بھٹو صاحب، پیپلز پارٹی اور نصف صدی کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیپلز پارٹی پچاس سال کی ہو گئی۔ اس پارٹی کی بنیاد تو جون 1966 میں اسی وقت پڑ گئی تھی جب ایوب کابینہ سے نکلنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو راولنپڈی سے ٹرین کے ذریعے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچے تھے، لوگوں نے جس محبت سے ان کو خوش آمدید کہا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ یہ پاکستانی سیاست میں نئے دور کی بشارت تھی۔ پاکستان ٹائمز کے سابق ایڈیٹر مولوی محمد سعید نے اپنی خود نوشت ’’ آہنگ بازگشت ‘‘ میں بھٹو کے لاہور میں سواگت کا نقشہ کھینچا ہے اور بتایا ہے کہ اس اہم واقعہ کی خبر کو کس طرح سے دبا دیا گیا۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ بھٹو صاحب استعفیٰ دے کر لاہور پہنچے تو لاہور والوں نے خود انہیں بھی دنگ کر دیا اور اُن کی پذیرائی میں کچھ اس قدر از خود رفتہ ہو گئے کہ جناب بھٹو کو بھی اعتبار نہیں آ رہا تھا۔ حتیٰ کہ جس رومال سے انھوں نے معانقوں کا پسینہ اور خوشی کے آنسو پونچھے وہ بھی عقیدت مندانِ لاہور کے درمیان تبرک کی طرح بٹ گیا۔

ریلوے اسٹیشن پر لاکھوں کا ہجوم اربابِ بندوبست کے لئے سوہانِ روح تو تھا ہی، ہماری بھی اختر شماری کا سبب بنا۔ مسئلہ یہ تھا کہ یہ خبر کِس طرح چھاپی جائے۔ پنڈی لاہور کے درمیان ٹیلی فونوں کا تانتا بندھ گیا۔ لفظوں کو ماہرینِ لغت کے ترازوؤں میں تولا جانے لگا۔ یہ تو طے تھا کہ خبر کو اس کی اہمیت کے مطابق جگہ نہیں دی جائے گی۔ تاہم وہ ایسی بھی نہیں تھی کہ جس سے چشم پوشی کی جا سکے۔ چنانچہ خبر کا مسودہ بنتا اور پھر بدلا جاتا۔ بالآخر جب زبان میں یارا نہ رہا اور دل میں حوصلہ نہ رہا تو صرف دو جملوں کی یہ خبر چھاپ دی گئی کہ مسٹر بھٹو نے نواب کالا باغ کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔ ہماری مخصوص صحافی دنیا میں لے دے کر دو خبریں بڑی اہم گردانی گئیں، پہلے الطاف گوہر کا کھانا اورپھر کالا باغ کا کھانا۔ حالانکہ قوم ایک خوفناک کروٹ لے چکی تھی۔‘‘

اب بڑھتے ہیں ایک اور نامور صحافی خالد حسن کی لکھت کی طرف جس میں اس دن کا احوال قلمبند کیا ، جسے گزرے آج ٹھیک پچاس برس ہوگئے۔ ان کی سٹوری کا عنوان تھا:

بے روزگار وکیلوں ، ناکام کمیونسٹوں اور کالجوں سے نکالے ہوئے طالب علموں کا کنونشن۔

یہ کنونشن ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں ہوا تھا جس کی وجہ سے صحن کے سارے پودے اور پھول برباد ہوگئے اور اس پر صاحب خانہ کی اہلیہ خاصی ناراض ہوئیں۔ خالد حسن جو اس وقت وہاں موجود تھے، بتاتے ہیں کہ اس دن جو نوجوان سب سے زیادہ سرگرم نظر آرہا تھا، وہ احمد رضا قصوری تھا ، بارہ برس بعد جس کے والد کو قتل کرانے کے الزام میں بھٹو کا عدالتی قتل ہوا۔

ممتاز صحافی عباس اطہر نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ جیل کی کوٹھری میں یا تختہ دار پر کھڑے ہوکر بھٹو نے سوچا ضرور ہوگا کہ وہ کس قدر چھوٹے آدمی کے ہاتھوں مارے گئے۔ ضیا کو بھٹو کا دشمن کہا جاتا ہے۔ اس دشمنی کا انتخاب خود ضیا نے کیا تھا، وگرنہ بھٹو تو شجاعان عرب کے اس عمل کی پیروی کرتے، جس میں وہ میدان میں اتر کرحریف کا حسب نسب پوچھتے ، اور جب انھیں اطمینان ہوجاتا کہ وہ اس کے رتبہ کے برابر یا سوا ہے تو پھر لڑائی لڑتے۔سلیم احمد کا شعر یاد آتا ہے:

تم تو دشمن بھی نہیں ہو کہ ضروری ہے سلیم

میرے دشمن کے لیے میرے برابر ہونا

بھٹو نے کہا تھا کہ میرے مرنے پر ہمالیہ روئے گا، جس پر ان کے مخالفین ٹھٹھا اڑاتے ہیں، ان عاقلوں کو کون سمجھائے کہ انھوں نے ہمالیہ کا استعارہ برتا تھا، جس سے مراد یہ تھی کہ عوام ان سے محبت کرتے رہیں گے اور پھر دنیا نے اس کا نظارہ اس وقت کیا جب 1986 میں بینظیر لاہور آئیں تو لوگوں نے دیدہ ودل فرش راہ کر دیا۔ ضیا کے مرنے کے چند ماہ بعد تمام تر دھاندلی کے باوجود وہ وزیر اعظم بن گئیں، خیر سے اس دھاندلی کا حصہ وہ صالحین بھی تھے جنھوں نے بھٹو کے خلاف دھاندلی کے الزامات پر تحریک چلائی تھی۔ یہ وہ دھاندلی ہے جس کا اعتراف بعد ازاں جنرل (ر) حمید گل نے سینہ پھلا کر برسرعام کیا۔

ذوالفقار علی بھٹو میں شخصی خامیاں ہوں گی لیکن ان میں خوبیاں بھی بہت تھیں۔ ان کی حکومت نے غلط کام کئے تو اچھے کام بھی بہتیرے کئے، جس میں سب سے اہم تو آئین ہے، جو ملکی سلامتی کا ضامن ہے۔ دو برس ہوئے لاہور لٹریچر فیسٹول میں نامور دانش ور خالد احمد نے ممتاز تاریخ دان عائشہ جلال سے پوچھا کہ ان کی نظر میں سب سے بہتر پاکستانی حکمران کون سا ہے تو انھوں نے ترنت جواب دیا ، بھٹو!

یہ رائے تو ایک معتبر تاریخ دان کی ہے ، اب ایک ممتاز ادیب کی رائے بھی جان لیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھٹو نے ہمارے معاشرے میں کتنی بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھی۔ احمد ندیم قاسمی نے نامور صحافی اصغر عبداللہ سے ایک انٹرویو میں کہا تھا:

’’ بھٹو نے گرے ہوئے طبقے کو حیرت انگیز شعور دیا ۔ میں دیہات کے اشرافیہ طبقہ سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرے آباؤ اجداد دولت کے بل پر تو نہیں البتہ روایت کی وجہ سے بڑے بااثر لوگ تھے۔ میں گاؤں کے اسٹیشن پر اترتا تو کئی کمی میرا سوٹ اٹھانے کے لیے لپکتے لیکن اب کبھی ایسا نہیں ہوا۔ پھر چوپال میں ہم پلنگ پر بیٹھتے اور وہ زمین پر، مگر اب وہ ہمارے ساتھ پلنگ پر بیٹھتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس شخص کا کنٹری بیوشن ہے، جسے ہم ذوالفقار علی بھٹو کہتے ہیں۔ان کے ہزار گناہ سہی لیکن میں ان کے سب گناہ معاف کر دیتا ہوں جب دیکھتا ہوں کہ اس نے غریبوں کو احساس دلایا کہ تم بھی انسان ہو اور دولت مند اور بااختیار طبقے سے کمتر نہیں۔ ‘‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •