میڈیا میں خواتین سے خوف کیوں؟

میڈیا میں خواتین محنتی ہیں۔ شوق سے کام کرتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ میڈیا میں خاتون سینیئر پروڈیوسر۔ سینیئر اسائنمٹ ایڈیٹر اور ایک آدھ بیوروچیف خاتون کے علاوہ کوئی پوزیشن بنی ہی نہیں۔ کیوں خاتون میڈیا پرسن کنٹرولر نیوز نہیں ہو سکتی یا ڈائریکٹر نیوز؟ میں نے میڈیا میں ایسے ایسے نا اہل ڈائریکٹر نیوز دیکھے ہیں کہ سوچ دنگ رہ جاتی ہے کہ یہ ڈائریکٹر ہے۔ اب تو کوئی بھی منہ اٹھا کر ڈائریکٹر اور کنٹرولر بنا ہوا ہے۔
جن کی اپنے گھر میں بھی اہمیت نہیں ہوتی وہ نیوز ڈائریکٹر بنے ہوئے ہیں اور پھر اس کے نیچے رکھے گئے ان کے اپنے لوگ۔ جن کو رکھتے ہوئے یہ سوچا بھی نہیں جاتا کہ نوکری اور کام میں فرق ہوتا ہے۔ یہ نوکریاں کروانے کے لئے کیوں فوج جمع کر لیتے ہیں۔ سینیئرز کو علم ہوتا ہے کہ کس کے پاس کتنا علم ہے اور کون کتنا محنتی ہے لیکن اپنی نوکری اور عزت نفس بچانے کی خاطر کبھی خاتون کا نام مینجمنٹ کو نہیں بتایا جاتا کہ اس کو ترقی دیں اس کا حق بنتا ہے اور جب اپنے سینیئرز سے کہا جاتا ہے کہ سر ہماری ترقی کی بھی بات کریں تو اپنی نوکری بچانے کی خاطر کہتے ہیں اپ اتنی محنتی ہیں ترقی چاہیے تو کہیں اور جاب ڈھونڈیں یہاں کوئی چانس نہیں۔
اس طرح منافقت بڑھ جاتی ہے اور خاتون صرف ہنستی ہے کہ چور کی داڑھی میں تنکا۔ کام کی بات آئے تو کہا جاتا ہے میڈیا ہے عورت اور مرد میں کوئی فرق نہیں۔ شفٹ کی بات آئے تو میڈیا میں تو خواتین شام کی شفٹ بھی کرتی ہیں اور کئی چینلز میں تو رات کی شفٹ بھی کرتی ہیں۔ اور پھر خواتین ایسے مردوں کے لئے سوچتی ہیں کہ بھئی آپ صرف یہاں افسر ہی لگے ہوئے ہیں یا خود کوئی کام بھی کریں گے۔ یا مکھن لگانے کا ہنر ہمیں بھی دے دیں تاکہ ہم بھی صرف باس باس کہہ کر نوکری کر لیا کریں کام کا کیا ہے ٹی وی تو چل ہی جاتا ہے۔
اسکرین ایک دفعہ آن ائیر آ جائے تو پھر اسے پیمرا کے علاوہ کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن ان کو شرم بھی نہیں آتی کہ مقابلہ بھی کرتے ہیں تو خواتین کے ساتھ بھئی کیوں اپنی نالائقی ظاہر کرتے ہیں خواتین کے سامنے۔ خواتین ایسے مردوں کی اوقات جانتی ہیں نہیں بولتیں تو اپنی عزت کو نہیں بولتیں۔ میں خود میڈیا کا حصہ ہوں اور میرا دل کرتا ہے کہ میڈیا ترقی کرے اور ساتھ میں کند ذہن لوگ جو میڈیا میں ہیں ان کے دماغ بھی ترقی کریں۔ اور وہ خواتین کو عزت دینا سیکھیں۔ اب اپنا ذہن بنا لیں کہ خواتین کسی صورت پیچھے نہیں ہیں تو ان کی ترقی کا راستہ اپ جتنا روکیں گے وہ اللہ کی ذات اور محنت اس کو اتنی ترقی دے گی۔ اب دیکھنا ہے یہ کہانی ختم ہو گی یا نہیں ہو گی یا میڈیا میں خواتین کا مقابلہ کرنے والے لوگ اپنا ذہن بدلیں گے یا اسی آزادی کے ساتھ نوکریاں کریں گے کیونکہ کام تو ان کے مطابق صرف خواتین کی ذمہ داری ہے۔

