وزیرستان میں تعلیم کے لئے جدوجہد

جب میں نے مقامی ہفتہ وار اخبار زندہ ور کے لئے لکھنا شروع کیا تھا تو اس وقت وزیرستان کے حالات ایسے تھے کہ گھر سے نکلتے ہوئے یوں محسوس ہوتا جیسے ہر راستے پر کوئی مارنے کے لئے تیار بیٹھا ہو اور یہ وہ وقت تھا کہ کہ ہم بے حس ہو چکے تھے۔ ہمارے با اثر افراد خوف کے ایک ایسے حصار میں قید تھے کہ نکلنا محال تھا، قوم کی فلاح کے لئے کام تو دور کی بات ہے بولنا بھی مشکل تھا۔

بہت سے لوگ ان حالات کی نذر ہوئے۔ بہت سے نوجوان اپنی جوانی گنوا بیٹھے۔ روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی تھی انہی مشکلات میں وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن (واوا) کا نام بار بار زندہ ور کے صفحات پر آنکھوں کی مٹھاس کا باعث تھا۔ ویسے تو وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن کی بنیاد بہت پہلے ڈالی جاچکی تھی لیکن بنیادی کام انہی مشکلات بھرے دنوں میں شروع کیا گیا۔ یاسین احمدزئی جب وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے متعلق لکھتا تو ان کے ایک ایک لفظ سے قوم کی محبت جھلکتی اور کئی بار مجھے لگتا کہ موصوف کی تحریریں شاید ہمارے محسود قبیلے کے مفاد کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور میں جواباً کچھ نہ کچھ ضرور لکھتا لیکن وقت نے مجھے غلط ثابت کیا اور یاسین احمدزئی کو درست۔ وقت نے بتا دیا کہ جب کوئی قوم کی محبت سے سرشار ہو تو کوئی رکاوٹ ان کو کامیابی سے نہیں روک سکتا اور وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن میری ذاتی زندگی میں ایسی ہی کامیابی کی بہت بڑی مثال ہے۔

ان حالات میں واوا کے بے خوفی کے ساتھ کام کی وجہ سے جہاں ایک طرف خوف کے مارے لوگوں کی خوف میں کمی ہوئی وہیں دوسری طرف وزیرستان میں لوگوں کی سوچ تعلیم کی طرف مڑنے لگی اور آج اللہ کے فضل سے محسود ویلفیئر ایسوسی ایشن کے علاوہ شمالی وزیرستان میں ٹوچی اور نووا بھی وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قوم کی خدمت کو اپنا شعار بناچکے ہیں اور غریب بچوں کی تعلیم کے لئے تگ و دو میں مصروف ہیں۔ آج وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن کی طرف سے چودویں سالانہ ایوارڈز کے سلسلے میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا اور میری خوش قسمتی رہی کہ پچھلے دو سالوں کی طرح اس سال بھی پروگرام میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔

پروگرام میں وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن کی کارکردگی کا ذکر ہوا، ان کامیابیوں کے حساب کےلئے کئی صفحات درکار ہیں اور آپ وقتاً فوقتاً اس بارے میں سنتے رہیں گے لیکن جو چیز میرے لئے خوش گوار حیرت کا باعث ہے وہ یہ کہ واوا کے پاس ایک ایسا پروگرام ہے جس پر یہ لوگ عمل کریں گے کیونکہ واوا نے اپنے مقاصد بڑی جانفشانی سے حاصل کیے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو سعید وزیر صاحب کا یہ خواب سچ ثابت ہوگا کہ ایک دن وانا تمام پختون علاقوں میں تعلیم کے حوالے سے آگے ہوگا اور لوگ وانا کی مثالیں پیش کیا کریں گے۔

فاٹا میں وزیرستان واحد ایجنسی ہے جہاں ایسے غیر سرکاری تنظیمیں پوری طرح سرگرم ہوگئی ہے اور امید ہے کہ فاٹا کے باقی ایجنسیوں میں بھی ایسے لوگ سامنے آئیں گے جن کو اپنے قوم سے عشق ہوگا اور قوم سے عشق کیسے ہوتا ہے وہ یقینا آج کی تقریب میں ڈی آئی جی سعید وزیر کے ان آخری الفاظ میں محسوس کیا جا سکتا ہے جب ان کے پاس الفاظ ختم ہوئے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں سب کچھ کہہ گئے اور وہاں موجود سینکڑوں لوگوں پر سکوت طاری ہوگیا !

Comments - User is solely responsible for his/her words