جوزف یہیں پہ ہے
میں یہ ہر گز نہیں بتا سکتی کہ آخر مجھے مارتھا سے اتنا قلبی لگاؤکیوں تھا؟ وہ جو کہتے ہیں نا کہ
’’ لو ایٹ فرسٹ سائییٹ ‘‘۔ Love at the first sight
تو شاید کچھ ایسی ہی بات رہی ہو۔ پر یہ مرد اور عورت والا جذباتی پیار تو ظاہر ہے نہیں تھا۔ اور نہ ہی ہم جنس پرستی کی کوئی مثال کہ بتیس سال کی عمر میں پچاسی سالہ مارتھا نے میرا دل قابو کر لیا ہو۔ ایسا کچھ ہر گز نہیں تھا میری مارتھا سے ملاقات پہلی بار پرسنلائیزڈ نرسنگ کئیر فار اڈیلٹس میں نوکری کے دوران ہوئی۔ جہاں یہ پہلے دن سے جن چار بزرگوں کی خبر گیری بطورِ خاص، نرسنگ ایڈ کی حیثیت سے میری ذمہ داری تھی اس میں سے ایک مارتھا بھی تھی۔ نیلی آنکھوں، گوری رنگت، کھڑا کھڑا نقشہ اور دبلی پتلی یورپین نژاد مارتھا ۔
اب بھلا میں امریکہ میں اپنی ابتدائی ملازمت کا پہلا دن کیسے بھلا سکتی ہوں؟ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نو بجنے میں پانچ سات منٹ رہے ہوں گے۔ جب میں ایک میل دور اپنے گھر سے پیدل چل کر ہانپتی کانپتی ایک سو دس معمر ( سنٹر )افراد پر مشتمل نرسنگ ہوم میں داخل ہوئی۔ ۔ ۔ کچھ خوفزدہ، کچھ جھجکتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متمول علاقے میں امیر گھرانے کے بزرگوں کی خبر گیری کا یہ ادارہ شہ کے عین وسط میں کچھ اونچائی پہ واقع نمایاں سی عمارت ہے۔ ۔ ۔ خوبصورت قدرتی سبزے کے قالین پہ کھڑی چاروں جانب سے کرسمس ٹریز سے گھری دودھیا رنگ کی باوقار عمارت۔ ۔ ۔ جس کے گہرے ہرے رنگ کے دروازے سے اگر آپ اندر داخل ہوں تو پہلے ایک درمیانہ سائیز کی بیٹھک ( آرام گاہ ) ملے گی جس کی عقبی دیوار پہ حضرت عیسی ؑ کے مصلوب ہونے کی علامت ایک صلیب کا نشان۔
اور عین اس صلیب کے نیچے ماں مریم ؑ کے سینے سے لگے بیٹے عیسی ؑ کی شبیہ۔ بیٹھک کے دونوں جانب لگے خوبصورت صوفے اور درمیان میں میچنگ میز کہ جس پر کچھ تازہ اور کچھ باسی رسائل سلیقے سے رکھے ہوئے۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے ان رنگین رسائیل کوچھونے کی کسی نے زحمت نہیں کی۔ ۔ ۔ کہ یہاں رہنے والوں کو ہوش نہیں اور کبھی کبھار آنے والوں کو فرصت نہیں۔ صوفوں کے دونوں جانب اونچے اونچے سنہری گلدانوں میں سجے میچنگ مصنوعی پھول بھی آنے والوں کو متاثر کرنے کی ایک کوشش ہی سمجھیں۔ لیکن جو سجاوٹ درحقیقت سب سے زیادہ متاثر کن اور خوبصورت قرار پائے گی۔ وہ ان گلدانوں کے عین وسط میں دیوار سے تقریبا جڑا شیشے کا ایک ایکوریم ہے کہ جس میں گو مصنوعی طور پر پہ سبز فضا کو سجایا گیا ہے۔ مگر اس میں بے شمار، رنگ برنگی بے چینی سے، ادھر ادھر تیرتی، توانائی سے رقصاں، ایک دوسرے کی سنگت میں شادان خوبصورت مچھلیاں ہیں کہ جو آپ کو زندگی سے پیار کرنے پہ اکسائیں۔ یہی گوشہ ہے جو زندگی کی رمق پیدا کرتا ہے۔ اس بیٹھک سے اندر ہال میں داخل ہونے کے لئے آپ ایک قدرے چھوٹے دروازے کی نوب knob کو گھما کر داخل ہی ہوں تو ایک ہلکی سی ناخوشگوار سی مہک آپ کا استقبال کرتی ہے۔ جو بوڑھے بے بس جسموں سے اٹھنے والی وہ لپٹیں ہیں جن کو معطر پرفیوم بھی زیر کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ جیسے ننھے بچوں کے پاس سے آنے والی خوشبوئیں جو آپ کو انہیں پیار کرنے پہ خوامخواہ ہی راغب کرتی ہیں۔ اسی طرح پیشاب پیخانے پہ اختیار نہ ہونے کے باعث۔ ڈائیپر پر رہنے والے بزرگ آپ کو دور کر دیتے ہیں۔ پیرانہ سالی جہاں جسم کی بوڑھی چرمرائی کھال کے بیچ تجربہ اور دانشمندی کو سمیٹتی ہے تو بے بسی اور مجبوری کا توشہ بھی تو لاتی ہے۔
لمبے ہال میں بچھے صوفوں اور آرام دہ کرسیوں پہ بیٹھے کچھ سوئے کچھ جاگتے جسم۔ جیسے مٹی کے تودے۔ پتھرائی آنکھوں سے ٹی وی کو تکتے یا ننگے فرش کو گھورتے۔ ۔ ۔ ۔ عمر کے اس موڑ پہ زندگی کی لایعنیت سے بیزار اور بے بس۔ ۔ ۔ بس ایسے ہی ایک دن میں نے نوکری کی ابتدا کی تھی۔
نو بجے کا وقت جب سارے بزرگ ناشتہ کے بعد گویا ٹی وی کے بیہودہ ٹاک شوز دیکھنے کی سزا بھگت رہے ہوں۔ بالکل چپ کچھ آنکھیں موندے اور کچھ کھلی آنکھوں کے ساتھ کچھ بھی نہ دیکھتے ہوئے سناٹے میں گم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے میں اگر کوئی بار بار آپ سے مخاطب ہو تو آپ کا دھیان اس کیجانب جانا تو لازم ہے نا! ۔ ۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں مارتھا کی جانب راغب ہوئی اپنی گڑیا سے کھیلتے کھیلتے مارتھا نے میری جانب نظر کی۔
میری نئی انجان شکل اور مٹیالی رنگت دیکھ کر اس نے منہ بھی نہیں بنایا۔ بس اپنا جان کر شکایت کی۔ ’’سسٹر ان لوگوں نے مجھے کچھ کھانے کو نہیں دیا۔ ۔ ۔ آج میں اگر اپنے گھر میں ہوتی تو کاہے کو میرے ساتھ یہ سلوک ہوتا۔ ۔ ۔ ۔ میں صبح سے بھوکی ہوں مجھے کسی نے ناشتہ کو نہیں پوچھا۔ ‘‘
مارتھا کے لہجے میں چھپے دکھ، شکایت اور بے بسی سے مجھے لگا کہ جیسے میرا دل سینہ سے نکل پڑے گا۔ ۔ ’’ حد ہوتی ہے بے حسی کی۔ ۔ ۔ ‘‘ اس بے دھیانی کا جواز اس کے علاوہ میرے ذھن میں کچھ نہ آیا کہ اس مادہ پرست دنیا میں سب کچھ ہی ممکن ہے۔ جب خود اولادیں اپنے والدین کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کے جا سکتی ہیں۔ تو یہاں کام کرنے والے کونسے سگے ہیں؟ میں دل ہی دل میں جی بھر کے فنا ہو رہی تھی۔ ۔ اسی عالم میں جب کچن کی انچارج سے یہ صورتحال بیان کی تو وہ ہنس پڑی۔
’’ ایسا نہیں ہے۔ ۔ مارتھا بھول جاتی ہے۔ ۔ اس نے کھانا کھایا یا نہیں، کپڑے بدلے یا دنوں سے یہی پہنے ہوئے ہیں۔ ‘‘
’’ یہی تو وہ کہہ رہی تھی کل مجھ سے کہ دس دن ہوگئے نہ میں نے شاور لیا اور نہ ہی کسی نے میرے کپڑے بدلے۔ ‘‘
’’ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ ۔ ‘‘۔ پھر اس نے سنجیدگی سے کہا۔ ’’تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مارتھا کو الزائمیر کا مرض ہے۔ ۔ آجکل اس کا زور گڑیا کھیلنے پہ ہے۔ ۔ وہ اس کی ماں کا رول پلے کرتی ہے۔ سینے سے لگاتی اور پیار کرتی ہے۔ ۔ لگتا ہے وہ ماضی میں چلی گئی ہے۔ جب اس نے خود اپنی اولاد پالی تھی۔ ‘‘
میری آنکھیں بھر آئیں۔ اپنوں سے دوری، حالات کی سردمہری، جسمانی کمزوری، بے بسی اور بتدریج یاداشت کا کھونا، بڑھاپے کے کھیل بھی عجب دردناک ہیں۔ میں نے دور کرسی پہ بیٹھی مارتھا کو ماؤں جیسی شفقت سے دیکھا۔ جو ایک بڑے سائز کی فنکارانہ مہارت سے بنی افریقن نژاد گڑیا کے بال اپنی انگلیوں سے سنوار رہی تھی۔ ’’ وہ دلربائی کے اس مقام پہ تھی کہ جب انسانی جب انسان رنگ و نسل کی قیود سے آزاد ہو جاتا ہے۔ تو کیا دنیا میں انسانوں کے درمیان امن کے لئے دلوں کو اتنا ہی بے نیاز ہونا پڑے گا؟ ‘‘۔ میں نے سوچا
مارتھا سے میری محبت یک طرفہ نہیں تھی۔ اس کا رویہ بھی مجھ سے خاص اپنائیت کا تھا۔ وہ مجھے دور سے ہی دیکھ کر آواز لگاتی تھی۔ ’’ سسٹر میں یہاں ہوں۔ ‘‘ دیارِ غیر میں کوئی اس طرح اپنائے۔ چاہے وہ الزائمیر کا مریض ہی کیوں نہ ہو آپ سب بھول کر اسے چاہنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ ادارہ میں کام کرنے والی ایک پرانی نرس نے بتایا کہ مارتھا کے شوھر کا پانچ سال قبل انتقال ہوا تھا۔ جس کے بعد ہی اس کا اکلوتا بیٹا اسے اس نرسنگ ہوم میں داخل کر گیا۔ بیماری کوئی نہیں بس تنہائی اور اس سے وابستہ ڈیپریشن۔
بیٹا شروع میں تو کبھی کبھار آ جاتا تھا۔ پھر اسٹیٹ بدل لی تو کبھی کبھار کارڈ آ جاتے تھے۔ کبھی سالگرہ، مڈر ڈے اور کرسمس، شروع میں مارتھا یاد کرتی تھی پھر وہ جیسے بھول بھال سی گئی۔ لیکن اگر اسے کچھ شکایات ہوتیں تو اکثر نرسوں سے کہتی، ، جوزف آئے گا تو وہ ساری شکایتیں کرے گی ان لوگوں کی جو اسے تنگ کرتے ہیں۔ اسے یقین تھا کہ جوزف آئے گا۔ کب اس کو اس کا پتہ نہیں تھا۔ پچھلی کرسمس پر تو اس کا کارڈ بھی نہیں آیا تھا۔ پرانی نرس نے یہ سب بتا کر میری وطن دوری کے زخم کو ہرا کر دیا۔
میری نوکری کرسمس سے تین ہفتہ قبل ہی ہوئی تھی۔ کسی ادارے بلکہ امریکہ میں کرسمس کی رونق اور اہتمام کا میرا پہلا تجربہ تھا۔ پوری عمارت میں رنگ امڈ آئے تھے۔ دھنک کے رنگ۔ ۔ گہما گہمی۔ ۔ ۔ طرح طرح کے کھانے۔ ۔ تحفہ تحائف اور کرسمس کے گانے۔ کرسمس کی شام میرے لئے متحیر کن تھی کہ جب بھول جانے والی اولادیں ڈھیروں تحائف لے کر اپنی کمسن اولادوں یا پوتے پوتیوں کی انگلیاں پکڑے ان بزرگوں سے ملوانے آ رہے تھے۔ کچھ تو انہیں اپنے ساتھ بھی لے گئے۔ محض چند ہی ایسے تھے کہ جن سے ملنے کوئی بھی نہیں پہنچا تھا۔ ان میں مارتھا بھی ایک تھی۔ میری چھٹی کا وقت ہونے میں ابھی پندرہ منٹ باقی ہوں گے۔ میں مارتھا کے کمرے میں گئی دیوار پر لگی ڈھیروں تصویریں اور دیوار سے لگی مسہری پہ بیٹھی مارتھا اپنی سیاہ فام گڑیا سے کھیل رہی تھی۔ تصویریں مارتھا کی نوجوانی کی تھیں۔ خوبصورت کسا جسم، ہنستی مسکراتی نیلی آنکھیں، سر پہ ماڈرن ہیٹ لگائے، پھر کسی تصویر میں رومانوی انداز میں اپنے شوہر سے پیار کرتے ہوئے۔ تو کسی تصویر میں اپنے بچے کو سینے سے چمٹائے تو کبھی گالوں کو چومتی ہوئی تصویریں۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے گڑیا کو ایک طرف رکھا اور تکیہ کو سر پہ اٹھا کر کہنے لگی۔
“ Sister can you take me to my home please؟ ”
’’سسٹر کیا تم مجھے میرے گھر لے چلو گی پلیز؟ ‘‘یہ کہتے ہوئے وہ میرے کمرے سے باہر نکلنے لگی۔
’’ پلیز مارتھا رکو میں ابھی کہیں نہیں جا رہی ہوں تمہیں لے کر۔ ۔ ۔ یہیں بیٹھو میں جانے سے پہلے تمہارا چارٹ دیکھنے آئی تھی۔ تم بہت اچھا کر رہی ہو۔ ہر چیز بالکل ٹھیک ہے۔ ‘‘ میں نے مارتھا کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ مجھے صدمہ ہو رہا تھا کہ آج کرسمس کے وقت اس کو پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔ لیکن ساتھ اس بات کی خوشی بھی کہ اس کا مرض الزائمیر ہے۔ پچھلی یادوں میں کبھی جاتی ہے تو واپس بھی آ جاتی ہے۔
ماضی کی اس شاہراہ پہ آخر ہے بھی کون جو اس کا ہاتھ پکڑے اور پرانے خوشگوار وقت کی حسین وادی کی سیر کرائے۔ جب وہ پریوں کی طرح حسین تھی۔ کسی کی بیوی تو کسی کی ماں تھی۔ کسی کے گلے سے لپٹی محبوبہ تو کسی کو سینے سے چمٹائے مامتا کی گرمی دینے والی ماں۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ کاش جوزف آ جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھولا بھٹکا ہی سہی۔ کچھ اور نہیں تو فون ہی کر لے۔ کارڈ تو بھیجا نہیں۔ آج جبکہ تقریبا تمام ہی مٹی کے مادھو جسموں میں زندگی کی رمق پڑ گئی ہے۔ کرسمس کی رونق اور خوشی دوبالا ہو گئی ہے۔ ۔ مجھے بھی زندگی کو محسوس کرنے کے لئے ایکیوریم کے قریب جانے کی ضرورت نہیں محسوس ہو رہی تھی۔ ہال میں سجا قدِ آدم کرسمس ٹری اور اس پر پڑے برقی تاروں میں جھلملاتی مختلف رنگوں کی بتیوں کی شریر آنکھ مچولی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ درخت کے قدموں پہ پڑے کچھ عیاں کچھ نہاں رنگین پنیوں میں لپیٹے ڈھیروں تحائف اور ان سب رونقوں اور گہما گہمی کے بیچ سر پہ سفید تکیہ اٹھائے گڑگڑاتی مارتھا۔ ۔
“ Sister can you take me to my home please؟ ”
کیاتم مجھے گھر لے جا سکتی ہو سسٹر؟
مجھے لگا کہ یہ تکیہ اس کا توشہ ہے۔ اس کی ساری عمر کی کمائی۔ ۔ یہ ساری گہما گہمی ایک طرف اور مارتھا کا توشہ ایک طرف۔ ۔ وہ سبھوں سے فرارچاہ رہی تھی۔ اپنی سکون کی خالی دنیا میں منہ دینے کے لئے۔
’’پلیز مارتھا کمرے میں چلو۔ میرے جانے کا وقت آ گیا ہے۔ ۔ ‘‘ میں گڑگڑائی مگر وہ تکیہ سر پر اٹھائے کوریڈور میں گویا بھاگ رہی تھی۔ مارتھا میری ذمہ داری تھی اور میرے جانے کا وقت ہونے کو تھا۔ ۔ ۔ میری الجھن اور بے چینی کے درمیان اچانک کچھ ساکت لمحے گویا ٹوٹ پڑے۔ جس کو مارتھا کی آواز نے توڑا۔ ۔ سسٹر جوزف یہیں پر ہے۔ ۔ مارتھا نے اس جملے کو تین بار دھرایا جیسے اسے یقین ہو کہ اس کا بیٹا یہیں ہے۔ بلکہ جیسے کبھی گیا ہی نہیں تھا۔ میری الجھن میں بے بسی تھی اور آنکھوں میں نمی۔
’’میں نے کسی مرد کو آتے نہیں دیکھا، بھلا مارتھا کو جوزف کا شبہ کس پر ہوا؟ ۔ ۔ او کے مارتھا اگر وہ ہو گا تو فورا آ جائے گا پلیز اپنے کمرے میں چلو۔ ۔ ‘‘
مارتھا نے میری التجا سنی ان سنی کر دی۔ میں نے جوزف کی آواز سنی ہے۔ وہ یہیں پہ ہے۔ ۔ ہاں، جوزف یہیں پہ ہے
اس کی آواز میں یقین تھا پکار تھی۔ ’’جوزف جوزف تمہاری ماں یہاں ہے میرے بیٹے۔ ‘‘
مارتھا کی آواز کے اصرار پہ میرے کان کھڑے ہوئے۔ کوریڈور میں واقعی ایک مرد کسی نرس سے بات کر تھا۔ آواز میرے لئے دھیمی تھی تو مارتھا کے کان کس طرح سن سکتے ہیں؟
میں نے سوچا اور بے یقینی سے مارتھا کی جانب دیکھا۔ اس کی آواز میں بے چینی یقین اور محبت رقصاں تھی۔ وہ جوزف کو ایسے پکاررہی تھی جیسے وہ چار سالہ بچہ ہو جو بھرے میلے میں کہیں کھو گیا ہو اور رو رہا ہو۔ میری ماں کہاں ہے؟
’’میں یہاں ہوں جوزف۔ ۔ ‘‘ مارتھا کی آواز سے مجھے ایکوریم کی رنگین، بے چین مچھلیاں یاد آ گئیں۔ ۔ ۔ ۔ ایک دوسرے کی سنگت میں شادماں رقص کرتی مچھلیاں پھر میں نے سنا مردانہ قدموں کی چاپ مارتھا کے کمرہ نمبر 91 کی جانب بڑھ رہی تھی۔
’’ تو کیا واقعی جوزف یہیں پہ ہے؟ ‘‘ میں نے خود سے پوچھا۔
’’ ہاں جوزف یہیں ہے۔ ۔ ۔ ‘‘ مارتھا نے گویا میرے سوال کو پڑھ لیا۔ کچھ لمحوں میں دو جسموں کا ملاپ ایک معجزے کی طرح میرے سامنے واقع ہو رہا تھا۔ ۔ ماں مریم ؑ کا بیٹے عیسی ؑ سے ملن۔
مارتھا کی جوزف سے جدائی کی لمبی رات ڈھل چکی تھی۔ کرسمس ٹری کی جھلملاتی بتیاں کچھ اور شریر لگ رہی تھیں۔ کرسمس کے گانوں کی ترنگ کچھ اور بڑھ گئی تھی۔ میں نے گھڑیال کی جانب دیکھا عیسی ؑ کی پیدائش کی صبح قریب تھی۔ اور میرے رخصت ہونے کا وقت بھی آن پہنچا تھا۔ بہتے آنسوؤں کی لکیر سے مجھے اپنے چار ماہ کے بچے کا خیال آیا۔ اور یہ احساس ہوا کہ وہ بھوکا ہے بہت بھوکا۔ ۔ میرے جسم سے مامتا کے دھارے پھوٹ رہے تھے۔ اور میں دیوانہ وار گھر کی جانب دوڑ رہی تھی۔ ۔ بیٹے سے ملن کو۔۔۔



