مسجد سے جوتے چوری ہونا جمہوریت کی ناکامی ہے


اردو کے کسی استاد کا یہ شعر ہم سب نے پڑھ رکھا ہے:

اپنے جوتوں سے رہیں سارے نمازی ہوشیار

اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت

سوال یہ ہے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود یہ خضر صورت بزرگ گرفتار کیوں نہیں ہو سکا؟ کیا مسجد سے جوتوں کی چوری کی یہ واردات یہود و نصاریٰ کی سازش تو نہیں؟ مقصد یہی ہو گا کہ نمازی مسجدوں کا رخ کرنا ترک کر دیں۔ الحمدللہ مسجدیں بدستور نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں۔ جوتوں کی چوری جاری ہے۔ ہر مسجد کے دروازے پر سیکورٹی گارڈ کھڑے ہیں۔ کیا مسجد سے جوتے چوری ہونا سیکورٹی کی ناکامی نہیں ہے؟ کیا کرپٹ سیاست دان اس نااہلی کی سزا پا سکیں گے؟ کیا اسی کا نام جمہوریت ہے کہ اسلامی ملک میں مسجدوں کے دروازے پر رکھے جوتے محفوظ نہ ہوں۔ آخر ادارے اس صورت حال کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ درجنوں دفاعی تجزیہ کار جم کر ٹیلی ویژن کی اسکرین پر بیٹھے ہیں۔ کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ اس قومی بحران کی نشاندہی کرے۔

یہی سبب ہے اس دفعہ ان لڑکیوں کا گروپ اکھٹا ہوا تو ان کا خیال تھا کہ اس موضوع پر تحقیق کرنی چاہیے ۔ یہ لوگ سائنس کی اسٹوڈنٹ تو تھی نہیں کہ تحقیق کرکے کچھ ایجاد کریں یہ ان کے بس کی بات نہیں تھی ۔ لہٰذا انہوں نے یہ طے کیا کہ کوئی معاشرتی مسئلہ لے کے تحقیق کرنی چاہیے۔ کئی گھنٹوں کے بحث و مباحثے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس بارے میں تحقیق کی جائے کہ آخر مسجد کے دروازے سے جوتے کیوں چوری ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اسباب ڈھونڈنے تھے اور پھر حل نکالنا تھا۔

کافی دیر سوچنے کے بعد یہ سوچاگیا کہ اس کے لیئے کون سی نمونہ سازی اختیار کی جائے یعنی رینڈم نمونہ سازی یا ڈبل نمونہ سازی اور کون سا طریقہ بہتر رہے گا۔ یعنی سوالنامے والا ، انٹریو والا …. یا پھر پرانے دستاویز اور کتابیں حاصل کرکے مواد جمع کریں ۔ کافی سوچ بچار کے بعد سبھی لڑکیاں سوالنامے والے طریقہ کار پر متفق ہوگئیں یہ سوال نامہ تیار کر کے متاثرہ نمازیوں سے پر کروانا تھا۔ سوال نامہ بنایا جانے لگا پھر اس طرح ترتیب دیا گیا

٭ متاثر نمازی کا نام، باپ کا نام ، تعلیم، پیشہ ،

باپ کی تعلیم ، باپ کا پیشہ

شادی شدہ یا غیر شادی شدہ، باپ شادی شدہ تھا یا غیر شادی شدہ

جوتے کا رنگ ، جوتے کا سائز ، جوتا کس کمپنی کا تھا۔

ماں باپ میں سے کوئی بیمار تو نہیں ہوا، اگر بیمار ہوا تو کہاں ایڈمٹ ہوا، ڈاکٹر کا نام ، ڈاکٹر کے باپ کا نام ، کس ضلعے کے ڈومیسائل پہ ڈاکٹر بنا، ڈاکٹر فائنل میں کتنی بار فیل ہوا؟

جوتا پہننے سے زخم تو نہیں آئے تھے؟

جوتا چوری ہونے کے بعد کیسا محسوس ہوتا ہے؟

جوتا نیا تھا یا پرانا ، اگر پرانا تو کس موچی سے سلائی کروائی؟ موچی کا نام ، موچی کے باپ کا نام ، موچی کی تعلیم،

موچی کے اباﺅ اجداد دراوڑی نسل کے تھے یا افغانستان سے آئے تھے؟

موچی شادی شدہ یا غیر شادی شدہ تھا؟

موچی کے بچے سرکاری یا پرائیوٹ اسکول میں پڑھتے تھے۔

اتنی محنت سے تیار کیا جانے والا سوالنامہ کمپیوٹرائز کروانے کیلئے لڑکیوں نے آپس میں چندہ کیا۔ کافی سوچ بچار کے بعد سوالنامہ متاثرین سے بھروانے کیلئے جمعہ کا دن منتخب کیا گیا کہ اسی دن ہی مسجد میں نمازیوں کی مناسب تعداد جمع ہوتی ہے اور واردات کے بعد سخت دھوپ میں کبھی بغیر جوتے کے ہی گھر پہنچتی ہے۔

لڑکیوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ وہ مسجد میں لپ اسٹک لگا کے نہیں جائیں گی مبادا انہیں مسیحی نہ سمجھ لیا جائے۔ شروعات قریبی مسجد سے کی جائے گی ۔ خدا خدا کرکے جمعہ کا مبارک دن بھی آن پہنچا جو اس دفعہ لگتا تھا کہ کچھ دیر سے آیا ہے۔ لڑکیاں بہت ہی خوش اور پر جوش تھیں۔

صبح جلدی اٹھیں تھیں پر جانا تو نماز کے وقت ہی تھا نا ، سو جب اذان ہونے کے بعد وہ مسجد پہنچے تو دیکھا کچھ نمازی پہلے ہی آ کر پنکھے کے نیچے والی جگہ پر قبضہ کرچکے تھے پھر جلد ہی ساری مسجد بھرگئی ۔ کچھ لوگ تو لڑکیوں کو حیرت سے تو کچھ مسکراکے دیکھ رہے تھے۔ لڑکیوں نے متاثرین میں سوالنامے والے پیپر بانٹنا شروع کیئے یہ دیکھ کے تو بہت ہی خوش ہورہی تھیں کہ حسب خلاف نمازیوں نے جلد ہی سوالنامے کے پیپر بھر کے واپس کیئے تھے وہ مطمئن ہوگئیں یعنی آج کے دن میں ایک اور مسجد بھی کور ہوسکتی تھی ۔۔۔ آخر دوسو فارم بھرنے تھے وہ سب باتیں کرتی ہنستی مسکراتی دروازے تک پہنچیں تو ان پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے …. دروازے سے ان سب کے سینڈل غائب ہوچکے تھے ۔

Facebook Comments HS