوئے فون پر باتیں کرتے ان کی آواز گم ہو ہوجاتی تھی۔ انھوں نے اعتذار پیش کیا، کہ ان کا سیل فون بگڑگیا ہے۔ سو کے اٹھا، دیکھا تو ان کا ٹیکسٹ میسیج بھی میرا منتظر تھا۔ احوال یہ ہے کہ میرے کڑکی کے دِن چل رہے ہیں۔ جی میں عہد کر رکھا تھا، کہ لفظ بیچ کر جو کماتا ہوں، اس کا چیک آئے گا، تو محترمہ کو نیا سیل فون خرید دوں گا۔ طبعاً مجھے ”برانڈ“ متاثر نہیں کرتے، لیکن ان کا کیجیے کہ وہ ”برانڈ“ پر صدقے واری ہیں۔ انھیں نیا فون خرید کے دیتا ہوں، تو کچھ نہیں کچھ نہیں تو ساٹھ ستر ہزار کا صدمہ منتظر ہے، لیکن کیا کیجیے کہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔

محترمہ کو کال کی، ان کی مدھر آواز سنی اور یقین دلایا کہ بہت جلد میں آپ کو آئی فون کا جدید ماڈل خرید دوں گا، چاہے مجھے اپنا ایک گردہ بیچنا پڑجائے؛ اور ظاہر بات ہے کہ یہ آپ پر احسان نہ ہوگا۔ ان سے کلام کرتے، دو تین بار اپنے ہاتھ سے فون چھوٹ‌ کر گرپڑا؛ خیر ہوئی کہ سلامت رہا۔ موصوفہ سے رات گئے کال کرنے کا وعدہ کرتے اجازت طلب کی۔

رات کا کھانا زہر مار کیا تو کبھی ایک کی کال، تو کبھی دوسرے کا سوال۔ ثانیہ مرزا کی تصویر میری جان کو آگئی۔ ایک معترض کے سوالوں کا جواب دیتے ”ہم سب“ کی سائٹ پر جھانکا تو وہ تصویر نہ دکھائی دی، جس پر اعتراض اٹھا تھا۔ لیکن جو تصاویر باقی تھیں، وہ آنکھوں کو گرمانے کے لیے کافی تھیں۔ میں نے معترض کو کہا، زرا سائٹ دیکھیے، یہ تو سب کی سب ایسی ہیں، کہ رال ٹپکنے لگتی ہے۔ معترض مان کے نہ دیے۔ وکالت کرنے لگے کہ یہ مناسب ہیں۔ مجھے دو تصویروں میں ثانیہ کے کے برہنہ کندھے دکھائی دیے، دو تصاویر میں ٹانگیں دکھائی دے رہی تھیں، اور ایک کلوزاپ ایسا تھا، جس میں کپڑے تو پورے تھے، لیکن اور کچھ، کچھ سے کچھ دکھائی دے رہا تھا، جسے لیٹ نائٹ چھپ ہی کر دیکھا جانا چاہیے۔ استغفراللہ!

اسی طرح ایک اور معترض سے بات کرتے، میں اس نتیجے پر پہنچا کہ قصور تصویروں کا نہیں ہے، بلکہ ثانیہ مرزا کا ہے۔ نہ ثانیہ ٹینس کورٹ میں اترتیں، نہ کم لباس پہننا پڑتا، نہ فوٹوگرافر کو موقع ملتا کہ وہ ایسے منظر نقش کرتا۔ سو:
ثانیہ کو کورٹ میں جانے نہ دیجئو
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا

اُدھر عزیز ان جان سہیلی مِس بیل پر مِس بیل دے رہی تھیں، اِدھر یہ معترضین میری جان نہیں چھوڑ رہے تھے۔ ایک صاحب سے میں نے غصے میں آکے یہ تک کہ دیا، کہ ثانیہ مرزا کی اکتیسویں سال گرہ کی خبر کے ساتھ ثانیہ مرزا کی تصویریں ہی شایع ہونا چاہیے۔ ثانیہ مرزا ٹینس کی کھلاڑی ہیں، تو ان کی ٹینس کورٹ میں موجودی کی تصاویر ہی جچتی ہیں۔ رہی اس خاص تصویر کی بات جس میں ان کی جھریوں والی ران دکھائی دے رہی تھی، مجھے اس کے شایع ہونے پر شدید تحفظات ہیں۔ اس تصویر کو دیکھے کے بعد میری جمالیاتی حِس کو جس قدر صدمہ پہنچا ہے، اس کے لیے میں مدیر عالی شان کو تاقیامت معاف نہیں کروں گا۔

فون کال پر یہی ثانیہ کی تصویر والا جھگڑا نپٹارہا تھا، کہ شدت جذبات میں میرے ہاتھ سے میرا سیل فون چھوٹ کر فرش پر جا ٹپکا۔ یہ دن میں پانچویں بار تھا۔ لپک کر فون اٹھایا، یہ دعا کرتے کہ سیل فون بچ جائے، چاہے ڈاکٹر یہ خبر دے دیں کہ تمھارے گردے میں پتھری ہے۔ لیکن کیا ہے کہ آج کل کی دعاوں میں وہ اثر کہاں! دیکھا کیا تو سیل فون کی اسکرین کسی بوڑھی بیوہ کے چہرے کی جھریوں کے مماثل شکستہ دکھائی دی۔ ساتھ ہی ساتھ فون ایسے جھپکیاں لے رہا تھا، جیسے وقت نزاع مرحوم ہونے والا پلکیں جھپکاتا ہے۔ ایک آخری ہچکی لے کر فون نے دم توڑدیا۔ ظاہر ہے اس کے بعد میں سہیلی کو کال کرنے سے قاصر رہا۔

کہتے ہیں، کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ کیسا زمانہ آگیا ہے، کہ وجاہت مسعود کی لگائی ہوئی ان تصاویر کی قیمت، وجاہت مسعود کے گناہوں کی سزا، ہم ناکردہ کاروں کو بھگتنا پڑرہی ہے۔ میرے جیون کے تین بیش قیمت گھنٹے برباد ہونا؛ سیل فون کا داغ مفارقت دے جانا، اور وعدے کے مطابق کال نہ کرنے کے سبب، محبوبہ سے متوقع بریک اپ؛ آج کے دن کے یہ دُکھ ایسے ہیں، جن کے لیے میں وجاہت مسعود کو کبھی معاف نہیں کروں گا؛ کبھی نہیں!

Facebook Comments HS

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran