مولوی کا ڈنڈا اور حکمران کا انڈا

کیونکہ مولوی پچھلے چالیس سال سے بے شمار بچوں کو مفت تعلیم، رہائش اور کھانا دے رہا ہے۔ حکمرانوں کی گزشتہ چالیس برس کی تعلیمی کارکردگی پر نمبر دیے جائیں تو انہیں انڈا ملے گا۔ پھر مولوی کا ڈنڈا تو ملے گا انہیں۔ حکمران فرائض ادا نہیں کریں گے تو پھر ان کی جگہ فرائض ادا کرنے والے حکومت کیوں نہیں کریں گے؟
مارچ 2017 میں اسلام آباد میں وزیر داخلہ چوہدری نثار کو پتہ چلا کہ ملک میں دہشت گردی ہو رہی ہے تو ان کے حکم پر فیصلہ ہوا کہ ذرا پتہ تو کیا جائے کہ اسلام آباد میں کتنے مدرسے ہیں اور ان میں کتنے بچے پڑھتے ہیں۔
پتہ چلا کہ اسلام آباد میں 347 مدرسے ہیں اور ان میں سے 205 رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ یہ انکشاف بھی ہوا کہ دار الحکومت میں مدارس کی تعداد سرکاری سکولوں سے زیادہ ہے۔ جی 13 اور جی 14 کے سیکٹروں میں سرکاری سکول ہی نہیں ہیں جبکہ وہاں کئی مدارس قائم کیے جا چکے ہیں۔
ان مدارس میں سب سے زیادہ دیوبندی مدرسے ہیں، پھر بریلوی، پھر اہل حدیث اور پھر شیعہ۔ ان میں پچیس ہزار طلبہ پڑھتے ہیں جن میں سے بارہ ہزار کا تعلق اسلام آباد سے ہے اور بقیہ دوسرے علاقوں سے آئے ہیں۔ 2015 کی ایک دوسری رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں پینتیس ہزار سے زائد مدارس ہیں جن میں پینتیس لاکھ سے زیادہ بچے پڑھتے ہیں۔ ان مدارس کی اکثریت رجسٹر شدہ نہیں ہے۔
1980 کی دہائی میں ہم مڈل تک پنجاب یونیورسٹی کے لیبارٹری سکول میں پڑھے تھے جہاں یونیورسٹی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس سے لے کر مالی تک کے بچے پڑھتے تھے، اور نویں میں ایک سرکاری سکول میں چلے گئے تھے جہاں پنجاب کے سیکرٹری تعلیم کا بچہ بھی ہمارے ساتھ پڑھتا تھا اور چپڑاسی کا بھی۔ آج ہمارے گھر میں کام کرنے والی ماسی بھی اپنا بچہ پرائیویٹ سکول میں بھیجتی ہے۔
آج سے تیس سال پہلے اچھے بھلے کھاتے پیتے گھروں کے بچے سرکاری سکول کالج میں پڑھتے تھے۔ اب ایسا کیوں نہیں ہے؟ وجہ یہ ہے کہ حکومت نے تعلیم کو نظرانداز کر دیا ہے۔ سرکاری سکولوں کا ایسا حال ہو چکا ہے کہ ان پر اعتبار کرنے کو کوئی تیار نہیں ہے۔ جبکہ مدرسوں پر ہمارے عوام کا اعتبار قائم ہے۔ امیر اس لئے اپنے بچے وہاں بھیجتے ہیں کہ ادھر ان بچوں کے وسیلے ان کو بغیر محنت جنت ملے گی، اور غریب اس لئے بھیجتے ہیں کہ اسے روٹی کپڑا تو ملے گا، ساتھ تعلیم بھی ہو گی اور وہ والدین کی بخشش کا سبب بھی بنیں گے۔
سوال یہ ہے کہ حکومت وہ کام کیوں نہیں کر رہی ہے جو مولوی کر رہا ہے؟ حکومت غریب بچوں کو مفت کھانا، تعلیم اور ممکنہ طور پر رہائش کیوں نہیں دے رہی ہے؟ کیا بے تحاشا بجٹ والے دانش سکول میں چند سو بچوں کو پڑھانے سے بہتر یہ نہیں تھا کہ ملک بھر میں مدرسے کے ماڈل پر سرکاری سکول کھولے جاتے جو غریب بچوں کو رہائش اور کھانا بھِی دیتے اور تعلیم بھی۔ کیا عام سرکاری سکولوں کا معیار بحال کرنے پر حکومت نے کوئی توجہ دی ہے یا وہ تعلیم کے شعبے سے اپنی جان چھڑانے پر کمربستہ ہے؟
ملک کا آئین یہ لازم قرار دیتا ہے کہ ریاست پانچ سے لے کر سولہ برس تک کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی۔ ریاست یہ نہیں کر رہی ہے۔ مولوی یہ کر رہا ہے۔ پھر آئین تو مولوی کا چلے گا اور ڈنڈا بھی مولوی کا ہی چلے گا۔ اور وہ فیض آباد چوک پر ریاست کو اسی طرح مرغا بنائے گا جس طرح بھلے وقتوں کے سرکاری سکولوں میں ہم اور تم بنا کرتے تھے۔


