گینگ ریپ کا مختصر افسانہ


ایک رات اس کے گھر سے چیخوں کی آوازیں آتی رہیں تو ہمسائے خوفزدہ ہو گئے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ عورت اس گھر میں کئی برسوں سے اکیلی رہ رہی تھی۔ ہمسایوں نے رات کی تاریکی میں کئی نقاب پوشوں کو فرار ہوتے دیکھا۔ جب ہمسائے اس کے گھر میں گھسے تو وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا تو اس کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ ڈاکٹروں نے معانئے کے بعد تشخیص کی کہ اس کے ساتھ کئی مردوں نے زنا بالجبر کیا تھا۔ اس حادثے کے بعد باضمیر جرنلسٹوں نے تحقیق کرنی شروع کی کہ مجرم کون تھے۔ ان کی تحقیق سے پتہ چلا کہ مجرم چار تھے

یہ سب وہ لوگ تھے جو اس خاتون کو کافی عرصے سے خفیہ پیغامات بھیج رہے تھے۔

ایک لمبی داڑھی اور اونچے پاجامے والا مولوی تھا جو اس سے نکاح کر کے دوبارہ مشرف با اسلام کرنا چاہتا تھا

ایک باوردی فوجی تھا جو اسے جرنیل کی بیوی بننے کے خواب دکھاتا رہتا تھا

ایک سیاستدان تھا جو اسے اگلے الیکشن میں وزیر بنانے کے منصوبے بتاتا تھا

ایک جج تھا جو اسے اس کے حقوق کے تحفظ کی آس دلاتا تھا

ایک طویل عرصے کے بعد جب وہ ہوش میں آئی اور نرس نے اس کا نام پوچھا تو اس نے کہا ’جمہوریت‘۔ جب اسے احساس ہوا کہ وہ ہوس پرستوں میں گھری ہوئی ہے اور یقین ہو گیا کہ وہ ایک باعزت زندگی نہیں گزار سکتی تو اس نے اسی میں بہتری سمجھی کہ وہ چپکے سے خود کشی کر لے۔

اس کی لاش پر خاموشی سے آنسو بہانے والوں میں کچھ اجنبی مرد اور عورتیں بھی تھے۔ جب ہمسایوں نے پوچھا کہ وہ کون ہیں تو وہ کہنے لگے ’ہم دیارِ غیر میں جا بسے تھے۔ ہم اپنی دھرتی ماں کی یاد میں بڑے عرصے کے بعد دکھی دل سے لوٹے ہیں۔‘

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail