ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا غلط استعمال بند کیا جائے

اس سے پہلے ایک فلم میں بیک وقت کئی کردار ادا کرنے کے معاملے میں صرف سنجیو کمار ہی مشہور ہو پائے تھے۔ انہوں نے 1974 میں بننے والی فلم ”نیا دن نئی رات میں“ نو مختلف کردار ادا کیے تھے۔ فلم میں سنجیو کمار نے ایک رنڈوے، قحبہ خانے کے مخمور گاہک، پاگل خانے کے نیم پاگل ڈاکٹر، قاتل، زمانے کے ٹھکرائے ہوئے جذام زدہ امیر آدمی، خواجہ سرا آرٹسٹ، شیر کو مار ڈالنے والے تھانیدار، فلم کے رومانی ہیرو اور ایک ایسے جرائم پیشہ شخص کا کردار ادا کیا تھا جو مذہبی عالم کا سوانگ رچائے ہوتا ہے۔ اس فلم میں پرفارمنس دکھانے پر سنجیو کمار کی بہت واہ واہ ہوئی تھی، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اس سے کہیں بہتر پرفارمنس دیتے رہے ہیں لیکن ان کی تعریف کی بجائے حسد کی وجہ سے برائی کی جاتی ہے۔
لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ میڈیا مالکان ایسے گوہرِ نایاب کا غلط استعمال کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے خود بتایا ہے کہ وہ ایک بہت نرم انسان ہیں لیکن ان سے جو چیزیں کہلوائی گئیں، وہ انہوں نے کہہ دیں اور وہ ان پر معذرت خواہ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی معذرت قبول کی جانی چاہیے۔ پنجابی کی مثل ہے کہ نوکری کیا اور نخرہ کیا۔ ملازمت پیشہ شخص مجبور ہوتا ہے۔ اس کی اپنی مرضی کہاں ہوتی ہے کہ سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہہ سکے۔ وہ تو مالک کے اشارے پر سفید کو بھی سیاہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ بال بچوں کا پیٹ پالنا بہت بڑی مجبوری ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب بھی مجبور ہوں گے۔
اس سے پہلے وہ جیو میں ”عالم آن لائن“ جیسا بہترین پروگرام کیا کرتے تھے اور دین سے راہنمائی چاہنے والے تشنگان کی پیاس بجھاتے تھے۔ بڑے سے بڑا عالم ان کے ساتھ بیٹھتا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب کی شخصیت اس پر چھا جاتی تھی۔ پھر میڈیا مالکان نے ڈیمانڈ کی کہ ڈاکٹر صاحب، رمضان کی نشریات بھی آپ سنبھال لیں تو انہوں نے تو نیکی سمجھ کر ہی یہ کیا تھا، اور غضب کیا تھا۔ حالانکہ اس پروگرام میں مالکان کے حکم پر ان کو مسخرے کا کردار ادا کرنا پڑا تھا مگر انہوں نے ایسی پرفارمنس دی کہ وہ میڈیا کی تاریخ کا مقبول ترین پروگرام ثابت ہوا۔ مالکان نے ڈاکٹر صاحب کو فرش پر لیٹ کر شرکا کو آم کھلانے پر بھی مجبور کیا کہ شاید اس طرح قوم کی نگاہ میں ان کا رتبہ گر جائے، مگر نہ صاحب، جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ ڈاکٹر صاحب کی زبان سے ادا ہونے والا لازوال ڈائیلاگ ”آم کھائے گا آم“ اب اردو روزمرہ کا حصہ بن چکا ہے۔

ہم میڈیا مالکان سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا غلط استعمال بند کیا جائے۔ ان میڈیا مالکان کو ایسا کرتے ہوئے کچھ تو شرم کرنی چاہیے۔ ایک بندہ سادہ دل ہو، نمک حلال ہو، بے زبان ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے ایسے گھٹیا کام کروائے جائیں جو کرنے کے بعد وہ دنیا بھر سے معافیاں مانگتا پھرے۔ ڈاکٹر صاحب تو ملازمت کی آفر آتے ہی سر جھکا کر ویسے ہاں کر دیتے ہیں جیسے مشرقی لڑکیاں رشتہ آنے پر کرتی ہیں، اب اگر بعد میں دولہا ہی غلط نکلے تو نیک پروین کیا کرے؟
اسی بارے میں
عامر لیاقت حسین نے بول پر ٹویٹوں کی بوچھاڑ کر دی

