شاہ جی اور شورش کی میراث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری ایک حالیہ تحریر میں مولوی خادم حسین رضوی صاحب کا موازنہ احراری مقررین سے کیا گیا تو اس پر چند حضرات کو بہت کوفت ہوئی کہ شورش کاشمیری اور عطاءاللہ شاہ بخاری جیسے بزرگوں کو ایسے لوگوں سے کوئی نسبت نہیں۔ وہ تو بڑے مدبر، مفکر اور مجاہد تھے وغیرہ وغیرہ۔ نیز یہ کہ راقم نے مسلکی اختلاف کی بنا پر ان اکابر اصحاب سے بغض دکھایا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ راقم کو عطاءاللہ شاہ بخاری اور آغا شورش سے کوئی ذاتی عناد نہیں۔ ان کو دنیا سے گزرے عرصہ ہو گیا اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ میں عطاءاللہ شاہ بخاری کے ایک نواسے کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھا بھی۔ میرے ہاسٹل کے ہمسائے تھے۔ بہت دوستی کا تعلق تھا۔

 میری تحریر کا مقصد ان دو حضرات کی توہین نہیں، بلکہ محض ان کے پاکستان کے سیاسی اور مذہبی کلچر پر اثرات کی نشاندھی کرنا  تھا۔ میری نظر میں اس وقت جو طوفان بدتمیزی اسلام آباد میں بپا ہے، بخاری صاحب اور شورش صاحب کی میراث ہی ہے۔ شورش اور شاہ جی کے زیر اثر پنجاب میں مولویوں کی ایک ایسی نسل پروان چڑھی جس نے لفاظی اور نعرہ بازی کو مذہبی خطابت کی بنیاد بنایا۔ ان میں تمام مکاتیب فکر کے مولوی حضرات کے نام آتے ہیں۔ احرار کی صفوں میں شیعہ، سنی، وہابی، ملحد، کمیونسٹ سبھی پائے جاتے تھے۔ موجودہ زمانے کے بزعم خود سرفروش عناصر اپنے ‘اکابرین‘ کے طور پر احراری قبول ہیں۔ لیکن یہ معلوم نہیں کہ ان کی تقریروں میں کیسے کیسے گل کھلائے گئے۔ کس کس بہانے چندے جمع ہوئے اور مذہب کے نام پر پنجاب کے عوام کو بہکایا گیا۔ یہ بات آج سے نوے سال قبل کی ہے۔ انگریز سرکار کے ڈر سے ان میں جرات نہیں تھی کہ سرعام قتل کے فتوے جاری کرتے لیکن اگر کوئی سادہ لوح قتل کا مرتکب ہو جاتا تو اس کو غازی اور شہید کے تاج بھی احراری ہی پہناتے تھے۔
کئی تقریروں میں یہاں تک کہا گیا کہ نماز پڑھو نہ پڑھو، ختم نبوت کے دفاع کے لئے چندہ دے دو۔ ایک صاحب نے بغض معاویہ میں گاندھی اور گورونانک کی وکالت تک کی۔ ظفرعلی خان جہاد کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ تلوار نہ چلتی تو اسلام نہ پھیلتا۔

چراغ حسن حسرت نے مردم دیدہ میں عطاءاللہ شاہ بخاری کی خطابت کا ریویو کچھ ایسے پیش کیا کہ “ان کی جادو بیانی مسلم ہے لیکن وہ بات سے بات نکالتے جاتے ہیں۔ ان کی تقریر لکھ دی جائے تو معلوم ہو گا کہ بہت سے لطیفے اور چٹکلے جمع کر دئیے گئے ہیں۔ یوں کہنا چاہیئے کہ ان کی تقریر اچھی خاصی الف لیلہ ہوتی ہے۔”

امیر شریعت کو لقب تو مل گیا، لیکن نہ آپ مفتی تھے اور نہ ہی علامہ۔ نہ فاضل دیوبند نہ ہی علیگ۔ ان کی کوئی تصنیف نہیں۔ شورش کہتے ہیں کہ ایک دو مضمون جو ان کے نام سے شائع ہوئے وہ شورش ہی نے لکھے۔ احرار کے پیشہ ور ایجی ٹیٹر گروہ کو ایک لیڈر کی ضرورت تھی جو امیر شریعت جیسے بھاری بھرکم خطاب سے پوری ہو گئی۔
ایک دفعہ فرمایا کہ ‘یار لوگوں نے مجھے شریعت نہ ماننے کے لئے امیر شریعت بنایا ہے‘ (فرمودات امیر شریعت صفحہ 78)

ایک دیہاتی مجلس میں شاہ جی نے فرمایا کہ کائنات تھم گئی۔ سننے والوں کو کائنات کا تھمنا سمجھ نہ آیا۔ پھر فرمایا۔ رک گئی۔ ٹھہر گئی۔ لیکن سامعین پھر بھی نہ سمجھے۔ آخر فرمایا، تسی ہالی وی نئیں سمجھے، میں تہانوں سمجھانا ‘تیرے لونگ دا پیا لشکارا، تے ہالیاں نے ہل ڈک لئے‘ (فرمودات امیر شریعت، حصہ اول)

عبدالمجید سالک کی عطاءاللہ شاہ بخاری سے ملاقات اسیری میں ہوئی۔ شاہ جی محفل جمانے اور سجانے والے آدمی تھے۔ لطیفے، چٹکلے سناتے اسیری کا وقت گزارتے تھے۔ ایک دفعہ ان کے ساتھ  ساتھیوں نے شاہ جی سے مذاق شروع کیا۔ جب بات کچھ بڑھ گئی تو شاہ جی نے غصے میں آکر ان کو خوب مغلظات سے نوازا۔ سالک نے یہ واقعہ ایک لطیفے کے طور پر نقل کیا ہے۔ سالک کے تاثرات شاہ جی کے بارہ میں مثبت تھے لیکن احرار کی ریشہ دوانیوں کے وہ بھی خوب نقاد تھے۔

ان کے موجودہ دور کے معتقدین ہر گز یہ ماننے کو تیار نہیں کہ شاہ جی بدزبان یا فحش گو تھے۔ عطااللہ بخاری نے سن 1930 کی دہائی میں خوب نام کمایا۔ ایک مقدمہ میں ان پر نازیبا زبان کے استعمال کا الزام تھا جس میں سے ایک نسبتا فحش لفظ کے استعمال سے انہوں نے انکار کیا۔ باقی نفرت انگیز کلمات اور اس کے تتیجہ میں نقص امن کے الزام میں انہیں مجرم قرار دیا گیا۔

1935 میں نقص امن کے ایک مقدمہ میں بخاری کو عدالت نے چھ ماہ قید کی سزا سناتے ہوئے لکھا
‘ملزم۔(بقول گواہ) نہایت اچھا مقرر ہے اور سامعین کو مسحور کر دیتا ہے، پس ملزم اپنی تقریر کے اثرات سے بخوبی واقف تھا جبکہ وہ سامعین کے سامنے بول رہا تھا۔ وہ جانتا تھا جو الفاظ اور محاورات وہ استعمال کر رہاہے۔ اور جو توہین آمیز اور گندے تھے۔‘ (فیصلہ سپیشل میجسٹریٹ گورداسپور 25 اپریل 1935)

دہلی دروازے پر ایک احراری جلسہ پر فرمایا کہ ‘کہ یہ لوگ پاکستان مانگتے ہیں۔۔۔۔ پاکی استان۔ دے دیجئے استرے ان کے ہاتھوں میں اور بھیج دیجئے غلسخانوں میں۔۔‘ (سیارہ ڈائجسٹ، سالنامہ 1956، صفحہ 139)

انگریز کی نفرت میں بخاری صاحب واقعی بہت دور تک پہنچے ہوئے تھے۔ زبان، کلام، تعلیم ہر انگریزی چیز سے بیر رکھتے تھے۔ ایک دفعہ ٹرین میں چند احمدیوں سے کہنے لگے کہ تم لوگ انگریز سرکار کو اولی الامر کہنا چھوڑ دو تو باقی ہمارا کوئی جھگڑا نہیں۔ بہت عرصہ بعد ایک احمدی عالم ان سے ملنے ملتان گئے۔ ان کی روداد پڑھ کر ترس آتا ہے کہ ہندوستان کا ایک مشہور مقرر کسمپسری میں اپنے آخری دن گزار رہا تھا۔ بخاری صاحب نے ان صاحب کو بھی یہی بتایا کہ جماعت احمدیہ کی مخالفت کا محرک بھی انگریز سے ان کی نفرت تھا۔

منیر کمیشن رپورٹ کو جانبدار قرار دے کر شاہ جی کی ملکہ برطانیہ کے بارے یاوہ گوئی پر پردہ ڈالنے کوشش عبث ہے۔ ان کو ایسا تقدیس کا لبادہ نہ چڑھائیں جس پر انہیں خود اعتراض ہو۔ اخیر عمر میں کوئی تیمارداری کو گیا تو شاہ جی نے شکوہ کیا ‘بیٹا، جب تک یہ کتیا بھونکتی تھی، سارا برصغیر ہند و پاک ارادت مند تھا، اس نے بھونکنا چھوڑ دیا ہےتو کسی کو پتہ ہی نہیں رہا کہ میں کہاں ہوں‘۔ اس ضمن میں مختار مسعود کی کتاب “آواز دوست” میں شاہ جی کا تذکرہ بھی پڑھیے۔ جہاں تک احرار کی گالم گلوچ کا تعلق ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کام میں سبھی نے تمام حدود پار کر دیں۔ کوئی اسے پنجابی کلچر کہہ کر جان چھڑائے تو اور بات ہے لیکن اس کا انکار کرنا حقائق کا انکار کرنا ہے۔

شورش اور شاہ جی کا آمنا سامنا پہلی بار مسجد شہید گنج کے تنازعے پر ہوا۔ شورش نے جب احرار میں شمولیت کا ارادہ کیا تو شاہ جی نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا کہ شورش نے اپنی تقریر میں احرار کے بارہ میں نازیبا زبان استعمال کی۔ یعنی ان کی دوستی کی ابتداء ہی گالم گلوچ سے شروع ہوتی ہے۔ یہی بات ہمیں اقبال کی ایک بے تکلف مجلس میں نظر آتی ہے۔ شورش جب علامہ اقبال کی خدمت میں چودھری افضل حق کے ہمراہ حاضر ہوئے تو علامہ جی نے پوچھا کہ ان خنزیروں کو یہاں کیوں کے کر آئے ہو۔ آغا شورش نے بڑے شوق سے ان کے الفاظ اپنی خودنوشت میں نقل کئے ہیں۔

شورش مقرر تھے اور بہت اعلیٰ مقرر تھے۔ چٹان کی مدیری بھی ایک لمبا عرصہ کی۔ اپنے حریفوں کے خلاف سرخیاں لگانا اور ان کے کردار پر سوال اٹھانا ان کا ہفتہ وار معمول تھا۔ اس کے علاوہ شورش کی تحریر اور تقریر میں کئی غیر شریفانہ الفاظ سنے اور پڑھے ہیں۔ ‘ہڈی ڈال کر ساتھ ملا لینا‘، ‘آوارہ عصمت کی طرح لوٹ لینا‘، ہم فلاں صاحب کو ‘نہرو اور گاندھی کی جوتی کے برابر نہیں سمجھتے‘، غلام غوث ہزاروی ‘سٹھیا چکا ہے، ہذیان بکنا اس کا توشہ آخرت ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔ انہوں نے ختم نبوت کے ایک جلسہ میں گالیوں کا جو بازار گرم کیا اس کو میں نے خود سنا ہے۔ آڈیو ریکارڈنگ شائد کسی ویب سائٹ پر دستیاب ہو۔

شورش صحیح معنوں میں متلون مزاج، مجموعہ اضداد اور بے اصولے قسم کے صحافی تھے۔ کہیں وہ سجادہ نشینوں کے ساتھ کھڑے ہیں تو کبھی اہلحدیث علماء کی تعریفیں کر رہے ہیں۔ کبھی دیوبند کے علماء کے قدم چومتے ہیں تو کبھی انہیں مجرم قرار دیتے ہیں۔ آل سعود کی امریکہ نوازی ہضم کر جاتے ہیں۔ بھٹو کو کمیونسٹ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ جماعت اسلامی سے بھی بغض اور مفتی محمود کے بارے میں کبھی ٹھنڈے تو کبھی گرم۔ شورش بھی موم کی ناک ہیں۔ جدھر چاہیں، موڑ لیں۔
اگر کسی کو مغالطہ ہو کہ شورش کاشمیری نے کبھی چندے اکھٹے نہیں کئے تو معلوم ہو کہ 1974 کے احمدی مخالف فسادات کو نہ صرف موصوف نے ہوا دی بلکہ اس کی آڑ میں اسی سال شورش نے ایک لاکھ روپے چندہ کی اپیل ان الفاظ میں کی
‘راقم علیٰ وجہ البصیرت، حالات کے عمیق مطالعہ کی بدولت اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ مرزائی عرب ریاستوں اور افریقی مملکتوں کو یہ تاثر دے رہےہیں کہ پاکستان ان کی ریاست ہے۔ وہ عربوں کی جاسوسی کر کے انہیں پاکستان سے بدگمان کرتےہیں۔ بھارت سے انہوں نے پاکستان سے متعلق گٹھ جوڑ کر لیا ہےاور پاکستان کی بندر بانٹ کے بعد وہ سکھوں کی معیت میں پنجاب کو سرحد و بلوچستان سے لڑا بھڑا کر اکالی احمدی ریاست بنانے کا منصوبہ تیار کر چکے ہیں۔ (چٹان 14 جنوری 1974)

مولویوں کی روزی روٹی واقعی ختم نبوت کی تحریکوں سے منسلک ہو چکی ہے اور اس کی ابتدا احرار نے کی۔ موجودہ دھرنے کی ابتدائی شکل ہمیں 1934 میں نظر آتی ہے۔ اس سلسلہ میں چندے اکٹھے کرنے کی مہم سارے پنجاب میں چلائی گئی۔ ہر جلسے کے بعد مولوی حبیب، مظہر، عنائت اور عطا اللہ شاہ وغیرہ چندوں کا مطالبہ کرتے۔ ہزاروں روپے کی امید پر چادریں بچھاتے اور گنتی کے چند روپے لے کر اٹھتے۔ شاہ جی کا آئٹم نمبر چلانے سے پہلے صدر مجلس کا مطالبہ روپوں کا ہوتا۔ ایک روداد میں تو لکھا ہے کہ مناسب چندہ نہ ملنے پر شاہ جی کی تقریر منقطع کر دی گئی۔ سید حبیب نے اخبار سیاست میں الزام لگایا کہ ہزاروں روپے ان احراریوں نے خردبرد کر دیے ہیں اور پوچھا کہ عطاءاللہ شاہ بخاری کو امرتسر میں تین ہزار روپے کا مکان کس نے لے کر دیا؟

احرار کا شیرازہ بکھرنے کے بعد ان کی جانشین مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولویوں نے چندے بٹورے اور بیرونی امداد بھی۔ مارچ 1966 کے چٹان کے دو شماروں میں شورش نے محمد علی جالندھری صاحب کو ‘ختم نبوت کے نام پر کاروبار‘ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ مولانا جالندھری اس دور میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے کرتا دھرتا تھے اور شورش صاحب کے بقول ڈیڑھ دو لاکھ روپے جو ختم نبوت کے نام پر اکٹھے کئے گئے تھے ان میں خرد برد کا الزام لگا رہے تھے۔
شورش جب مرے تو کراچی کے جریدہ الفتح نے جنوری 1976 کی اشاعت میں انکشاف کیا کہ بانوے لاکھ روپے ترکہ میں چھوڑے ہیں۔ ایک بظاہر نہ بکنے اور نہ جھکنے والا انقلابی صحافی اسقدر دولت کیسے جمع کر گیا۔ واللہ اعلم

کچھ دوستوں نے برداشت، تحمل اور مکالمے کی ضرورت کی طرف توجہ بھی دلائی ہے۔ راقم کا تعلق جس طبقہ سے ہے اس کا اوڑھنا بچھونا ہی تحمل اور کشادہ دلی اور کشادہ خیالی ہے۔ جو دوست اس مغالطے کا شکار ہوں کہ ان اصحاب پر تنقید بے جا کی گئی ہے وہ تصحیح فرما لیں۔ اور یہ بھی دیکھ لیں کہ جماعت احمدیہ کا رویہ احرار کے لیڈروں سے نہ صرف مہذبانہ رہا ہے، بلکہ بوقت ضرورت ان سے احسان کا سلوک بھی رکھا گیا۔
شورش لکھتے ہیں کہ  انگریزوں نے انہیں جیل میں خوب تشدد کا نشانہ بنایا لیکن جب لاھور جیل میں ڈالے گئے تو وہاں جیل سپرنٹنڈنٹ میجر حبیب اللہ شاہ تھے۔ شورش نے لکھا کہ
‘لطف کی بات یہ کہ وہ پکے قادیانی تھے۔ انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ میں آل انڈیا مجلس احرار کا جنرل سیکرٹری ہوں، اور احرار قادیانیوں کے حریف ہیں۔ بلکہ دونوں میں انتہائی عداوت ہے۔ میجر حبیب اللہ شاہ نے اشارتا بھی اس بات کا احساس نہ ہونے دیا۔ انہوں نے اخلاق اور شرافت کی انتہا کر دی۔ پہلے دن اپنے دفتر میں اس خوشدلی اور کشادہ قلبی سے ملے گویا مدت العمر کے آشنا ہوں۔ انہوں نے مجھے بیماروں میں رکھا، اچھی سے اچھی دوا اور غذا دینا شروع کی۔۔ وہ بڑے جسور، انتہائی حلیم اور غائت درجے کے دیانتدار افسر تھے۔‘
یہاں شورش نے میجر صاحب کی اسلامی حمیت اور غیرت کی گواہی بھی دی کہ کس طرح وہ انگریز ڈپٹی کمشنر سے الجھ پڑے اور باوجود سرکاری مطالبہ کے انہوں نے جیل میں اذان اور تلاوت قرآن کو جاری رکھوایا (پس دیوار زنداں)۔

شاہ جی جب ملتان میں زندگی کے آخری ایام گزار رہے تھے تو ماہنامہ الفرقان ربوہ کے مدیر ابوالعطا جالندھری ان سے ملاقات کو حاضر ہوئے۔ ابوالعطا صاحب کا اصل نام اللہ دتہ تھا۔ لیکن کنیت ابواعطاء سے معروف تھے اللہ دتہ نام سے ان کو کوئی نہیں بلاتا تھا۔ ۔ دستک دی تو شاہ جی نے پوچھا کون ہے۔ جواب میں بولے۔ اللہ دتہ۔ خیر دروازہ کھلا۔ ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد ابوالعطا صاحب کے رفیق نے بوچھا کہ مولانا، انہیں کیا معلوم اللہ دتہ کون ہوگا، آپ کو تو سب ابوالعطا کے نام سے جانتے ہیں۔ مولانا نے کہا شاہ صاحب کا نام عطا اللہ ہے اور اگر میں انہیں کہتا کہ میں ابوالعطا ہوں تو شاید برا مان جاتے۔

مولوی ظفر علی خان ایڈیٹر اخبار زمیندار نے ملک کے کونے کونے میں احمدیوں کے خلاف نفرت آمیز تقریریں کیں۔ ان کی قادیان کے اخبار الفضل سے باقاعدہ نوک جھونک چلتی تھی۔ قلم اور دہن دونوں انہوں نے احراری ہنگامہ آرائی میں وقف رکھے۔ ایسے ایسے گھٹیا اور رکیک حملے احمدیوں پر کرتے تھے کہ پڑھنے والوں کو گھن آتی تھی۔ بقول شورش، “ظفر علی خان کی اندوہناک موت بھی انہوں نے دیکھی۔ جنازے میں کل دس آدمی تھے۔”
مرض الموت میں ظفر علی خان کے معالج امام جماعت احمدیہ کے بجھوائے ہوئے ڈاکٹر غلام مصطفیٰ صاحب تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •