گھریلو ملازمین اور تشدد کی ثقافت

غلامی کا طوق میری خوش نصیبی ۔ ۔ ۔ ۔ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک چودہ سالہ ملازمہ پر ایک سول جج کی بیوی کا بہیمانہ تشدد آج کا ”گرم مسالہ“ یا ہاٹ ٹاپک ”ہے۔ جج نے بیوی کے دفاع میں عذر لیا ہے کہ وہ ذہنی مریض تھی۔ مگر جج کی بیوی کو ویسے بھی سزا تو ہوگی نہیں۔ جج کے پاس ”دیت“ کا حربہ باقی ہے جس کے سامنے مظلوم بالآخر چت ہو جاتا ہے ورنہ ذہنی

Read more

میں کون ہوں اے ہم نفسو 12 : رئیس امروہوی کا قتل

میرے گزرے وقت کی یادوں کے سفر میں اتنے لوگوں کے شریک ہونے کی مجھے قطعی امید نہیں تھی۔ یہ نصف صدی کا قصہ تھا دو چار برس کی بات نہیں۔ لیکن اس کہانی نے صرف میرے ہم عصر احباب کو ہی اسیر نہیں کیا۔ اس میں عہد نو کے نمایندہ احباب بھی شامل ہیں۔ میں سب کا شکر گزار ہوں۔ ان واقعات کو میں نے کسی ڈائری سے لیا تو وہ صرف میری یاداشت تھی۔ یادوں کو دہراتے ہوئے

Read more

میں کون ہوں اے ہم نفسو، 10: فحاشی کے ایک عدالتی کیس میں سزا

فحاشی ایک نقطہ نظر ہے۔ انفرادی۔ یہی وجہ ہے اس کی قانونی یا ادبی تعریف پر اتفاق رائے کبھی ممکن نہ ہوا۔ اردو کی ادبی تاریخ میں یہ الزام سب سے پہلے ایک عورت عصمت چغتائی پر اس کے افسانے ”لحاف“ کی وجہ سے عاید ہوا لیکن جو شہرت منٹو کے افسانے ”ٹھنڈا گوشت“ کے عدالتی مقدمے کو حاصل ہوئی وہ لازوال ہو گئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ”پریم شاستر“ اور ”کوک شاستر“ جیسی کتابوں کو اخلاق کے

Read more

میں کون ہوں اے ہم نفسو (9)

ذکر یاران گم گشتہ۔ کاشف زبیر اور علیم الحق حقی ڈائجسٹوں کی دنیا میں جو نام مقبولیت کے بام عروج تک گئے اس میں میرے اندازے کے مطابق سب سے جونیئر میں ہی تھا۔ نئے رسالوں کے اجرا کے ساتھ نئے کہانی کار بھی سامنے آئے لیکن زیادہ تر ان کی شہرت کا دائرہ محدود رہا یا ان کے ذہن کی زرخیزی باقی نہ رہی۔ ایک نام مجھ سے جونیئر تھا جس نے بہت کم وقت میں بہت لکھا۔ بہت

Read more

میں کون ہوں اے ہم نفسو۔ 8۔ ایچ اقبال کا عروج و زوال

ڈائجسٹوں نے عام آدمی کے لیے ادبی دلچسپی کا نیا ساماں فراہم کیا۔ وقت گزاری سے قطع نظر ان رسالوں نے عوام کے ادبی ذوق کی تربیت کا ساماں فراہم کیا اور کسی حد تک انہیں اچھی کہانی کا تصور دیا۔ کسی کہانی کی ناکامی از خود استرداد کی سند ہوتی تھی۔ پھر انہی کہانیوں میں عالمی ادب کا انتخاب اردو میں شایع ہوا اور لوگوں نے اردو ادب کے انتخاب سے او ہنری سے البرتو موراویا اور موپاساں تک

Read more

میں کون ہوں اے ہم نفسو 7۔

وہ شاخ ہی نہ رہی جس پہ آشیانہ تھا۔ تو کوتاہ اندیش بلبل ناچیز کو خیال آیا کہ تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانا کر لے۔ اس وقت تک ڈائجسٹ تو اس سے زیادہ نکل چکے تھے جتنی آج سیاست کا جوا ہمیشہ جیتنے والی جماعتیں ہیں۔ وفا شعاری میں ہم نے اور کسی پر نگاہ التفات بھی نہ کی اور عالمی ڈائجسٹ بند ہوا تو پھر در بدر ہوئے۔ سب سے پہلے کہانی کے ساتھ الف لیلہ ہی

Read more

ڈائجسٹ کہانی۔ عروج و زوال۔ 6

1970 میں آغاز ہونے والا عالمی ڈائجسٹ سات سال بعد شہرت اور مقبولیت کے نصف النہار پر تھا اور 1980 میں داستان ماضی ہو گیا۔ صرف ایک سال بعد شروع ہونے والے ”سب رنگ، جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ“ نہ صرف یہ کہ بہت کم وقت میں عالمی کو بہت پیچھے چھوڑ گئے بلکہ ان کی اشاعت دن دونی رات چوگنی ترقی کرتی رہی۔ دنیا کی ایک بہت بڑی حقیقت وہ شعر ہے ”وقت کرتا ہے پرورش برسوں۔ حادثہ ایک دم

Read more

میں کون ہوں اے ہم نفسو۔ 5

عالمی ڈائجسٹ کے ناول نمبر کی کامیابی ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ میرے لیے یہ شہرت ہی نہیں خوشحالی کے ایک نئی دور کا آغاز تھا۔ اس کے بعد آنے والے شماروں میں میری کہانیوں کی تعداد بڑھی اور کم سے کم ایک ناول کی تلخیص شامل ہونے لگی۔ ان ناولوں کا انتخاب زاہدہ حنا کرتی تھی۔ معلوم نہیں کیسے کیونکہ ایک ناول منتخب کرنے کے لیے جو عوامی نقطۂ نظر سے دلچسپ ہو نہ جانے کتنے ناول

Read more

ناقابل یقین واقعات کا سلسلہ۔ 4

”عالمی“ ہی در حقیقت پہلا مقبول ماہنامہ تھا جس نے ڈائجسٹ کے تصور کی بنیاد رکھی اور یہ عوامی ادب کا ترجمان قرار پایا یعنی وہ ادب جو نقادوں کے سند یافتہ ادب عالیہ سے الگ عام لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنا۔ یہ وہی نقاد ہیں جنہوں نے قیسی رامپوری کے ناولوں کو ادب عالیہ نہیں مانا جس کے ناولوں کے ایک ایک لاکھ کی تعداد میں تین تین ایڈیشن شایع ہوئے۔ ایم اسلم کے سو سے زائد مقبول

Read more

کہانی کار کیسے لکھتے ہیں

پڑھنے والوں کی دلچسپی کا ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کا کوِئی پسندیدہ مصنف کیسے لکھتا ہے۔ ان کے تصور میں ایک کتابوں سے بھری سٹڈی ہوتی ہے اور ایک رائٹنگ ٹیبل۔ اور اس پر بیٹھا بڑے بڑے بالوں اور عینک والا مصنف۔ میں نے ایک بار لکھا کہ میں تو کھانے کی میز پر بیٹھ کر لکھتا ہوں اور کہیں بھی بیٹھ کے لکھ سکتا ہوں، بندر روڈ کے فٹ پاتھ پر بیٹھ کے بھی لکھ

Read more

شکاری کا جنم۔ 2 – احمد اقبال

ماضی کی دھند میں چھپی ہم سب کی ان گنت کہانیاں مشترک ہیں۔ اسی لیے میں نے ایک کہانی کی کہانی چھیڑی تو بہت لوگ ہمہ تن گوش ہوئے ذکر شروع ہوا تھا ش م جمیل کا ۔ اب شکاری کی کہانی میں چھپی ایک عزم و ہمت کی حقیقی کہانی بھی سن لیں۔ میں نے بتایا کہ جمیل صاحب 1979 میں کروڑ پتی تھے لیکن یہ سب انہیں اپنے والد کی طرف سے ملا تھا ان کے والد شیخ

Read more

شکاری کا جنم – احمد اقبال

ش م جمیل مرحوم ڈائجسٹوں میں میرے نزول سے قبل ایک مقبول مترجم تھے جن کا نام ہر جگہ نظر آتا تھا۔ وہ وسیلہ خاتون کے نام سے بھی لکھتے تھے اور بتول فاطمہ کے نام سے بھی۔ جیسے میں منور سلطانہ کے نام سے اور الیاس سیتا پوری نے دوسرا نام ضیا تسنیم بلگرامی اختیار کر رکھا تھا۔ ایسا سب کرتے تھے۔ 1979 میں ش م جمیل کروڑ پتی تھے۔ آج کے ارب پتی کراچی میں کریم آباد چوک

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی: مجھے بھی فیمنسٹ نہ کہو

طاہرہ سے تعارف غائبانہ تو تھا کہ وہ امارات میں اور میں اسلام آباد میں۔ کچھ معاندانہ بھی رہا۔ اندازہ ہوا کہ بریشم کی طرح نرم لہجے والی ڈاکٹر رزم حق و باطل میں فولاد بھی ہے۔ پھر کراچی کی عالمی اردو کانفرنس میں ملاقات ہوئی تو بات اتنی ہی دیر چلی جتنی دیر ابلتی ہوئی کوزہ بھر چائے چلی۔ برادر انور سین رائے مسکراتے ہوئے شکوہ جواب شکوہ سنا کیے۔ میں نے کتاب دیکھی تو اس کے بیک کور

Read more

فیمنسٹ: کیا اللہ میاں کی گاۓ کے سینگ ہیں؟

دانشوری کے اکھاڑے میں لڑنے والے کچھ متحارب فریق یہ طے کرنے میں لگے ہیں کہ خالق کائنات نے آدم و حوا میں سے کس کو فوقیت اور بالا دستی کی سند عطا کی تھی اور اس کے لیے اپنے دلائل میں الہامی حوالوں، حیاتیاتی نظریات اور من پسند فرمودات کے انبار لگا رہے ہیں ۔ ہمارے ایک بہت قابل دوست بڑے خشوع و خضوع سے یہ ثابت کرنے میں لگے ہیں کہ از شرق تا غرب یہ جو حوا کی بیٹی صنفی بالادستی کی ایک جنگ عظیم میں زبردست پیش قدمی کے دعوے رکھتی ہے تو اس کی حقیقت وہی زیرو جمع زیرو مساوی زیرو جیسی ہے۔

Read more

میر جاوید رحمان: اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے

میر جاوید رحمان کے ساتھ میرے تعلق کا سلسلہ 36 برس پرانا تھا۔ اسے دوستانہ تو نہیں کہا جاسکتا بس مربیانہ مہربانہ تھا۔ ایک دوپہر میں اپنے میکلوڈ روڈ کے سعید مینشن والے آفس میں میز پر پیر پھیلائے کچھ قیلولے جیسی کیفیت میں مبتلا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی اور میں نے غنودگی میں ہیلو کہا تو دوسری طرف سے کسی نے کہا ”میں جنگ سے جاوید رحمان بول رہا ہوں۔ آپ احمد اقبال بات کر رہے ہیں؟ “

میری غنودگی بھک سے اڑ گئی۔ سیدھا اور مستعد بیٹھ کے میں نے کہا ”جی۔ جیَ بالکل بات کر رہا ہوں۔ السلام علیکم“

”میں چاہتا تھا کہ آپ اخبار جہاں کے لئے شکاری جیسی کوئی قسط وار کہانی لکھیں“ انہوں نے بلا تمہید کہا
میں نے کہا ”یہ تو میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہوگی“
فرمایا ”پھر آپ کسی آئیڈیا کے ساتھ کل بارہ بجے آ جائیں میرے آفس تو ہم بات کرلیں گے“

Read more

گھر کی کھیتی

زچہ وارڈ میں، اُن سب کے میلے پسینے میں بھیگے جسموں کی بو تھی، جو بچے جَن کے تھکن سے دو چار وجود کے ساتھ میلے چادروں والے بستر پر لیٹی تھیں۔ اِس میں دواوں اور ہر بیڈ پر بیٹھے، اس کے گرد کھڑے ملاقاتیوں کے میلے جسموں اور کپڑوں کی بو شامل ہو کے،  پچاس فٹ سے زیادہ لمبےوارڈ میں تعفن بھرتی جا رہی تھی۔وارڈ میں دونوں طرف گنجائش سے کہیں زیادہ بیڈ تھے، جو اب تقریباََ ساتھ ساتھ

Read more

متشاعرات اور جنسی ہراسانی کا غیر منصفانہ قانون

میں نے بارہا تذکرہ کیا ہے کہ ادب یعنی شاعری اور فکشن میں ایک خاص سوچ کی حامل خواتین نے یلغار کی ہے جن کی ادب شناسی عمیرہ احمد کے ناولوں، ڈراموں سے زیادہ نہیں، یا فراز اور پروین شاکر کی ہلکی پھلکی رومانی یا عشقیہ شاعری سے زیادہ نہیں۔ اپنے زمانے میں ساحر، مجاز اور اختر شیرانی مقبول تھے۔ جب فیس بک نے رابطے کا براہ راست اور محفوظ  ذریعہ فراہم کیا تو کچھ نے پسند کرنے والی مداحوں

Read more