اخبار والا اور میری پوتی کے حصے کے دس روپے



بیوی نے ناشتے کے خالی برتن سمیٹ کر ٹرے میں رکھے، ”آپ نے جواب نہیں دیا، میری بات کا“۔
میں نے بے خیالی میں اس کی طرف دیکھا، ”کون سی بات؟“
”میں نے کہا تھا کہ لائٹ لگانی ہے، لان میں۔ جیسی مسز ’کدو سی‘ کے لان میں ہیں“۔ اس نے ناگواری سے سینی اٹھا لی، ”مگر آپ کا دھیان تو ہے، اخبار میں“۔
”لائٹ لگا لیں گے یار! جو کہو گی“۔ میں نے بے زاری سے کہا۔
مجھے لگتا تھا کہ آج کا دن بھی اخبار کی صورت دیکھے بغیر ہی گزرے گا، مگر اسی وقت گیٹ کے نیچے کی سلاخوں کے سامنے ایک سائکل کے پہیے ٹھیر گئے۔ اس سے پہلے کہ وہ اخباراندر پھینک کر نکل جاتا، میں نے اسے پکڑلیا۔
”چچا آج پھرلیٹ؟“ میں نے خفا ہوتے کلائی کی گھڑی کا رُخ اس کی طرف کیا۔

چچا کی ایک مشت کی سفید داڑھی تھی، اوراتنے ہی سر کے سفید بال۔ اس کے سختی ایام سے جھلسے چہرے پر ایک خفت زدہ مسکراہٹ نمودار ہوئی، جس نے باقی رہ جانے والے چند ٹوٹے پھوٹے اور پان سے رنگے دانتوں کو نمایاں کر دیا۔ اس نے ہینڈل پر لٹکی سائکل کی ٹوٹی چین کی طرف دیکھا۔
”اس کی وجہ سے آدھا راستہ پیدل آنا پڑا جی۔ آپ تو جانتے ہیں“۔
مگر اس کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی میں نے گیٹ بند کر دیا تھا۔

یہ عجیب بے بسی تھی کہ ایک ہاکر سے زیادہ کچھ کہتے ہوئے، اُلٹا میں ڈرتا تھا۔ وہ برا مان کے اخبار دینا بند کردیتا، تو مجھے ہر روز گاڑی میں کم سے کم بھی دس کلومیٹر دُور، سہراب گوٹھ جاکے اخبار لانا پڑتا۔ یا جھک مار کے ان سے کہنا پڑتا، کہ میری گستاخی کو معاف فرماتے ہوئے، اخبار کی فراہمی کا سلسلہ پھر شروع کردیں۔ غصہ پی کے خاموش رہنے میں عافیت تھی۔

کچھ دیر بعد بیوی نے پھر برآمدے کی خالی کرسی پر بیٹھ کے آلو چھیلتے ہوئے پوچھا، ”آج کیا بہانہ کیا بڈھے نے؟“ اداکارانہ منافقت کے ساتھ میں نے چہرے پر ہم دردی کے جذبات مسلط کر کے کہا، ”ارے بیگم! اُس بے چارے کی سائکل کی چین ٹوٹ گئی تھی، کہیں راستے میں۔ تمھیں تو پتا ہے، وہ نیو کراچی سے آتا ہے۔ کمھار واڑے کے بعد نالے پر کیسا پل ہے، بارش میں“۔
”کہیں باہر کھانے مت نکل جانا۔ تمھارا گوشت آلو پکا رہی ہوں، دن میں“۔
بیوی میرے جملے کے مکمل ہونے سے پہلے اٹھ گئی۔ ”میرا گوشت آلو؟“ میں نے سنا اور نظر انداز کردیا۔ اس کا یہی اسٹائل تھا۔ چناں چہ میں نے اخبار کے پیچھے سے فرمان بردار لہجے میں کہا، ”یس میڈم!“

واٹر پمپ کے انتہائی بارونق علاقے سے دس کلومیٹر دُور، احسن آباد کے ویرانے میں یہ کرائے کا مکان تھا۔ سامنے شکستہ و بدحال سڑک کے پار، تا حد نگاہ، جنگل تھا۔ بدرنگ کیکروں کے درمیان بہت بڑی، اُجلی مسجد تھی اوردارالعلوم کی سدا نامکمل، تین چار منزلہ، بے رنگ عمارت۔ ان دنوں پتا پوچھنے والوں کو میں کہتا تھا، ”یہ بندہ کمینہ ہم سایہ خدا ہے“۔ اور پھر خوش دلی سے کیکروں کے جنگل میں منگل کرنے کی وجہ بھی بتاتا۔

میرے خوابوں کا محل یہاں سے ایک ڈیڑھ کلومیٹر دُور گلشن معمار میں بن رہا تھا۔ وہ اک جہاں سب سے الگ تھا۔ اس کی ویرانی کو ایک ایسی ہریالی نے بھر رکھا تھا، جس میں شاداب درختوں کے گھنے سائے میں پرسکون صاف ستھری سڑکیں بچھی ہوئی تھیں۔ گھنی سبز گھاس اور پانی کے شفاف دھارے اچھالتے فواروں والے پارک تھے اور اُجلے رنگوں والے چھوٹے بڑے گھر، ہر طرف بکھرے ہوئے تھے۔ مجھ جیسے متوسط لوگ، اس وقت خوشی کی ایک لہر سی محسوس کرتے تھے، جب گارڈ، مالی، راج مزدور یا گھر کے ملازم، اسے کوٹھی کہتے تھے۔ یہ تھوڑا سا غرور ان کو بھی میسر تھا، جو رِٹائرمنٹ پر ملنے والی رقم سے یا پھر ہاوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے بیس سال تک اعصاب پر سوار رہنے والے قرض سے، زندگی کے آخری خواب کو تعبیر دیتے تھے۔

اس ویرانے میں سب شہری سہولتیں خوابِ فردا تھیں۔ بس، ٹیکسی، اسپتال یا ریسٹورنٹ تو دُور کی بات ہے۔ بریانی یا نہاری اور کوک جیسی روزمرہ کی ضروریات بھی دست یاب نہ تھیں۔ دِل کے لیے تسلی تھی کہ بستی ایسے ہی بستے بستے بستی ہے۔ اندازہ تھا کہ تین چار مہینے میں اپنے گھر کی تعمیر مکمل ہوجائے گی۔ تب تک احسن آباد والے کرائے کے مکان میں سکونت، جز وقتی ضرورت تھی۔ ایک ہی نقشے پر بنے دو سو گز کے یہ پیلے مکان، مجھے سرکاری کوارٹر لگتے تھے، جن سے مجھے ازلی نفرت تھی؛ کیوں کہ وہ میری آدھی زندگی میں، میرے والد کی مجبوری رہے تھے۔

اخبار پہلے ایک نوجوان ڈالتا تھا؛ ننگ پیری تھی جوانی جس کی۔ میرا یہ شک درست ثابت ہوا کہ وہ نشہ کرتا ہے، جب ایک دن اس کا ستر سال کا باپ اخبار ڈالنے آیا۔ تیسرے چوتھے دن میں نے پوچھا کہ وہ پرانا ہاکر کہاں گیا؟ اُس نے کہا، ”وہ بیٹا ہے، جی میرا۔ بیمار ہے، آج کل“۔
’واقعی ان میں مشابہت تھی۔ فرق عمر کا تھا۔‘ ہیڈ لائن پر نظر ڈالتے ہوئے مجھے یہ خیال آیا۔ میں پلٹ چکا تھا، کہ میں نےاس کی آواز پھر سنی۔
”سر!“۔
میں رُک گیا اور اس کی طرف سوالیہ نظر سے دیکھا۔ سختی حالات کے مارے ایک فلاکت زدہ چہرے کی بے بسی میرے سامنے تھی؛ مجھے اس میں مالی ضرورت مندی، مجسم اشتہار بنی نظر آئی۔
”کچھ کہنا تھا تمھیں؟“ میں نے لہجے میں واجبی شرافت اور متانت کے ساتھ ایک شان استغنا کو بر قرار رکھا۔ ”پیسے چاہیں؟“
اُس نے تھوک نگل کے سر ہلایا، “نہیں سر! کیا آپ! کوئی اسپتال بتا سکتے ہیں، جہاں نشہ کرنے والوں کا علاج ہوجائے؟“
یہ میرے لیے خلاف توقع تھا۔ اُس نے سوال کیا تھا۔ دست سوال دراز نہیں کیا تھا۔ میں نے اسے غور سے دیکھا۔ ”بہت سے سرکاری کلینک ہیں۔ ورنہ! اپنے ستار ایدھی سنٹر اور انصار برنی“۔
اُس نے نفی میں سر ہلایا، ”میں نے داخل کرادیا تھا۔ یہ جو گل برگ والا اسپتال ہے، اعظم اسپتال۔ پیسے تو نہیں لیے انھوں نے لیکن! اللہ کا عذاب نازل ہو، اُن پر؛ جو وہاں بھی پہنچ گئے۔ بڑے ظالم لوگ ہیں، جی۔ اپنا منافع دیکھتے ہیں۔ کسی کی زندگی کی قیمت کچھ نہیں، اُن کے لیے“۔ اس نے ہتھیلی سے اپنے آنسو پونچھے۔

میں نے اندازہ کر لیا کہ وہ اپنے اسی بیٹے کی بات کر رہا ہے، جس کی جگہ وہ اخبار ڈالنے آیا تھا۔ میلے سفید کرتے۔ ٹخنوں سے بہت اونچے اٹنگے پاجامے، دو فیتوں والی پرانی چپل، پھٹی ایڑھیوں والے پیروں، سمٹے سکڑے وجود اور سوکھے ہاتھوں پر منڈھی سیاہ کھال کی جھریوں سے انتہائی مفلسی فریاد کناں تھی۔ وہ کسی اور دُنیا کے لوگ تھے جو بے داغ سفید قومی لباس میں گردن اکڑائے، کار سے زمین پر قدم رکھتے تھے، تو دھرتی پر احسان کرتے تھے۔
”آپ کوئی جگہ بتا دیں۔ جہاں وہ نہ آئیں! علاج ہو جائے، اس کا۔ میں باقی زیور بھی بیچ دوں گا، بیوی کا۔ گھر بھی بیچ دوں گا، ضرورت پڑے گی تو“۔
اس کی آنکھوں سے، ایک بے بس باپ کا دُکھ بہ رہا تھا۔ ان آنسووں نے میری مصنوعی بے حسی کی برف کو پگھلا دیا تھا، لیکن اب مجھے لفظ نہیں مل رہے تھے۔ کہانی لکھتے ہوئے میرے سامنے ہاتھ باندھ کے صف بستہ رہنے والے الفاظ، وقت پڑنے پرعینی گواہ کی طرح رُوپوش ہوگئے تھے۔ مجھے یوں جھوٹ بولنا تھا، کہ سچ لگے۔ میں اس کو نہیں بتاسکتا تھا، کہ جہاں شکاری اپنے شکار کے پیچھے نہ آئیں، ایسی کوئی جگہ میرے یقین کے مطابق تو ہے نہیں۔ سوائے قبر کے۔ چنانچہ میں نے ان الفاظ سے مدد لی، جو کچھ مستند منافق استعمال کرتے تھے۔

میں نے ہم دردانہ طریقے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، ”اللہ پر بھروسا رکھو۔ میں کچھ کرتا ہوں۔ ٹھیک ہوجائے گا، سب؛ ان شا اللہ“۔
میں نے یہ کہا اور اسے آنسو پونچھ کے جاتا دیکھتا رہا۔ وہ کچھ مطمئن تھا کہ ایک وعدے کا آسرا تو ملا۔ لیکن روز کی مصروفیات میں یہ وعدہ میرے ذہن کے کسی پچھلے خوش باش حصے میں گم ہوگیا۔ مجھے سلسلہ وار کہانی کے آخری صفحات، آج ہی پورا کرکے دینا تھے، خواہ فرشتہ اجل سے کہنا پڑے کہ ’یار جلدی کیا ہے، آجانا لیٹ نایٹ، میرے سونے کے بعد‘۔

رات کو ہم بھائی کے بیٹے کی سال گرہ میں گئے، توبارش ایسی دھواں دھار ہوئی، کہ واپسی ممکن نہ رہی۔ اگلے روز دُپہر تک لوٹے تو اخبار کا خیال بھی نہ آیا اور رات کو ڈھائی بجے ایک شادی ہال سے واپسی ہوئی، تو ہر سنڈے کی طرح صبح دس بجے بھی بچے اوندھے سیدھے پڑے تھے۔ بیوی کو میں نے معمول کے مطابق کچھ مہلت دی۔ اپنے لیے چائے کا ایک کپ بنا کے میں پورچ میں گیا، تو وہاں نہ گزشتہ روز کا اخبار تھا، نہ سنڈے اِڈیشن کے دو اخبارات کا بنڈل۔ چائے سے زیادہ میں خون کے گھونٹ پیتا رہا۔ اتوار کا دن سوکے گزارنے والوں پر رشک کرتا رہا۔ پھر سوچتا رہا کہ:
کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے، ہے کہ نہیں
مگر بالاخر کِیا وہی، جو ناگزیر تھا۔ ٹی وی کو وہ خبرنامہ پڑھنے پر لگادیا، جس میں خبر نہیں ہوتی۔ روز رات گئے تک، صرف اسی کو دیکھنے والی بیوی نے ایک آنکھ کھول کے ناگواری سے کہا، ”اخبار نہیں آیا ہے ناں؟ لیکن اتنی جلدی ناشتا؟“
معمول کی ایک سیاسی چال کام کرگئی۔ ”جانم! میں پوریاں چھولے لے آتا ہوں، گرم گرم۔ بس تم چائے بنالو، فٹافٹ“۔

ناشتا کرتے ہوئے، ایک بار پھر میں، اخبار والے کے ماضی حال اور مستقبل کی روشنی میں سوچتا رہا، کہ کس طرح دہشت گردی کے قوانین میں ترمیم ہو، کہ اس کا اطلاق اخبار نہ ڈالنے پر بھی ہو سکے۔ اور بیوی بتاتی رہی کہ اس نے واش روم کے لیے وہی ٹائل لیے ہیں، جو مسز ’کدو سی‘ نے لگوائے ہیں۔ اُن کو یہ نام، میں نے کدو سے مشابہت کے باعث دیا تھا۔

اگلی صبح، میں اخبار والے سے فیصلہ کن مذاکرات کے لیے تیار تھا، لیکن وہ میرے سامنے سائکل سے اُترا، تو میں اپنی تقریر بھول گیا۔ وہ پہلے ہی کم زور ہڈیوں کا ڈھانچا تھا۔ اب وہ مجھے بیمار بھی لگا اور سائکل سے اُترا تو گرتے گرتے بچا۔ قد لمبا ہوتا، تو وہ اُترے بغیر بھی باسکٹ سے اخبار نکال کے دیتا اور پیڈل مارتا، آگے نکل جاتا۔
”سنبھل کے چچا! کیا ہوا؟ طبیعت تو ٹھیک ہے؟“
میں نے پوچھا، لیکن جواب ایک اندیشے کی صورت میں پہلے سے میرے ذہن میں آچکا تھا۔ اس نے فقط سر ہلایا، وہ بہت روچکا تھا لیکن آنسو اب بھی اس کے اختیار میں نہ تھے۔
”وہ جی، مرگیا! سوئم بھی نمٹ گیا، کل؛ اس کا۔ مرضی میرے مولا کی“۔ وہ سائکل پر چڑھا اور آگے نکل گیا۔

میں اس اچانک ملنے والے صدمے کے اثر میں کھڑا رہا، جو غیر متوقع بہرحال نہیں تھا۔ اُس سے اور کیا پوچھتا، کہ وہ بڑا تھا یا چھوٹا۔ وہ کہ دیتا کہ ایک ہی تھا؛ پھر؟ میں خود کو اس الزام سے بچاتا رہا، کہ میری کوتاہی کہیں نہیں اور ہم میاں بیوی اس کے بارے میں دُکھ سے بات کرتے رہے۔ زندگی کبھی ساری بدبختیاں سمیٹ کر کسی ایک ہی کا نصیب کیوں کردیتی ہے۔ مساوی تقسیم کا اصول کہیں قدرت کے نظام میں بھی نظر کیوں نہیں آتا۔ لیکن وہ آخری دن تھا، جب میں نے پھر کبھی اخبار نہ لانے پر اس کو ہٹانے کا سوچا۔ عید، بقرعید پر میری ہمت نہ پڑی، کہ گلی کے جمعدار، چوکیدار کی طرح اسے بھی عیدی دوں، جو وہ بھتے کی طرح وصول کرنے آتے تھے۔

گلشن معمار میں میرے خوابوں کا محل آباد ہوئے بھی اتنے دن ہوگئے، کہ گھنی جھاڑیاں تین فٹ اُٹھ گئیں اور مالی کی مہارت نے لان کوسبز قالین بنا دیا۔ میں پندرہ دن کی پوتی کو گود میں لیے ٹہل رہا تھا، کہ اخبار والا نمودار ہوا، جو اب پہلے سے زیادہ غریب اور کم زور نظر آتا تھا۔
”پوتا ہے؟“ اخبار رکھ کے اس نے اسٹینڈ پر سائکل کھڑی کی۔
”جی نہیں! پوتی ہے“۔ میں نے کہا۔ وہ اندر آیا۔ میلی کچیلی ایک طرف سے پھٹی واسکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک میلا مڑا تڑا دس کا نوٹ نکال کے میری پوتی کی بند مٹھی میں تھمادیا۔ میں نے احتجاج کیا، ”یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟“ میں نے نوٹ اس کی طرف بڑھایا۔
”نہیں سر۔ یہ تو میں نے اور آپ نے بھی لیے ہیں۔ پھر بچی سے اس کا حق کیوں چھینتے ہیں۔ اللہ اسے صحت اور زندگی دے“۔ وہ سائکل پر سوار ہوا اور پیڈل مارتے نکل گیا۔ دس کا وہ میلا کچیلا نوٹ ہاتھ میں پکڑے میں، اُس کو موڑ پر غائب ہوتے دیکھتا رہا۔

Facebook Comments HS

احمد اقبال

احمد اقبال 45 سال سے کہانیاں لکھ رہے ہیں موروثی طور شاعر بھی ہیں مزاحیہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو کے قبولیت عامہ کی سند حاصل کر چکا ہے سرگزشت زیر ترتیب ہے. معاشیات میں ایم اے کیا مگر سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ملکی تاریخ کے چشم دید گواہ بھی ہیں.

ahmad-iqbal has 32 posts and counting.See all posts by ahmad-iqbal