اہلِ مغرب کا شرمناک ماضی اور ہمارا مستقبل


شاید ہماری طرح آپ نے بھی نوٹ کیا ہو گا کہ اہلِ مغرب اپنے ماضی سے شرمندہ ہیں اور اس کا ذکر ہی نہیں کرتے۔ ان سے ذکر کیا جائے کہ کس طرح ان کے متعصب پادری سائنس کی دشمنی میں سائنسدانوں کو مار ڈالتے تھے جبکہ اسی زمانے میں مسلمان سائنس کی نت نئی ریسرچیں کر رہے تھے تو وہ شرمندہ ہو کر بات بدل دیتے ہیں۔ ہمارا بہترین زمانہ ہمارا درخشاں ماضی ہے۔

جب اہلِ مغرب برونو اور گلیلیو کو مارنے پر تلے ہوئے تھے کہ زمین سورج کے گرد نہیں گھومتی، اس سے کئی صدیاں پہلے الزرقالی زمین کے سورج کے گرد گھومنے کا راز فاش کر چکا تھ اور البیرونی جیسا مسلمان عالم زمین کا محیط معلوم کر چکا تھا۔ جس وقت پادریوں کو صرف اذیت پہنچانے اور تشدد کرنے والی ایجادات کرنے میں دلچسپی تھی اس وقت ابن الہیثم پن ہول کیمرہ ایجاد کر رہا تھا اور الخوارزمی وہ الجبرا بنا رہا تھا جس کی بنیاد پر آج کی ڈیجیٹل دنیا کھڑی ہے۔

جس وقت ابن خلدون معاشرت اور تاریخ کے اصول ترتیب دے رہا تھا اور وہ قواعد لکھ رہا تھا پر عمل کر کے یورپ میں نشاۃ ثانیہ کا عمل شروع ہوا، اس وقت مسیحی فرقے خونریز مسلکی جنگیں لڑ رہے تھے۔ ابن سینا جس وقت القانون لکھ رہا تھا جو اگلی کئی صدیوں تک طب کی بنیاد بنی رہی، اس وقت پادری مقدس پانی چھڑک چھڑک کر مریضوں کا علاج کر رہے تھے۔ جس وقت الزہراوی جدید طب کی بنیاد رکھ رہا تھا اور وہ آلات بنا رہا تھا جو آج تک استعمال ہو رہے ہیں اس وقت اہل مغرب ایک دوسرے کو تلواروں سے کاٹ رہے تھے۔ جس وقت اہلِ مغرب ہزاروں حسین لڑکیوں کو چڑیلیں قرار دے دے کر زندہ جلا رہے تھے، مشرق کے رحم دل حکمران ان کو اپنے حرم میں پرتعیش زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم کر رہے تھے۔

کیسے کیسے روشن ستارے گزرے ہیں۔ ابن خلدون، ابن سینا، الکندی وغیرہ۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ اپنے زمانے میں انہیں گمراہ قرار دیا گیا تھا مگر اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اپنے زمانے میں وہ ماضی کا حصہ نہیں تھے۔

اہل مغرب اپنے ماضی کی تہی دامنی پر بہت ہی شرمندہ ہوں تو یہ کہتے ہیں کہ یونان سے وہ علوم پھوٹے جن کا ترجمہ کر کے مسلمانوں نے اپنے علم کے شاندار محل کی بنیاد رکھی۔ لیکن کوئی بھی ذی شعور شخص اگر غور کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ یونانی فلسفی اور سائنسدان بھی مسلمان ہی لگتے تھے۔ آپ خود سوچیں کہ سقراط، بقراط، ارسطو، افلاطون، فیثا غورث وغیرہ مسلمانوں کے نام لگتے ہیں یا غیر مسلموں کے؟ شرمندہ ہو ہو کر وہ یہی تاویل پیش کرتے ہیں کہ انسانی علم تو ایک مشترکہ میراث ہے، ہر قوم نے اور نسل نے خود سے پرانی قوم اور نسل کے علم پر نئے ردے چڑھا کر علم کے مینار تعمیر کیے ہیں۔ صاحب، ہمارا مینار ہم نے خود تعمیر کیا ہے، کسی دوسرے کا احسان نہیں لیا۔

یہی وجہ ہے کہ جب بھی ماضی پر بات کی جائے تو اہل مغرب شرمندگی کے مارے بات گھما کر حال اور مستقبل پر لے جاتے ہیں۔ وہ اپنے حال کے عروج پر فخر کرتے ہیں اور اپنے مستقبل کو اپنا بہترین زمانہ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پچھلے پانچ سو برس میں تم اہل مشرق نے کیا کیا ہے؟ وہ متعصب نہ ہوتے تو تسلیم کرتے کہ ان کا تمام علم مسلمان سائنسدانوں کی ہی دین ہے۔

اب وہ اگر ڈینگیں مارتے ہیں کہ کمپیوٹر، موٹر کار، موبائل فون، خلائی جہاز، مصنوعی سیارے، علم ارتقا کی بنیاد پر بنائی گئی ادویات، انٹرنیٹ وغیرہ وغیرہ انہوں نے بنائے ہیں یا وہ اب چاند کو تسخیر کرنے کے بعد مریخ پر انسان بھیجنے والے ہیں اور ان کے خلائی جہاز نظام شمسی کی حدود سے باہر جا رہے ہیں، اور جلد ہی وہ دوسرے سیاروں پر اپنی کالونیاں بنا لیں گے، تو ہمیں ان سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا حال اور ہمارا مستقبل جیسا بھی ہو، ہمارے عظیم الشان ماضی سے ان کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔

 

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar