سر چھپا کے جیو، سر بچا کے جیو
اسلام آباد میں کوئی اکیس سال کی مشقت کے بعد، میں سنہ 2014 میں اپنا اک چار مرلہ کا گھر خریدنے کے قابل ہوا۔ گھر کی خریداری کی ادائیگی، اک حاجی صاحب ٹھیکیدار کو جنوری میں کر دی، اور گھر میں داخل ہونے کی تاریخ، 18 مارچ مقرر کر دی۔ پیسے وصولی کے بعد، حاجی صاحب نے وہی کہ، جو کہ ہمارے معاشرے میں اکثریتی حاجی صاحبان کا وطیرہ ہے، تو میں اور میرا خاندان، اکیس سال کی کرایہ داری کی مشقتوں کے بعد اپنے ہی گھر میں زبردستی گھسنے پر مجبور ہوئے۔ نئے گھر کے بہت سے چونچلوں میں سے اک ”میچنگ اور کنٹراسٹ“ کے پردے بھی تھے جن کے بارے میں مجھے نہ تو کوئی دلچسپی تھی، اور نہ ہی کوئی مہارت۔ گھریلو امور میں میں اتنا ہی ماہر ہوں، جتنا اک پرائمری پڑھنے والا، مریخ کے معاملات میں ہو سکتا ہے۔
کل ملا کر پانچ پردوں کا آرڈر تھا۔ جب وہ تیار ہو کر آئے، تو ان میں سے بھی تین خراب نکلے۔ لانے والے کو جب اپنے اعتراض سے آگاہ کیا تو آواز میں کچھ غصہ بھی تھا کہ خریدنے کے پراسس کو، میرے خیال میں، خریدار کو خوشی دینی چاہیے، ہمارے ہاں، مسلمان کاروباری اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ آپ کے نفس کی مسلسل تربیت ہو تاکہ بعد از حیات کے معاملات میں آسانی رہے۔ خدا شاہد کہ بہت تھوڑی سی ہی بحث کی تھی کہ پردہ لگانے والے باریش صاحب اک دم سے اپنی سوزوکی پک اپ کی جانب گئے، اور گلوز کمپارٹمنٹ سے میرے لیے کچھ لے کر آئے۔ میں نے سوچا کہ رسید ہوگی جس سے وہ یہ ثابت کریں گے کہ: بٹ صاحب، دماغ آپ کا خراب ہے، میرا نہیں۔ رسید کی جگہ انہوں نے میرے سامنے سپاہ صحابہ پاکستان کا اک کارڈ لہرایا اور کہا کہ وہ راولپنڈی کی اک کالونی، جوکہ پشاور روڈ سے متصل ہے، کہ نائب امیر ہیں۔ پہلے جھٹکے میں تو میں پردوں کی خرابی اور سپاہ صحابہ پاکستان کا کوئی تعلق سمجھ نہ پایا، مگر دوسرے جھٹکے میں ہی، جو کوئی دو سیکنڈ کے بعد کا ہی تھا، فوری سمجھ آ گیا۔
کچھ غصے میں تھا، تو میں نے کہا کہ جناب امیر صاحب، آپ اگر اتنے ہی ساہوکار تھے تو یہ پردے کیوں لگاتے پھر رہے ہیں؟ کیا مجھے آپ کے مالک سے بات کرنی چاہیے؟ موصوف نے اک زہربھری نظر مجھے عنایت کی، اور کہا کہ جو کرنا ہے کر لو۔ میں نے ان کے مالک سے بات کی، اور کہا کہ میری طرف ابھی کوئی دس ہزار کی رقم بقایا ہے، آپ یا تو پردے درست کریں گے، یا پھر میں یہ دس ہزار روپے نہیں دوں گا۔ بات طے ہوگئی، سپاہ صحابہ پاکستان کے جانباز صاحب نے پک اپ واپس موڑی اور چل دیے۔ میرے پردے بعد میں فکس ہو کر آگئے، مگر ان کو لگانے کے لیے وہی صاحب دوبارہ نہ آئے۔
بعد کا اک خیال یہ آیا کہ اگر یہ 1990 کی دہائی کا عرصہ ہوتا، تو شاید صحابہؑ کی محبت میں پردوں کی مشقت بچاتے ہوئے، تھوڑی بہت مالش خدائی خدمت کے طور پر میری ہی کر دی جاتی۔ چالیس کے پیٹے میں میری عمر کے ”نوجوان“ یہ جانتے ہیں کہ جیسے جماعت الدعوہ والے، چوبرجی میں اپنی اک عدالت بنائے بیٹھے رہے، اور اک لمبا عرصہ بیٹھے رہے، اور شاید اب بھی ہیں تو ویسے ہی سپاہ صحابہ کے یار بہت سارے سماجی و قانونی معاملات میں ہمارے معاشرے کے حرف آخر ہی رہے، اور سچ کہا جائے کہ ابھی بھی بہت سے علاقوں میں ہیں۔ میرے اک سابقہ جاننے والے عزیز کو بہاولپور میں سے اپنی اک پھنسی ہوئی رقم، وہاں کے اک مذہبی رہنما کی فون کال پر ہی ملی۔ ان رہنما نے اصل زر کا کوئی بیس فیصد بطور ہدیہ بھی وصول کیا۔
پرسوں سے اسلام آباد میں بہت ساری پبلک ٹرانسپورٹ پر تحریک لبیک یا رسول اللہﷺ کے عظیم پرچم دیکھنے کو مسلسل مل رہے ہیں۔ پرچم لگانا ان کا حق ہے۔ سوال اس پرچم کے پیچھے اس نفسیات کا ہے جو دائروں کے عین اسی سفر کا آغاز محسوس ہو رہی ہے جو 1985 میں غازی شہید جنرل ضیاءالحق اور ان کے دستِ راست، جنرل فضلِ حق نے پاکستان میں دیوبندی یاروں کی محبت میں شروع کیا تھا، جو بزعمِ خود، پاکستان میں مسلسل برآمد کیے جانے والے ایرانی شیعہ انقلاب کے جواب میں تھی، جو اپنی ذات کی انجمن میں پاکستان کی سعودی عرب سے بڑھتی ہوئی قربت کے جواب میں تھا۔
غالب چاچو کہہ گئے تھے کہ ”بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!“ مگر مجھے کہنا یہ ہے کہ چونکہ میرے وطن کے اصل ابو جانوں کی دانش بے مثال ہے تو میں ان کی دانش پر آمنا وصدقنا کہتے ہوئے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتا ہوں، اور امید کرتا ہوں کہ 1985 سے جاری، شیعہ۔ دیوبند ڈسکو ڈانس کے بعد، اب 2017۔ 2037 کے درمیان، دیوبند۔ بریلوی ہِپ ہاپ بھی خوب رہے گا۔
اسی عرصہ میں پڑھنے والوں کو اک مفت مشورہ ہے: سرچُھپا کے جیو، سر بچا کے جیو!

