حیدر آباد کا ایک چھوٹا سا بڑا لڑکا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”کیا نام ہے آپ کا؟ “
”کس کا؟ “ اس نے استعجاب سے پوچھا۔ جیسے کوئی شخص بات سمجھ نہ پائے۔

”آپ کا بھئی۔ “
”میرا نام پپ“ اتنا کہنے کے بعد ذرا جھجک گیا۔ “ کاشف ہے۔ “ اس کا رنگ ابن خلدون کے اس نظریہ کا ثبوت دے رہا تھا کہ انسانی رنگ دھرتی کی موسمی اثرات کے ماتحت ہوتا ہے۔ یعنی گرم موسم انسان کو سنولا دینے کی وجہ ہے۔ ویسا ہی رنگ، جیسا کہ میرا، آپ کا یا ہمارے کسی بھائی یا بہن کا ہوتا ہے۔ اس کے تیل لگے چمکتے بالوں کی ڈیزائن سلمان خان کی پرانی فلم ”تیرے نام ” کی یاد دلا رہی تھی۔ ہاتھ میں سرمئی رنگ کا میلا کپڑاتھا، جس پر گیلے ہونے کے باوجود تیل کے کالے نشان دھبوں کی طرح ظاہر ہو رہے تھے۔ وہ گاڑی کی باڈی کو اس کپڑے سے صاف کرنے کی تگو دو میں لگا ہوا تھا۔

قصہ کچھ یوں ہے ہمارے ایک مہربان چند ایک روز پہلے عمرے سے واپس ہوئے تھے۔ ان سے ملنے اور مبارک پیش کرنے کے لئے حیدر آباد سے ماتلی کا سفر کیا تھا۔ ویسے یہ سفر بذات خود قابل ذکر ہے۔ اسی طرح کا سفر، جیسا کہ قدیم داستان میں پڑھنے کو ملتا ہے۔ ویسا جو شاہ زادہ کسی پری کے عشق میں کرتا تھا۔ اور اس دوران وہ دیو اور جنوں سے نبردآزما ہوکر، جنگل اور پہاڑ عبور کر کے منزل تک جا پہنچتا تھا۔ اس روڈ پر بھی دیو قامت کوسٹر تھے اور جھنگلی ڈرائیور۔ بخدا وہ آپ کا رخ کیے یوں چڑھ دوڑتے جیسے جان لینے پر تُلے ہوں۔ اوپر سے روڈ کا یہ حال کہ سارا کھدا ہوا۔ ترقیاتی کام جاری۔ جیسا پچھلے ستر سال سے ملک بھر میں جاری ہے۔ دونوں اطراف کھدائی شدہ روڈ تنگ بہت تھا اور چلانے والے اکثر ڈرائیور ”بجنگ آمد ”والے حال میں تھے۔ ان میں کوئی تفریق نہ تھی۔ چاہے گدھا گاڑی کا تھا یا کار کا، اسکوٹر سوار تھا یا کوسٹر پر، سب کو جلدی تھی۔ اور لگتا یوں تھا کہ انہیں جلدی ہاسپیٹل پہنچنے اور پہنچانے کی ہو۔ ہماری کیا گاڑی تک کی بار بار چیخیں نکل جاتی تھیں۔

یوں بھی ہوا کہ ہم گرد و غبار میں معدوم ہوئے روڈ کا کنارہ ڈھونڈھنے کی کوشش کیے جا رہے ہیں اور یکلخت سامنے سے موٹر سائیکل سوار، اسکوٹر کے دونوں طرف دودہ کے بڑے برتن بوجھکیے رانگ سائیڈ سے آن موجود ہوتا اور بریکیں مارتے جسم میں پھریری دوڑ جاتی۔ ہم سنبھل کر آگے بڑھنے کا کشٹ کرتے اور زگ زیگ میں کوسٹر دوڑاتا موت کا سوداگر آپ کی گاڑی کو کہنی مارتا آپ کے بازو سے نکل جاتا اور دم جیسے گھٹ کے رہ جاتا۔ کیا بتائیں کہ کس طرح یہ پل صراط عبور کر پائے۔ اور واپسی پر اندھیرے اور اندھے پن میں کیسے حیدرآباد پہنچے۔ بس تھوڑا لکھا زیادہ جانیں۔ اب اس سفر کے اثرات سے گاڑی مٹی اور دھول کا خزانہ بنی ہوئی تھی۔ ہم گاڑی دھلانے سروس اسٹیشن پر پہنچے تھے۔ گاڑی کو ایک پائپ سے پانی کی تیز دھار مار مار کر دھویا گیا تھا اور اب اسے صاف کرنے اور پانی سکھانے پر کاشف صاحب کام کیے جا رہے تھے۔ کاشف صاحب کی عمر یوں سمجھیں بس مسیں بھیگنا شروع ہوئی تھیں۔

”کاشف صاحب گاڑی صاف کرنے کے کتنے پیسے ملتے ہیں؟ “
”کچھ نہیں“ وہ اسی طرح میلے کپڑے سے گاڑی کی باڈی پر محنت کیے جا رہا تھا۔

”ہائیں۔ کچھ نہیں؟ “
”دھاڑی ملتی ہے دو سو۔ “

”اچھا۔ صبح کس ٹائم کام پر آتے ہو؟ “
”آٹھ بجے“

”گھر کس وقت جاتے ہو؟ “
”رات نو دس بجے“

”اچھا اچھا۔ بھائی گھر کہاں ہے؟ “
”تین نمبر تالاب پر“

”ہائیں؟ وہاں سے یہاں آتے ہو؟ “
”ہاں“

”کیسے آتے ہو؟ “
”پیادل“

”پیادل! یار کتنا ٹائم لگ جاتا ہے؟ “
”چالیس پچاس منٹ ”

”کھانا وانا کہاں کھاتے ہو؟ “
”یہاں کھانا دیتے ہیں۔ “

”یار کاشف تمہیں شاباش ہو۔ بہت محنت کرتے ہو بھائی۔ “
”پہلے میں بنگلے پر کام کرتا تھا۔ “ اس نے آنکھیں اٹھا کر پہلی دفعہ مجھے دیکھا۔ اس دیکھنے میں کچھ خاص تھا۔ کیا تھا یہ میں جان نہیں سکا۔ بس کچھ خاص تھا۔ “ وہ صبح سے رات تک کام کرواتے تھے بارہ بجے تک۔ سارے گھر کی صفائی، سارا کام کاج، برتن دھونا، بازار سے سامان لینا۔ پھر بھی ماں بہن پر گالیاں دیتے تھے۔ میں کہا میں ماں بہن کی گالیاں نہیں سن سکتا۔ کام چھوڑ دیا۔ “

”بنگلہ کہاں تھا؟ قاسم آباد میں؟ “
”نہیں۔ آفندی ٹاؤن میں۔ “

”تنخواہ کتنی دیتے تھے؟ “
”چھ ہزار۔ “

”بس؟ پھر تو اچھا کیا چھوڑ دیا۔ ہمت کرنا یار۔ تم آگے جاؤگے ایک دن۔ دیکھنا۔ “
”صاحب یہ پائیدان دھو دوں؟ “

”نہیں یار گیلے ہو جائیں گے۔ چھوڑ دو۔ ”میں نے دیر ہوجائے کی وجہ سے کہا۔ اسی لئے فل سروس کے بجائے میں نے صرف گاڑی باہر سے واش کروائی تھی۔

”میں انہیں کپڑے سے صاف کرتا ہوں۔ “ اس نے پائیدان نکالے اور آگے اس طرف لے گیا جہاں اس کے ساتھی دوسری گاڑیوں پر کام کیے جا رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد صاف پائیدان لے آیا۔ سر پر رکھے۔ اس نے پائیدان اتار کر گاڑی میں رکھنے شروع کیے تو میں نے دیکھا اس کے تیل لگے کالے بالوں پر مٹی لگ گئی تھی۔

”صاحب گاڑی صاف ہوگئی۔ “
”یار کاشف یہ کھجوریں کھاؤ گے؟ “ میں نے دوست کی دی ہوئی عجوہ کھجوروں کے پیکٹ کو اس کی طرف بڑھایا جو پچھلی سیٹ پر رکھی تھیں۔ پیکٹ پر کعبہ شریف اور روضہ مبارکہ کی تصویر چھپی تھی۔

”ہاں صاحب۔ “ اس نے ہاتھ بڑھایا اور فوراً پیچھے ہٹا کر اپنی میلی شرٹ سے صاف کر نے لگا۔ ۔ مجھے یوں لگا جیسے مقدس تصاویر پر پڑی نظر اور ہاتھ کو صاف کرنے میں کوئی تعلق ضرور تھا۔ میں کاشف کو خدا حافظ کہہ کر جب گاڑی میں بیٹھنے لگا تو بخدا اس صاف پائیدان پر پیر رکھتے مجھے شرم آگیا۔

 


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).