کیا تھر پاکستان کے لئے گیم چینجر بننے جارہا ہے
اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن عزیز پر حکمرانی کرنے والی ہر حکومت ملک میں توانائی کی کمی کے سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوشاں رہی لیکن ان کی ترجیحات میں خاصی غلطیاں نظر آئیں۔ جس سے ایسا تاثر ملتا رہا جیسے کہ کسی بادشاہ کے ہاتھ دولت تو آگئی لیکن استمال کرنے کا طریقہ نہ آیا اور ادھر ادھر فضول چیزوں پر دولت لٹا کر تباہ کردی اور اگر دولت قرض لے کر ہاتھ آئی تو پھر رعایا کو اس کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔
بدقسمتی سے ایسا ہی کچھ تھر میں کوئلے کے ذخائر کے ساتھ بھی بہت عرصے ہوتا رہا مفلوک الحال تھر کی زمین کالہ سونا اگلنے کو تیار رہی مگر حکمرانوں کو شاید اس کالے سونے میں بھی چمکتی چاندی نظر آنے لگی ان ذخائر میں ملکی مفاد سے زیادہ ذاتی مفاد کی بھاگ دوڑ نظر آنے لگی۔ ایک انداز ے کے مطابق تھر میں پائے جانے والے کوئلے کی ذخائر 175 بلین ٹن ہیں جو دنیا میں کوئلے کے بڑے ذخائر میں شمار ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ تھر میں کوئلے کے ذخائر سعودی عرب اور ایران میں پائے جانے والے موجودہ تیل کے ذخائر سے بھی زیادہ ہیں جو کہ گیس میں تبدیل ہونے پر 2000 ٹریلین کیوبک فٹ کے برابر ہوگا جو پاکستان کے اب تک کے تمام ذخائر سے 68 گناہ زیادہ ہے۔ وطن عزیز پر رب کائنات کی مہربانی کے یہ دنیا میں پائی جانے والی کوئلے کی کانوں سے اس طرح بھی مختلف اور سہل ہے کہ ریگستانی ہموار زمین کے نیچے یہ ذخائر موجود ہیں ہموار زمین کے نیچے معدنیات کا ہونا خود ایک نعمت ہے۔

تھر میں کوئلے کی کانیں سن 1991ء میں جیوولوجیکل سروے آف پاکستان (جی ایس پی) اور امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی کی جانب سے دریافت کی گئیں جو دنیا میں 119 ممالک میں پائے جانے والے کوئلے کے ذخائر میں ساتویں نمبر پر قرار دی گئیں، تھر میں بڑے پیمانے پر کوئلے کی کانوں کی دریافت کے بعد ہی سے آسٹریلیا، جاپان، چین اور بھارت کے سرمایہ کاروں کی نظریں اس حوالے سے شروع ہونے والے منصوبوں پر لگی رہیں۔ دریافت کے بعد ایک طویل عرصے تک اس پر کوئی کام نہ کرنے کی وجہ اس قدرتی خزانے پر ملکیت کی رسہ کشی تھی ایک طویل عرصہ ضائع کرنے کے بعد سترہ جون 2009 کو سندھ حکومت کی جانب سے باضابطہ ایک اعلان سامنے آیا جس میں عندیہ دیا گیا کہ تھر کول کا معاملہ حتمی طور پر طے پاچکا ہے جس کے مطابق حکومتِ سندھ تھر میں دریافت ہونے والے کوئلے کی کانوں کو اپنی ملکیت میں رکھے گی، اسی خاطر وزیر اعلی سندھ کی سربراہی میں تھرکول انرجی بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا اور منصوبے کو جامشورو یونیورسٹی کے حوالے کیاگیا، یونیورسٹی کے پاس اس منصوبے کے لئے درکار مہارت کا فقدان تھا جس وجہ سے منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر مزید طوالت کی جانب چلا گیا۔

مئی 2013 میں سندھ اینگرو کول مائیننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) کے ذریعے بلاک ٹو کے منصوبے پر کام کرانے کا فیصلہ کیا گیا یہ فیصلہ اس نوعیت سے ایک منفرد فیصلہ تھا کہ پوری دنیا میں کوئلہ نکالنے کے منصوبے پر کام حکومتیں خود کرتی ہیں۔ ایس ای سی ایم سی نے سندھ حکومت کی شراکت سے بلاک ٹو میں کام شروع کیا ہے جس کا رقبہ 98 مربع کلومیٹر ہے ایس ای سی ایم سی کے مطابق یہاں سے نکلنے والے کوئلے سے 5000 میگاواٹ بجلی بنائی جاسکے گی جو آیندہ 50 سالوں کی ضرورت پوری کرے گی اس منصوبے کا کل تخمینہ 50 بلین ڈالر ہوگا۔ منصوبے کی مطابق فیز ون سے 03 جون 2019 کو بجلی کی سپلائی شروع ہوجائے گی جو کہ 660 میگاواٹ ہوگی جب کہ 2020 سے 2021 میں فیز ٹو اور تھر ی سے 1650 میگاواٹ پیداوار ہوگی جس سے مجموعی پیداوار بڑھ کر 2310 میگا واٹ ہوجائے گی اسی طرح 2022 سے 2023 میں مجموعی پیداوار 3630 میگاواٹ اور 2024 سے 2025 تک یہ پیداوار 5000 میگاواٹ ہوجائے گی۔ ایس ای سی ایم سی کی مطابق بتایا گیا ہے کہ امید ہے 2028 میں منصوبے کے لئے جو قرض لیا گیا ہے وہ واپس کردیا جائے اور 2029 سے بجلی مزید سستے نرخوں میں عوام تک پہنچنا شروع ہوجائی گی۔

اس شعبہ میں کام کرنے والی جرمنی کی مشہور کمپنی آر ڈبلیو او کا ماننا ہے کہ کوئلہ کی کانوں کے اوپر سے حاصل ہونے والا پانی قدرتی ہوتا ہے اس میں کوئی کیمکل شامل نہیں ہوتا اس لئے یہ نمکین ہوتا ہے زہریلا نہیں۔ اینگرو کی جانب سے اس علاقے میں کئی پانی کے کنوئیں کھودے گئے ہیں جن سے حاصل پانی سے تجرباتی طور پر اس سال پہلی مرتبہ تھر کے علاقے میں کپاس کاشت کی گئی جس کے اچھے نتائج آئے۔ جب کہ مختلف فلاحی تنظیموں اور ایس ای سی ایم سی کی جانب سے تھر میں سیکڑوں پانی کے کنوئیں دوسرے علاقوں میں بھی کھودے گئے ہیں۔ پلانٹ میں کوئلے کو جلانے سے جو راکھ پیدا ہوگی اس کے لئے بھی دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کاروں نے رابطہ کیا ہے جس سے ملک میں زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا اس کوئلے کی راکھ سے دنیا کی بہترین ٹائلز اور اینٹیں بنائی جاتی ہیں جب کہ دیگر اشیا کے بنانے میں بھی استمال کی جاتی ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک بھی کوئلے ہی سے بجلی پیدا کررہے ہیں وہاں بھی ان پلانٹس کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ نہیں ہوا کیوں کہ اس سے پیدا ہونی والی آلودگی کو زیرو فیصد کرنے کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

ان منصوبے کے شروع ہونے میں سب سے اہم سوالات یہ بھی تھے کہ اللہ نے جن تھر کے باسیوں کے قدموں کے نیچے سے کالا سونا نکالا اس معدنی ذخیرہ سے ان کی حالاتِ زندگی میں بھی کوئی تبدیلی آئی گی کہ نہیں۔ اس حوالے سے تھرپارکر میں کئی اقدامات قابل اطمینان نظر آئے اور دلی تسلی بھی ہوئی۔ تھر کول کے مقام پر جو گاؤں آباد تھے انہیں متبادل گھر دینے کا اعلان کیا گیا اس کے لیے ایک ماڈل ولیج بنایا جارہا ہے جب کہ ماڈل ہوم تیار ہوچکا ہے جس کا ڈیزائن مقامی لوگوں کی منشا کے مطابق بنایا گیا ہے جس میں تھر کا ثقافتی چونرا بھی بنایا گیا ہے اس ماڈل ولیج کے ہر گھر کا کل رقبہ 1000 مربع فٹ ہے جو متاثرہ 174 خاندانوں کو دیے جائیں گے یہ گھر خاندان کے ہر شادی شدہ مرد کو دیا جائے گا یعنی اگر وہ پہلے ایک گھر میں چار شادی شدہ افراد رہتے تھے اب چاروں افراد کو نئے گھر دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ متاثرہ خاندانوں کوایک لاکھ تیس ہزار روپے کے شئیر بھی دیے جائیں گے جس میں ہر سال اضافہ بھی ہوگا۔ اس وقت، جاری منصوبے میں 576 مقامی افراد کو مختلف شعبوں میں روزگار دیے گئے ہیں جب کہ 742 افراد کو روزگار کی لئے ٹریننگ دی جارہی ہے۔ جن میں پندرہ خواتین ڈرائیور بھی ہیں۔ منصوبے میں تقریباً 1600 چینی بھی کام کررہے ہیں جن کے تعداد آگے چل کر 25 سو ہوجائے گی۔

تھر کی خوشحالی کے لئے تھر فاونڈیشن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جو تھر کی خوشحالی کے لئے مصروفِ عمل ہے۔ تھر فاؤنڈیشن کے تحت کئی اسکول شروع کیے گئے ہیں 2018 سے مزید اسکولوں میں تعلیم کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس میں 12000 تھر کے بچوں کو داخلہ دیا جائے گا، جب کہ تھر میں بہت سے گاؤں میں کئی ایسے سرکاری اسکول تعمیر ہیں جہاں اسکول کی عمارتیں تو موجود ہیں مگر فنڈز کے نہ ہونے سے تعلیمی سلسلہ شروع نہیں کیا جاسکا، ایس ای سی ایم سی کی جانب سے حکومتِ سندھ کو درخواست کی گئی ہے کہ ایسے تمام اسکولوں کو تھر فاؤنڈیشن گود لینے کو تیار ہے تاکہ بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جاسکیں، اسی طرح دی سیٹیزنز فاؤنڈیشن (ٹی سی ایف) کے تحت اینگرو کے اشتراک سے اسلام کوٹ میں 05 ٹی سی ایف یونٹ زیر تعمیر ہیں جب کہ ایک پرائمری اسکول اگست 2017 سے شروع کردیا گیا ہے۔ اسی طرح ضلع عمر کوٹ میں واقع مشہور قلعہ جو خستہ حالی کا شکار ہے اسے بھی ایس ای سی ایم سی کی جانب سے دوبارہ اس کی اصل شکل میں لانے کا منصوبہ ہے۔
ایس ای سی ایم سی کی جانب سے تھر کے مقامی فنکاروں کو بھی پروموٹ کیا جارہا ہے جس کی تازہ مثال مائی دھائی کی ہے جو کوک اسٹوڈیو تک پہنچی ہیں۔ تھر فاؤنڈیشن کے تحت تھاریو ہا لیپوٹو گاؤں میں ماروی جو کہ تھر کی ایک مشہور لوک داستان عمر و ماروی کا کردار ہے ان کے نام سے ماروی کلینک سن 2015 سے دو شفٹوں میں کام کررہا ہے جس میں 50 او پی ڈی کام کررہی ہیں اور یومیہ علاج معالجے کی سہولیات کے ساتھ میڈیسن بھی فراہم کی جارہی ہے فروری 2017 سے ماروی کلینک کو انڈس اسپتال کے تعاون سے مزید بہتر کیا گیا جس میں 1300 مریضوں کا ماہانہ علاج کیاجاتا ہے جس میں زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ تھر فاؤنڈیشن کے تحت انڈس اسپتال کے تعاون سے ایک 100 بیڈجدید سہولتوں سے آراستہ اسپتال بنایا جارہا ہے۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کسی بھی علاقے کی ترقی میں مقامی لوگوں کا نہایت اہم کردار ہوتا ہے اگر انہیں بنیادی سہولیات میسر ہوں گی تو وہ ملکی ترقی میں اپنا بہتر سے بہتر کردار ادا کرسکیں گے۔ بلاشبہ آج کا تھرپارکر گزرے ہوئے کل کے تھرپارکر سے مختلف اور بہتر نظر آتا ہے، آج تھر پارکر میں کئی جگہ پانی کا ذخیرہ بھی نظر آتا ہے تو تھر کے جانور بھی صحت مند نظر آتے ہیں تھر میں جگہ جگہ ہریالی بھی دکھائی دیتی ہے۔ تھر کول پاور پلانٹ سے 03 جون 2019 کو بجلی کی فراہمی شروع ہوجائے گی اسی کے ساتھ پاور پلانٹ میں لگی دیو ہیکل چمنی دھواں اگلنا شروع کردے گی۔
تھر کے لوگ اس حوالے سے ابھی بھی خوف میں مبتلا ہیں کہ کیا ہوگا کہیں آلودگی مزید بڑھ تو نہیں جائے گی، تھرکول سے جو پانی نکال کر ذخیرہ کیا جارہا ہے اس سے ہمارے پانی کے کنوئیں زہریلے تو نہیں ہوں گے، تھر میں پائے جانے والے نایاب نسل کے پرندے جن میں موروں کو نہایت اہمیت حاصل ہے ان کی ہلاکتیں تو شروع نہیں ہوجائینگی۔ تھری لوگوں کے ان خدشات کو دور کرنے کے لئے ان میں مزیدشعور کی بیداری نہایت ضروری ہے۔ دنیا بھر میں کو ل پاور پلانٹ کی چمنی 110 میٹر تک کی اونچائی کی ہوتی ہے جب کہ تھرکول پاور پلانٹ کی چمنی دنیا کی سب ے اونچی چمنی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی اونچائی اس لئے بڑھائی گئی ہے تاکہ آلودگی زمین کے قریب نہ ہو۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ چمنی چاہے جتنی بلند ہو اس سے نکلنے والے دھوئیں کے اثرات زمین پر ضرور ہوں گے، اس لئے پلانٹ کی چمنی سے نکلنے والے دھوئیں کو زیرو آلودگی پر لانے کی ضرورت ہے جس طرح چین نے تجرباتی طور پر بیجنگ اور دوسرے شہروں میں فضائی آلودگی کھانے والے ٹاور نصب کیے ہیں جو نہ صرف ماحول کو گرد و غبار کو صاف کرتے ہیں بلکہ ان کے فلٹر سے فضائی آلودگی صاف کرنے سے جو کاربن حاصل ہوتا ہے اس سے مختلف زیورات بنائے جارہے ہیں۔

اس دورے کے دوران جہاں بہت سے سوالات کے جواب مجھے مل گئے، وہیں کئی جواب ابھی باقی ہیں جنہیں صرف آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے۔ میں خوش امیدی کا قائل ایک پر امید انسان ہوں۔ دیر آید درست آید اگر کوئی ملک کو خوشحالی کی راہ پر لے کر جاتا ہے تو ہمیں اس کام کی تعریف کرنی چاہیے اور اس کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے تاکہ وہ ملک کے بہترین مفاد میں بخیر خوبی پایہ تکمیل کو پہنچے۔ دوسری صورت میں قلم کی طاقت ہمارے پاس ہے جس طرح آج اچھے کاموں کو یہ قلم سراہ رہا ہے خدانا خواستہ کل وعدہ خلافی یاکسی بھی غلط کام پر یہی قلم ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہوگا۔


