نظریہ کشش عقل

نواز شریف پاکستان کی تاریخ کے ایک اہم آدمی ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ نواز شریف کے سر پر پانامہ پیپرز کا بم گرا تھا۔ نواز شریف مگر آئزک نیوٹن نہیں ہیں۔ انہوں نے پانامہ پیپرز نامی بم کے گرنے کے اسباب پر غور نہیں کیا بلکہ اس بم کو لات مار دی۔ جب بم کو لات ماری جائے تو بم لحاظ نہیں کرتا اورپھٹ جاتا ہے۔ چناچہ بم پھٹا اور موصوف، وزیر اعظم نواز شریف سے سابق وزیر اعظم نوازشریف ہو گئے۔ اگر نواز شریف آئزک نیوٹن کی طرح غور و فکر کرنے کے عادی ہوتے تو ممکن تھا کہ وہ بم گرنے کے اسباب پر غور کرتے اور اس کے مابعد اثرات کو مدنظر رکھ کر نظریہ کشش عقل پیش کر دیتے۔ لیکن وہ نواز شریف ہیں۔ آئزک نیوٹن ان کے سامنے کیا بیچتا ہے۔ چناچہ انہوں نے نظریہ پیش کرنے کی بجائےخود کو ہی سالم نظریہ قرار دے دیا۔
ایبٹ آباد میں 19 نومبر 2017 کے جلسے میں بے چارے عوام سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مائنس نواز شریف کی باتیں کرنے والے یہ جان لیں کہ نواز شریف ایک نظریے کا نام ہے۔ اس سے پہلے ایک اور موقع پر خطاب کرتے ہوئے نواز شریف خود کو نظریاتی قرار دے چکے ہیں۔ اس بات کا اعتراف بھی وہ کھلے بندوں کر چکےکہ پہلے وہ نظریاتی نہیں تھے۔ 28 جولائی 2017 کے دن ان کے ساتھ عدلیہ نے جو ہاتھ کیا اس کے بعد حالات نے انہیں کچھ کچھ نظریاتی بننے پر مجبور کر دیا۔
عدالت کے ہاتھوں انتخابی نا اہلی کے بطن سے جنم لینے والے اس نظریاتی وجود نے مسلسل پاکستان کے اداروں کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ عدالت سے منصفی کا سوال کرتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی کہ ر ہے ہیں کہ ان کو سزا دی نہیں بلکہ دلوائی جا رہی ہے۔ وہ عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسی عدالتی نظام سے فئیر ٹرائل کے طلب گار بھی ہیں۔ نا اہلی کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل کے فیصلے میں موجود شعر میں راہزن کے لفظ کو انہوں نے فوج کی طرف موڑ دیا اور یوں وہ بیک وقت پاکستان کے دو اہل ترین اداروں سے براہ راست تصادم کی طرف قدم بڑھا نہیں رہے بلکہ لپک رہے ہیں۔
اس صورت حال کے بعدجب وہ یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف ایک نظریے کا نام ہے تو پھر اس نظرئیےپر غور کرنا پڑتا ہے کہ آخر اس بات سے ان کا کیا مطلب ہے۔ جب ہم نواز شریف کے نا م پر غور کریں تو یہ نام دو الفاظ ”نواز“ اور ”شریف“ کا مرکب ہے۔ لہٰذا اس نظرئیےکو دو ذیلی نظریات ”نظریہ نواز“ اور ”نظریہ شریف“ کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
نظریہ نواز، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، ایک ایسا نظریہ ہے جس میں نا اہلی کے بطن سے جنم لینے والے نظریاتی وجود کی حمایت کرنے والوں کو نوازےجانے کا امکان موجود ہے۔ اس نظرئیے کو تقویت ان کے تابناک ماضی اور عبرت ناک حال سے بھی ملتی ہے۔ سیف الرحمان ہوں یا محمد رفیق تارڑ، قمر زمان چوہدری ہوں، سعید احمد ہوں یا پھر ظفر حجازی ہوں۔ ان سب کو ان کی خدمات کے عوض نوازا گیا۔ اور یہ تو چند لوگ ہیں جو نمایاں ہیں۔ جو پسِ پردہ نوازے گئے ان کا حساب الگ ہے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ وہ احسان فراموش نہیں ہیں تو دراصل وہ اپنے نظریہ نواز کا ہی اظہار کر ہے ہوتے ہیں۔ اس نظرئیے کی تصدیق عدالت عظمیٰ بھی کرتی ہے جب وہ اپنے فیصلے میں کہتی ہے کہ اہم اداروں میں انہوں نےاپنے قریبی ساتھیوں اور ہم مفاد حلیفوں کو تعینات کر رکھا ہے۔ چناچہ ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ نواز شریف اپنے نظریہ نواز سے مکمل کمٹمنٹ رکھتے ہیں۔
نظریہ شریف کا معاملہ تھوڑا ساٹیڑھا ہے۔ پہلے پہل یہ خیال غالب رہا کہ اس نظریے کے تحت پاکستان میں شرافت کو فروغ دیا جائے گا مگر پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کےواقعات پر غور کرنے سے اس بات کا امکان پیدا ہوتا ہے کہ نظریہ شریف دراصل پاکستان پر اقتدارِ شریف کا نظریہ ہے۔ اسی کی دہائی سے پاکستان کی سیاست میں متحرک نواز شریف نے نوے کی دہائی میں نظریہ شریف کی بنیاد رکھی۔ نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے سیاست میں قدم رکھا اور پنجاب کا مورچہ سنبھالا۔ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں شریف خاندان کے ایک اور چشم وچراغ حمزہ شہباز شریف نے نظریہ شریف کو لبیک کہتے ہوئے اپنے اجداد کی روایات کو آگے بڑھانے کا آغاز کیا۔ نظریہ شریف کی اہمیت اور ضرورت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کی ہونہار صاحبزادی مریم صفدر بھی مریم نواز شریف کے نام سے اقتدارِ شریف کو مستحکم کرنے کی خاطر میدانِ سیاست میں نازل ہوئیں۔ اب سنا ہے کہ نواز شریف کی تیسری نسل نظریہ شریف کا علم تھامے کوچہء سیاست میں قدم رنجہ فرمانے کو ہے۔
“نظریہ نواز“ اور ” نظریہ شریف“ کا جائزہ لینے کے بعد جب ہم سنتے ہیں کہ نواز شریف ایک نظریے کا نام ہے تو سر پیٹ لینے کو دل کرتا ہے۔ وہ اپنا نظریہ بیان تو نہیں کرتے مگرآمریت کے کندھوں پر سوار ہوکر اپنا سیاسی کیرئیر شروع کرنے والا، اپنے مزاج میں آمر ایک شخص جب سویلین بالادستی اور ووٹ کے تقدس کا نعرہ لگاتے ہوئے پاکستان کے اداروں کو تباہ و برباد کرنے پر تل جائے تو جو نظریہ سامنے آتا ہے وہ نہ صرف افسوس ناک ہے بلکہ انتہائی خطر ناک بھی ہے۔ اس کے باوجود اگر اپنے تیسرے دور حکومت میں نواز شریف نے سویلین بالادستی کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہوتیں اور پاکستان کی عوام کے ووٹ سے منتخب شدہ نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ کو ذرا سی بھی اہمیت دی ہوتی تو آج شاید ساری قوم ایک ہو کر نواز شریف کے پیچھے کھڑی ہوتی۔
عقل ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو مختلف تجربات سے گزرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ نظریہ کشش عقل کے اصول کے تحت عقل عقل کو کھینچتی ہے۔ عقل مندوں کی صحبت میں بیٹھنا عقل کو دوام بخشتا ہے۔ عقل کی بات عقل مندوں کو ہی سمجھ آ تی ہے۔ عقل مند قومیں مستقبل کے حالات کی پیش بندی کرتے ہوئے اپنے اندرونی اور بیرونی مسائل کو تدبر اور صلح جوئی سے حل کرتی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جوشیلے اور جذباتی نعروں پر یقین رکھنے والی پاکستانی قوم ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جانے کے باوجود نئے جوش اور ولولے سے اسی سوراخ میں اپنا ہاتھ دودھ کے کٹورے سمیت اس امید پر ڈالتی ہے کہ شاید اس مرتبہ سانپ ڈسنے کی بجائے دوست بن جائے۔

