اقبال کی وراثت پر دیسی دانشور سے بات چیت


چند روز قبل دیسی دانشور نے اقبال سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زندہ انسان اپنی صحبت، جب کہ مرا ہوا انسان اپنی وراثت سے پہچانا جاتا ہے۔ دیسی دانشور اپنے اسی کلیے کی روشنی میں آج اقبال کی وراثت پر بات کریں گے۔

سوال: اقبال پر آپ کے خیالات ہم سب کے توسط سے قارئین تک پہنچے تو کچھ دوستوں نے آپ کے خیالات سے اتفاق کیا اور کچھ ناراض ہوئے۔ اس دوران محترم رشاد بخاری نے ہم سب کے لئے ایک مضمون لکھا جس میں آپ کے خیالات سے جزوی اتفاق کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقبال ہوں یا پھر مودودی، ان کی انشا پردازی اور مقبولیت اپنی جگہ لیکن یہ دونوں حضرات اس وقت میں ’حسبِ حال‘ ( relevant) نہیں رہے۔ آپ اس سلسلے میں کیا کہیں گے؟

دیسی دانشور: میں بھی کچھ یہی کہنا چاہتا تھا تھا کہ یہ دونوں حضرات اور بجا طور پر کہا جائے تو ان کے افکار پرانے ہوچکے ہیں اور انہیں اس وقت بھی اتنی اہمیت دینا، جتنی اہمیت انہیں اس دور میں حاصل تھی جب کہ ان کے خیالات حسب حال تھے، پاکستان میں عوامی شعور کو اقوامِ عالم کے شعور سے ایک ڈیڑھ صدی پیچھے رکھنے کی سازش کے مترادف ہے۔

ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم مفکرین اور دانشوروں کے افکار کو ان کی شخصیت سے الگ کرکے نہیں دیکھتے۔ انہیں اسلاف قرار دے دیتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا احترام اس حد تک دلوں میں بھرلیتے ہیں کہ ان کے غلط تصورات کو بھی ان کی سانس لیتی تصویر سمجھ کر دل سے لگائے رکھتے ہیں اور یوں ان تصورات پر کی جانے والی تنقید کو ان کی ذات پر حملہ تصور کرلیتے ہیں۔ یہ روش کوئی علمی، عملی و فکری روش نہیں بلکہ شخصیت پرستی (personality-cult) ہے۔

یہ روش کوئی سائنسی روش بھی نہیں کیونکہ سائنس تو ان سائنس دانوں کو بھی اپنے دور کا سائنس دان مانتی ہے جو یہ کہتے تھے کہ روزانہ نیا سورج طلوع ہوتا ہے۔ ایسے لوگ بھی سائنس دان تھے مگر اپنے دور کے۔ اسی طرح یہ لوگ بھی علما و مفکرین تھے، لیکن اپنے دور کے۔ کوئی اس بات کو جھٹلاتے ہوئے کہ روز نیا سورج نکلتا ہے عہد عتیق کے سائنس دانوں پر ذاتی حملہ نہیں کررہا ہوتا، بالکل اسی طرح اقبال ہوں یا پھر مودودی، ان کے خیالات پر تنقید کو ان کی ذات پر حملہ نہ سمجھا جائے۔ اس کی وجہ ہماری بے جا شخصیت پرستی ہے کہ وقت نے جن تصورات کو غلط ثابت کردیا ہے۔ جن تصورات کو ماردیا ہے ہم نے اُن تصورات کی لاشیں آج بھی سنبھال کے رکھی ہوئی ہیں۔ ہم تصورات کو شخصیات سمجھتے ہیں۔ تصورات کے ان لاشوں سے بُو آرہی ہے اور یہ بُو ہمیں بیمار کررہی ہے۔ مار رہی ہے، لیکن ہم انہیں دفن ہی نہیں کررہے۔

سوال : اس وقت وطن ِ عزیز کا سب سے بڑا مسئلہ انتہا پسندی، دہشت گردی، فرقہ واریت، مذہبی بنیادوں پر جاری نسل کشی ہے۔ آپ اس صورتِ حال کا کس حد تک ذمہ دار اقبال کےان تصورات یا ان کی وراثت کو سمجھتے ہیں جنہیں آپ کے بقول دفن کردینا چاہیے؟

دیسی دانشور: ۔ اس پر میں کوئی بات نہیں کہوں گا بس ایک حوالہ دوں گا۔ پاکستان کا ایک مذہبی ماہنامہ الشریعہ مئی 2014 کے شمارے میں صفحہ نمبر 3 پر (ستائشی انداز میں ) یہ ثابت کرتا ہے کہ سب سے پہلے اقبال نے یہ مشورہ دیا تھا کہ توہینِ مذہب پر سزا مقرر کی جائے۔

ہم جانتے ہیں کہ اس وقت یہ سزا گلیوں میں دی جاتی ہے۔ اس قانون کی بھینٹ کئی زندگیاں چڑھ چکی ہیں اور جو غیر مسلموں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے سر پر اُس تلوار کی طرح لہرارہا ہے جس کا دستہ اس وقت قانون کے نہیں بھیڑ (mob) کے ہاتھ میں ہے۔ رسالہ بھی کہتا ہے کہ ایک اقلیتی فرقے کو کافر قرار دینے کی سفارش بھی اقبال نے کی تھی۔

تکفیر کے گھناونے کھیل کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہرطرف کافر کافر کی صدا ہے۔ لوگ اس سوال پر غور نہیں کرتے کہ مسلمان ہونے کا کیا مطلب ہے۔ وہ صرف یہ جاننے میں دل چسپی رکھتے ہیں کہ کون کافر ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ جب ہم مسلمان کے متفقہ علیہ معانی پیش کرنے سے قاصر ہیں تو پھر ہمیں یہ کیسے پتا چل جاتا ہے کہ فلاں کافر ہے۔ اگر ہم مسلمان کو دن اور کافر کو رات سمجھ لیں تو جسے دن کا پتا نہیں اُسے رات کی خبر کیسے ہوجاتی ہے؟ لیکن ہم نے اپنے دائرے کھینچ رکھے ہیں اور تکفیر نے دائرہ اسلام کو اس حد تک تنگ کردیا ہے کہ اس میں خود دائرہ کھینچنے والا بھی بمشکل کھڑا رہ سکتا ہے۔

صرف یہی نہیں، رسالہ مزید لکھتا ہے کہ اقبال نے سپین کے دورے سے واپسی پر کہا تھا کہ دینی مدارس جس طرح کام کررہے ہیں انہیں کرنے دو۔ اگر یہ اس طرح کام نہ کرتے تو ہمارا حشر بھی بالکل ویسا ہوتا ہے جیسا سپین پر مسیحیوں کے قبضے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ ہوا تھا۔

ہمیں اقبال کے اشعار میں ’پیہم روانی‘ دکھائی دیتی ہے تو دینی تعلیم کے سلسلے میں وہ جمود اور تعطل کا درس دیتے رہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کے کئی لاکھ بچے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ان مدارس میں دی جانے والی تعلیم ہرگز عصر حاضر کے علمی، فکری اور تحقیقی تقاضے پورے نہیں کرتی۔ اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو مختلف مسالک اپنی سیاسی طاقت کے اظہار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

ابھی چند روز قبل آپ نے یہ منظر دیکھا کہ فیض آباد دھرنے کے خلاف آپریشن کے ردِ عمل کے طور پر مدارس سے ڈنڈا بردار بچے پورے ملک میں ٹڈی دل کی مانند نکلے اور ملکی املاک کو نقصان پہنچاتے رہے۔ ان بچوں کا کیا مستقبل ہے؟ ان کو دی جانے والی تعلیم کس حد تک عصر حاضر کے تعلیمی و تربیتی تقاضوں پر پوری اترتی ہے؟ یہ بچے انسان ہیں، ہمارے آپ کے بچوں کی طرح ہیں اور بے پناہ صلاحتیں رکھتے ہیں، لیکن ان صلاحیتوں کا رُخ کس طرف ہے؟ اس سے ہم سب کا قاری اچھی طرح واقف ہے۔

اب مدارس چلانے والوں سے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا کہا جائے، ان بچوں پر رحم کرنے کا کہا جائے۔ ان اداروں میں سماجی علوم، استقرائی و ریاضیاتی منطق پڑھانے کا کہا جائے تو منتظمین یہ جواب دیتے ہیں کہ اقبال نے کہہ دیا تھا کہ ’ دینی مدارس جس طرح کام کررہے ہیں انہیں کرنے دو‘۔ آپ اقبال سے زیادہ عقل مند ہیں جو ہمیں مدارس کو جدت سے ہم کنار کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ یہ کچھ ایسے تصورات ہیں جو اس وقت ہمیں آگے نہیں بڑھنے دے رہے۔

سوال : عمران خان اپنی تقریروں میں کہتے ہیں کہ وہ اقبال کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں اور یہی نیا پاکستان ہوگا۔ آپ ان کی اس بات کچھ کہنا چاہیں گے؟

دیسی دانشور: عمران خان ہنوز سیاست اور سماجی حرکیات کے میدان کے طفل مکتب ہیں۔ ان کی بات کیا کریں یہاں تو ہمارے دانشوروں کو اقبال سے یہ خوش گمانی بھی لاحق ہے کہ آپ ایک فلسفی تھے۔ تاہم یہ ان کا خیال ہے جو کسی وجہ سے فلسفے کا باقاعدہ مطالعہ نہیں کرسکے۔ اقبال کسی طور بھی فلسفی نہیں تھے اور اگر کسی نہ کسی طرح اقبال کو نطشے کے سپرمین کو کلمہ پڑھانے، ان کے self assertion کے چربے کو فلسفۂ خودی بنانے اور برگسان کے وفورِ حیات (élan vital) کی ناقابلِ اعتبار نقل تیار کرنے کے اعتراف میں فلسفی قرار دے بھی دیا جائے تو انہیں (بمشکل) مقامی ہربرٹ سپنسر قرار دیا جاسکتا ہے، جس کا مغربی فلسفے تاریخ میں ایک ہی کام رہا ہے: رنگ برنگی ٹوپیاں پہن کر لوگوں میں فکری الجھاؤ پیدا کرنا۔

ڈاکٹر میری شمل بھی اقبالیاتی الجھنوں سے واقف ہیں۔ وہ اقبال کے 73 ویں یومِ وفات پر دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہتی ہیں کہ اقبال کے کئی روپ ہیں اور ایک مردہ شاعر پر کوئی بھی رنگ چڑھایا جاسکتا ہے۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ اقبال پر جو رنگ چڑھا ہے اور پھر سر چڑھ کر بولا ہے یہ وہی ہے جو جماعتِ اسلامی نے چڑھایا ہے۔ وہی رنگ جو شہادت کی اسناد، جماعت کی تقریروں، جوشیلے نعروں اور فرقہ ورانہ جلسوں کے اشتہاروں میں دکھائی دیتا ہے۔ سرتن سے جدا کے نعروں سے لے کر قرونِ وسطی کی فکر عام کرنے والے اداروں، رُوحِ عصر سے متصادم تعلیم دینے والے مدارس، پلٹ پلٹ کر جھپٹنے والے بھیڑیوں سے لے کر پہاڑوں کی چٹانوں میں چھپ کر فاختاؤں پر وار کرنے والے سارے شکاری پرندے اقبالی تخیل کی پیداوار ہیں۔

ایسے میں جس کو اصل اقبال تلاش کرنے، اُسے ملائے مکتب یا پھر حسن نثار کے چنگل سے آزاد کرانے کا جنون ہے تو وہ سن لے کہ اقبال کی تشریح اور چہرہ سازی کے جملہ حقوق بحق انتہا پسندان محفوظ ہیں۔ اب کسی میں دم ہے تو یہ حقوق چھین کر دکھائے۔ دونوں اصطلاحات کا مادہ ایک ہی ہے لیکن نکالنے والوں نے اقبال سے اجتہاد نہیں جہاد نکالا ہے اور وہ بھی باطنی، فکری یا قلمی نہیں شمشیری و تکفیری۔ عمران خان کہتے ہیں کہ وہ اقبال کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ عمران خان نے اقبال کو پڑھا ہے۔ اس لئے وہ نہیں جانتے کہ اقبال کا پاکستان ہی مسئلہ ہے، مسئلے کا حل ہرگز نہیں۔ موجودہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ یہ بلھے شاہ ؒ، سلطان باہوؒ، سچل سرمستؒ، خواجہ فرید ؒاور رحمان باباؒ کا نہیں بلکہ اقبال کا پاکستان ہے۔

سوال : آپ مقامی صوفی شعرأ کو اقبال پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

دیسی دانشور: میں صوفی شعرا کو عارف کہتا ہوں اور اقبال کو شاعر۔ ایک عارف بھی شاعر ہوتا ہے لیکن ہر شاعر عارف نہیں ہوتا۔ شاعر اپنے الفاظ سے چھوٹا مگر عارف اپنے الفاظ اور کلام سے بڑا ہوتا ہے۔ شاعر کلام سجا کر لکھتا ہے اور عارف ترنم جی کردکھاتا ہے۔ اس کی زندگی، سانس سانس کسی کومل دُھن جیسی ہوتی ہے۔ اس لئے اس سے زندگی ملتی ہے۔

جب ہم اقبال کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو ان کے کلام سے چھوٹی دکھائی دیتی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنی کتاب اپنا گریباں چاک میں اقبال کی زندگی کے واقعات لکھے تو اقبال پرست، جو اقبال کو ایک بت بنا چکے ہیں، ناراض ہوئے۔ کیونکہ یہ زندگی تو ان کے کلام سے چھوٹی تھی۔ اُن کے اس بت سے چھوٹی تھی جو لوگوں نے اپنے اندر بنا رکھے تھے۔ اس کے برعکس عارف کی زندگی اس کے کلام سے بڑی ہوتی ہے۔ وہ اپنے کلام سے چھوٹا نہیں ہوتا۔

پاکستان کے تناظر میں صوفی شعرا کا کلام عام کرنے اور اس کی معاصر فلسفے کی روشنی میں شرح تعلیمی اداروں میں پڑھانے سے لوگوں میں حوصلہ پیدا ہوگا کہ مقامی زبانوں میں موجود فکر دنیا کے اہم افکار میں شمار ہوتی ہے۔ کسی شاعر کو قومی شاعر قرار دینا کسی ادارے کا کام نہیں لوگوں کا کام ہے اور پاکستان کی ہر زبان کا ’قومی‘ شاعر کوئی صوفی عارف ہے۔ یہ اجتماعی لاشعور اور ہمارے جمالیاتی ذوق کا فیصلہ ہے کوئی سرکاری فیصلہ نہیں۔ مطلب یہ ہے ایسے لطیف اور جمالیاتی فیصلے آتشیں اسلحے کے زور پر نہیں ہوتے۔ یہ فیصلے شعورِ خلق اور رُوح زمانہ کرتی ہے۔

Facebook Comments HS