بلیک فرائیڈے، ویلنٹائن ڈے اور نیو ائیر


کیا بلیک فرائیڈے کے خلاف سوشل میڈیا پر بائیکاٹ اور اس دن کے خلاف مہم چلانے اور لوگوں کے مذہبی جذبات ابھارنے سے یہ طوفان تھم جائے گا؟ کیا مسلمانوں کا اسی موقع پر سستی سیل لگا کر انہیں الگ نام، وائٹ فرائیڈے یا بلیسڈ فرائیڈے دینے سے لفظ بلیک فرائیڈے ختم ہو جائے گا؟

ان سوالات کے جوابات کچھ دیگر اسی طرح کے ملتے جلتے غیر اخلاقی اور غیر مہذب تہواروں کے آنکھوں دیکھے حال اور ان کی روک تھام کی تدابیر اور ان کی ناکامی کا جائزہ لینے سے دیتے ہیں۔

ویلنٹائن ڈے مسلمانوں میں پروان چڑھ رہا ہے اور سب سے زیادہ مایوس کن بات یہ ہے کہ جتنی اس تہوار کی مذمت کی جا رہی ہے، اس کے غیر شرعی اور اخلاق سوز ہونے کی بات کی جاتی ہے، اس کے معاشرے پر برے اثرات کا ذکر کیا جاتا ہے، اس کے برعکس امت مسلمہ میں یہ تہوار جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے۔ مسلمان نوجوان لڑکے لڑکیاں جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ اس تہوار کے خلاف مہم اس کی تشہیر کا کام کر رہی ہے۔ ریڈیو، ٹیلی وژن کے زمانے میں بہت کم لوگ اس نام اور کام سے آگاہ تھے، موبائل فون نے اس تہوار کو پروموٹ کرنے میں کافی مدد دی اور اب انٹرنیٹ کی برکت نے تو اس ہر شخص تک پہنچا دیا۔ اور اب پاکستان کے مغرب نواز دانشور اس دن کا بھر پور دفاع کرتے ہیں۔ کچھ بلند ہمت مذہبی طبقے نے اس دن کی روک تھام کے لئے اس کے مقابل حیا ڈے منانے کا حل نکالا اور حکومتی مشینری کو استعمال کرکے اس دن کو منانے پر پابندیاں عائد کرنے کی بھی کوشش کی گئی مگر بے سود۔ یہ گلوبلائزیشن کے طفیل یا آگ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

اس کے بعد آئیے جائزہ لیتے ہیں ایک اور تہوار کا جو مسلمانوں میں ترقی کی راہوں پر رواں دواں ہے، وہ ہے نیو ائیر نائٹ۔ اس نئے سال کی رات مغربی دنیا میں جو اخلاق اور حیا سوز اعمال ہوتے ہیں وہ قلم کی زبان بیان نہیں کرسکتی۔ مسلمان دنیا کو اپنے اخلاق سے ہر چند متاثر کرنے والے غیر مسلموں کا یہ غیر اخلاقی پہلو نہ جانے کیوں مسلمانوں کو نظر نہیں آتا۔ پاکستان میں اس سال یہ تہوار لاکھوں لوگوں نے منایا اور خوب آتش بازی بھی ہوئی اور میوزیکل کنسرٹس بھی ہوئے، آیندہ سال تعداد دگنی سے بھی بڑھ جائے گی اور پھر وہ وقت دور نہیں کہ دیگر غیر اخلاقیات بھی عمل کا روپ دھار لیں گی۔ اس طوفان کو روکنے کے لئے جو حربے بھی استعمال کریں ان کا کوئی فائدہ نہیں۔

اب آتے ہیں بلیک فرائیڈے کے موضوع پر کیا اس دن کی مخالفت کرنے سے اور اس دن کو منا کر یعنی سستی سیلز لگا کر اپنا مال بیچ کر اس کالے جمعہ کا نام ختم ہو جائے گا؟ گزشتہ دو تجربات کی روشنی میں اس کا جواب نفی میں آتا ہے۔ اس سال زرا کم لوگوں کو علم تھا آیندہ سال اس نام کے آشنا دُگنا ہوجائیں گے اور اسی طرح یہ تعداد بڑھتی جائے گی اور مسلمان بے بس ہو کر چپ کر جائیں گے۔

اگر اس مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو دنیا کے مسلمانوں کو مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا۔ اب دنیا کے حالات بدل رہے ہیں، گلوبلائزیشن مسلمانوں کی اسلامی ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کر رہی تھی۔ اور یہ بات حیران کن ہے کہ اس گلوبل ویلج میں صرف غیر مسلم ثقافت مسلم دنیا پر کیوں غلبہ پا رہی ہے، کیوں مسلمان لباس، رہن سہن اور دیگر طرائق زندگی مغرب سے نقل کر رہے ہیں اور مسلمان نہ چاہتے ہوئے بھی اس تہذیب کے آگے ہتھیار ڈال رہے ہیں؟ اور وقت کے ساتھ ساتھ مسلمان صرف نام تک محدود رہنے لگا ہے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ تو مسلمانوں کی تعداد میں کمی ہے، عیسائیت دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ پھر ظاہر سی بات ہے جب لوگوں میں انٹرنیٹ کی وجہ سے فاصلے کم پڑ گئے ہیں تو عیسائیت کی کچھ قدریں جو مذہب سے تھوڑی دور ہیں وہ دیگر دنیا پر اثرات غالب رکھیں گی۔ دوسری بات یہودیت کی کی جائے تو تعداد کے لحاظ سے وہ کم ہیں مگر وسائل کے لحاظ سے خاصے مضبوط ہیں۔ دنیا کی معیشت پر ان کا قبضہ ہے، بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں ان کی ملکیت ہیں اور عیسائیت کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات بھی ہیں۔ دنیا کے سرکردہ ممالک کی سیاست میں ان کی براہ راست دخل اندازی ہے اور اپنی مرضی سے حکومتوں کو استعمال کرتے ہیں۔

ان حقائق کو سامنے رکھ کر مسلم دنیا کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ اپنی تہذیب کو کیسے دوام بخشیں، کیا اقدامات اٹھائیں جن سے اسلامی تہذیب کے لیے خطرات کم ہوں۔ مسلم دنیا اپنے اعمال اور معاملات پر نظرثانی کرے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے کچھ ریلیف دے۔ ہمارے پاس تو سال میں دو عیدیں ہیں اور ایک رمضان۔ اگر مسلمان ان مواقع پر خندہ دلی کا مظاہرہ کریں اور تمام مسلم اور غیر مسلم لوگوں کو ریلیف دیں تو اس سے ایک تو مذہبی ثقافت باقی دنیا پر اچھے اثرات ڈالے گی اور دوسرا مالی منافع بھی حاصل ہو گا۔

الغرض اگر مسلمانوں نے اپنی اسلامی ثقافت کو دوام دینا تو بجائے مغربی تہذیب پر لعن طعن کے، اپنا محاسبہ کرنا ہو گا اور سوئے ہوئے مسلمان کو جگانا ہوگا ورنہ مسلمان صرف نام کا رہ جائے گا اور داستاں بھی نہ ہو گی دنیا کی داستانوں میں۔

Facebook Comments HS