سائنس اور سوڈو سائنس میں کیا فرق ہے؟
ٹوسٹ ماسٹر میٹنگ چل رہی تھی اور مسٹر بارگر نے کھڑے ہوکر جھوٹی سائنسی تقریر کی ۔ ان کی تقریر سنتے ہوئے میرا دماغ ایک چولہے پر رکھی کیتلی کی طرح ابلنے لگا، کانوں میں سے سیٹیاں نکلتی محسوس ہوئیں اور ایسا لگنے لگا کہ کہ کھوپڑی بھک سے اڑ جائے گی۔ میں نے جلدی سے غٹاغٹ ٹھنڈا پانی پی لیا۔ اوکلاہوما کی ایک صبح میں بے خبر سو رہی تھی اور ایک خوفناک زور دار دھماکہ ہوا جس سے میری فوراً انکھ کھل گئی اور میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میرے زہن میں پہلا خیال یہ آیا کہ شائد ہماری چھت گر گئی ہے اور میں نے پریشانی سے اپنے بچوں کو پکارا جن کے کمرے اوپر ہیں۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ وہ لوگ گھر پر نہیں ہیں بلکہ اسکول جا چکے ہیں اور زلزلہ آیا ہے۔ کتنے لوگ جانتے ہیں کہ زلزلہ اتنی خوفناک آواز بھی نکالتا ہے؟
مسٹر بارگر ستر یا اسی سال کے ہیں، وہ پتا نہیں کون سے کرسچئن رائٹ ونگ میگزینون سے اتنا پڑھ کر یہ تقریر لکھ کر لائے تھے، ان کو ابھی تک پتا نہیں چلا کہ دنیا گرم ہو رہی ہے اور اوکلاہوما میں تیل کی کمپنیوں کے پانی سے زمین چیر کر تیل نکالنے کی وجہ سے یہاں زلزلوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہو گئی ہے۔ دنیا میں پینے کا پانی لامحدود نہیں ہے بلکہ اس میں کمی واقع ہورہی ہے۔ تیل کی کمپنیاں اپنے وقتی فائدے کے لیے یہ پانی زمین کے اندر گھسا کر تیل نکالنے میں لگی ہیں اور وہ اس پریکٹس کے آنے والی نسلوں پر اثرات سے لاپرواہ ہیں۔ ہم عام شہریوں کو مل کر آنے والے مستقبل کے لیے ان طاقت ور افراد سے لڑنا ہے۔ کسی دن شائد مسٹر بارگر کے سر پر چھت گر جائے تو وہ سمجھیں گے۔ کچھ لوگ اتنا برین واش ہو چکے ہوتے ہیں کہ اپنا نقصان بھی ہو رہا ہو پھر بھی نہیں سمجھتے۔
حالانکہ نارمن ایک یونیورسٹی ٹاؤن ہے جہاں ساری دنیا سے لوگ پڑھنے آتے ہیں۔ ہماری 98 فیصد آبادی پڑھی لکھی ہے اور یہاں کتنے لوگ سائنسدان ہیں۔ ایک پڑھا لکھا سفید فام آدمی اتنی بڑی یونیورسٹی سے پانچ منٹ کے فاصلے پر اچھی انگلش میں یہ باتیں کہہ رہا ہے تو مجھے ان لوگوں سے ہمدردی محسوس ہوئی جو بہت دور ہیں اور مین اسٹریم سائنس سے کٹے ہوئے ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ دنیا کے انسانوں کی سادگی اور ان کی مذہب سے محبت کو طاقت ور افراد اپنے فائدے کے لیے بہت چالاکی سے استعمال کررہے ہیں۔ وہ جھوٹی سائنس کو مذہب کے ساتھ سینڈوچ بنا کر پیش کرتے ہیں جس کو لوگ آنکھیں بند کرکے نگل لیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ شائد اس لیے کہ وہ ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، کسی کے غلط خیالات کو چیلنج نہیں کرتے اور ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو جانی پہچانی ہے۔
ایک بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس کی تعلیم و تربیت کرنا اور اس کو معاشرے کا ایک ایسا فعال رکن بنانا جس سے دنیا آگے بڑھے کوئی آسان کام نہیں ہے۔ آج کل جس طرح دنیا میں انفارمیشن تیزی سے آگے نکل گئی ہے، ایسا اس سے پہلے لکھی ہوئی تاریخ میں نہیں ہوا ہے۔ جہاں بہت سارے لوگ پڑھنا لکھنا نہ جانتے ہوں، وہاں لفاظی سے بھی ان سے جھوٹ بولا جاسکتا ہے۔ جہاں لوگوں کے دل و دماغ میں تعصب ہو، ان کی تعلیم میں وسعت اور سوچ میں گہرائی نہ ہو، وہاں وہ کچھ اچھی سی زبان میں، یا خوبصورتی سے لکھا ہوا پڑھ کر متاثر ہوجاتے ہیں اور سچ اور جھوٹ میں فرق نہیں بتا سکتے۔ ہمیں اپنے عوام کو اس لائق بنانا ہوگا کہ وہ اپنے اندر تنقیدی سوچ پیدا کرسکیں ورنہ بہت بڑے پیمانے پر بہت بڑی غلطیاں ہوتی ہیں۔ ٹرمپ صدر بن چکا ہے اور ترکی کی حکومت نے اپنے اسکولوں میں سے ایولیوشن کی سائنس نکال دی ہے۔ یہ بہت بڑی غلطیاں ہیں جن کا خمیازہ آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔ چونکہ دنیا کے تمام انسان ایک دوسرے سے جڑے ہیں، اس کا پوری دنیا پر منفی اثر محسوس کیا جائے گا۔
آج کے مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ سائنس اور جھوٹی سائنس میں کون سی باتیں مشترک ہیں اور ان میں کیا فرق ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ اردو پڑھنے والی دنیا خاص کر میرے ہندوستانی بھتیجے اس کو توجہ سے پڑھیں گے تاکہ ان کو معلوم ہو کہ زاکر نائک اصلی سائنس دان نہیں ہیں۔ اگر آپ کو سائنس سیکھنی ہے تو ان لوگوں سے سیکھیں جنہوں نے کچھ بنایا ہے، کچھ ایجاد کیا ہے، کچھ دریافت کیا ہے۔ کسی اسکول میں اپنا بچہ ڈالتے ہوئے ہمارے اوپر یہ ذمہ داری ہے کہ دیکھیں کہ دوسرے سرے سے اس میں سے کیا بن کر نکل رہا ہے۔ اور کیا یہ گریجوئیٹ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنا رہے ہیں؟
سائنس اور جھوٹی سائنس دونوں ہی درست اور قابل بھروسہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، قدرتی واقعات کی پیش گوئی کرتے ہیں اور مشکل زبان استعال کرتے ہیں۔ مشکل زبان لوگوں کو متاثرکن لگتی ہے جس کی وجہ سے دونوں سائنس اور جھوٹی سائنس لوگوں کو پراسرار لگتی ہیں۔ پھر ان دونوں میں ملتی جلتی زبان بھی استعمال ہوتی ہے جس سے لوگ مزید الجھن کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کی ایک عام مثال ہے "انرجی” یعنی توانائی۔ میں ان دونوں کے فرق کو ایک سائنس کی اسٹوڈنٹ ہونے کی وجہ سے جس طرح سمجھتی ہوں یہاں پر ویسے ہی لکھوں گی۔ کھانے سے کتنی توانائی ملتی ہے اس کو ہم کیلوریوں میں ناپتے ہیں۔ اور جب کوئی مریض آتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے اندر کوئی توانائی نہیں ہے اور میں خود کو تھکا ہوا محسوس کرتا ہوں تو پھر ہم اس بات پر غور کریں گے کہ ایسا کیوں ہے؟ کیا ان کو انیمیا ہے، یا تھائرائڈ کی بیماری ہے یا ان کی نیند پوری نہیں ہو رہی؟ اسی طرح سائنس کے دیگر شعبوں میں بھی انرجی کا الگ کانسیپٹ ہے جس کو باقاعدہ ناپا جا سکتا ہے مثلاً ہم کہتے ہیں کہ یہ سو واٹ کا بلب ہے۔
سوڈوسائنس یا جھوٹی سائنس اکثر لوگ اپنے عقائد کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً میری ایک اچھی دوست اور میں ہفتے میں ایک بار جھیل کے گرد ساتھ میں چہل قدمی کرتے ہیں تو میں ان کی باتیں غور سے سنتی ہوں۔ ان کی شخصیت دلچسپ ہے، ایک طرف وہ آئی ٹی کے بارے میں بہت ایڈوانس معلومات رکھتی ہیں اور دوسری طرف جادؤئی خیالات بھی۔ ان کے خیال میں اگر ایک خاتون کو حیض ہوں تو ان کو مندر نہیں آنا چاہیے کیونکہ ان میں سے منفی توانائی فضا میں پھیلتی ہے جو ان کے اردگرد ریاضت کرتے لوگوں کی مثبت توانائی کو ختم کردیتی ہے۔ اب چونکہ ہماری اچھی دوستی ہے تو میں ان کو تھوڑا بہت چیلنج کرتی ہوں۔ اگر یہ خاتون آئبوپروفن کھا کر جائیں اور ان کو کوئی تکلیف محسوس نہ ہو رہی ہو تو کیا پھر بھی ان میں سے "منفی توانائی” فضا میں پھیل جائے گی؟ یہاں انہوں نے میرے ساتھ کمپرومائز کرلیا کہ ہاں ٹھیک ہے ایسی صورت میں وہ جا سکتی ہیں۔ تو سوڈوسائنس میں توانائی ایک خیالی چیز ہے جس کو ناپا نہیں جا سکتا۔ میرے خیال میں یہ ان وقتوں کا بنایا ہوا کانسیپٹ ہے جب انسانوں کی معلومات زیادہ نہیں تھیں۔
ایسٹرالوجرز انسان کی پیدائش کے وقت ستاروں کی پوزیشن سے اس کی زندگی کے بارے میں پیش گوئی کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ستارے اتنے دور ہیں کہ ان کی روشنی ہم تک پہنچتے لاکھوں سال لگ جاتے ہیں اور جب ہم سر اٹھا کر آسمان کو دیکھتے ہیں تو ہم اصل میں اس کو ایسا دیکھ رہے ہیں جیسا وہ لاکھوں سالوں پہلے تھا۔ اگر وہاں سے کوئی ہمیں دیکھ رہا ہو تو اس کو ڈائناسور دکھائی دیں گے۔ آج آسمان کیسا ہے، وہ دیکھنے کے لیے ہم زندہ نہیں ہوں گے۔ ایسٹرالوجی کے بیانات کے پیچھے کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ اپنے دماغ کو اس سے آزاد کرلیں۔ امریکہ میں ایک بڑا گروپ پایا جاتا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ ان کو ایلینز نے اغوا کرلیا تھا اور ان پر تجربات کیے اور پھر ان کو واپس زمین پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ لوگ باقاعدہ کانفرنس کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنی کہانیاں سناتے ہیں۔ میری یہ ریکمنڈیشن ہے کہ جو بھی کوئی نیا گروپ بنانے میں دلچسپی رکھتا ہو وہ ایک نٹنگ گروپ بنا سکتے ہیں۔ اصلی سائنس بتاتی ہے کہ نٹنگ کرنے سے دل کی دھڑکن کم ہوتی ہے، بلڈ پریشر بہتر ہوتا ہے اور بے چینی کم ہوتی ہے۔ یہ سارے فائدے نہ بھی ہوں تو جو بھی آپ بن لیں گے/گی اس کو خود بھی استعمال کرسکتے ہیں اور تحفے میں بھی دے سکتے ہیں۔ جیسے اونی ٹوپی، کمبل یا سؤئٹر۔
اس کے علاوہ سائنس اور سوڈو سائنس میں ایک اہم معاشرتی فرق ہے۔ سائنس میں تحقیق اور سوال کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جبکہ اگر آپ سوڈو سائنس کو چیلنج کریں یا اس پر سوال اٹھائیں تو آپ پر ان سوڈو سائنسدانوں کا نزلہ گرے گا۔ اس کے علاوہ دنیا کے مختلف علاقوں کے سائنسدان سائنسی نتائج پر متفق ہوتے ہیں۔ جیسے سرن میں مختلف ممالک کے افراد مل کر کام کرتے ہیں جبکہ سوڈو سائنس علاقائی ہوتی ہے۔
سائنسی میدان میں سوڈو سائنس کے بیانات پر تحقیق کرنے کا کوئی زوق و شوق نہیں پایا جاتا جس کی وجہ یہ ہے کہ جب شروع شروع میں ایسا کیا گیا تو سوڈو سائنس کے تمام دعوے غلط ثابت ہوئے جس کی وجہ سے اصلی سائنسدانوں نے ان دعووں پر تحقیق کرنا چھوڑ دی۔ اس قدم سے انہی نتائج کی بنیاد پر سوڈو سائنسدان اصلی سائنسدانوں سے متفق ہیں۔
*** ***
(ڈاکٹر لبنیٰ مرزا نے ایسی صاف اور واضح اردو لکھنا کیسے سیکھا؟ یقیناً اس میں سوڈو سائنس کا کوئی کمال نہیں کیونکہ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کا سوڈو سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ حقیقی سائنس ہمیں واضح طور پر سوچنا اور بیان کرنا سکھاتی ہے۔)





